Tafseer-e-Mazhari - Saad : 34
وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ
وَلَقَدْ : اور البتہ فَتَنَّا : ہم نے آزمائش کی سُلَيْمٰنَ : سلیمان وَاَلْقَيْنَا : اور ہم نے ڈالا عَلٰي كُرْسِيِّهٖ : اس کے تخت پر جَسَدًا : ایک دھڑ ثُمَّ اَنَابَ : پھر اس نے رجوع کیا
اور ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور ان کے تخت پر ایک دھڑ ڈال دیا پھر انہوں نے (خدا کی طرف) رجوع کیا
ولقد فتنا سلیمن والقینا علی کرسیہ جسدا ثم اناب اور ہم نے (ایک اور طرح سے بھی) سلیمان کی جانچ کی اور اس کی کرسی پر ایک (ادھورا) دھڑ لا ڈالا ‘ پھر اس نے اللہ کی طرف رجوع کیا۔ فَتَنَّاہم نے جانچ کی ‘ امتحان میں مبتلا کیا۔ حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (ایک روز) حضرت سلیمان نے کہا کہ آج رات میں ننانوے عورتوں (اور ایک روایت میں ننانوے کی جگہ سو (100) کا لفظ آیا ہے) کا چکر لگاؤں گا (یعنی سب سے قربت کروں گا) جن میں سے ہر عورت کے بطن سے ایک شہسوار راہ خدا کا مجاہد پیدا ہوگا۔ فرشتے نے کہا : انشاء اللہ بھی کہو۔ لیکن حضرت سلیمان کو خیال نہیں رہا اور انہوں نے انشاء اللہ نہیں کیا ‘ چناچہ سب عورتوں کا آپ نے چکر لگایا اور سوائے ایک کے کوئی بھی حاملہ نہ ہوئی اور اس ایک کے بھی ادھورا دھڑ پیدا ہوا۔ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے ! اگر وہ انشاء اللہ کہہ دیتے تو سب سے شہوار اللہ کی راہ کے مجاہد پیدا ہوتے (متفق علیہ) ۔ دایہ نے وہ دھڑ لا کر حضرت سلیمان کی کرسی پر ڈال دیا۔ آیت مذکورہ کا یہی مطلب ہے۔ ثُمَّ اَنَاب یعنی آئندہ انشاء اللہ نہ کہنے سے انہوں نے رجوع کرلیا (اور عہد کرلیا کہ آئندہ ضرور انشاء اللہ کہا کروں گا) کذا قال طاؤس۔ ہم نے اوپر جو تفسیر کی وہ بہت زیادہ قوی ہے ‘ کیونکہ صحیحین کی حدث میں یہی آیا ہے۔ جَسَدًا اسی جسم کو کہتے ہیں جس کے اندر جان نہ ہو ‘ تفسیر مذکور کی بناء پر یہ مفہوم جسد بھی بلاشبہ صادق آ رہا ہے ‘ پھر انبیاء کی پاکدامنی بھی داغدار نہیں ہوتی۔ لیکن طبرانی نے اولاوسط میں اور ابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت سلیمان کا ایک بیٹا پیدا ہوا۔ جنات نے کہا : اگر یہ بیٹا زندہ رہے گا تو ہم اس جبری فرمانبرداری سے کبھی نجات نہیں پائیں گے۔ ہمارے لئے یہ ایک راستہ ہے کہ یا تو اس کو قتل کردیں یا اس کو پاگل بنا دیں۔ حضرت سلیمان کو جنات کی اس بات کی اطلاع مل گئی ‘ آپ نے جنات کے فریب کے ڈر سے بچہ کو لے جا کر بادل میں چھپا دیا ‘ پھر آپ کو بچہ کی کوئی خبر بھی اس وقت تک نہ ہوئی جب تک کہ کرسی پر اس کو مردہ حالت میں پڑا ہوا نہ پایا۔ یہ حضرت سلیمان کو ان کی لغزش پر تنبیہ تھی کہ انہوں نے رب پر بھروسہ نہیں کیا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ محمد بن اسحاق نے وہب بن منبہ کی روایت سے بیان کیا ‘ وہب نے کہا : حضرت سلیمان نے سنا کہ سمندر میں کوئی جزیرہ ہے جس کا نام صیدون ہے ‘ وہاں کا ایک بڑا بادشاہ ہے۔ جزیرہ کا محل وقوع چونکہ سمندر میں ہے ‘ اسلئے کوئی شخص صیدون تک نہیں پہنچتا (اور بادشاہ آزاد ہے ‘ کسی کا تابع نہیں) اللہ نے حضرت سلیمان کو وہ حکومت عطا کی تھی کہ ان کی حکومت سے بحر و بر میں کوئی چیز باہر نہیں تھی۔ آپ ہوا پر سوار ہو کر ہر جگہ پہنچ جاتے تھے ‘ یہ اطلاع ملنے کے بعد آپ ہوا پر سوار ہو کر اس شہر کی طرف روانہ ہوگئے اور جن و انس کے لشکر سمیت وہاں پہنچ کر اتر گئے ‘ بادشاہ کو قتل کیا اور جزیرہ میں جو کچھ تھا ‘ اس پر بطور مال غنیمت قبضہ کرلیا۔ من جملہ دیگر اشیاء کے آپ کو وہاں بادشاہ کی ایک لڑکی بھی ملی جس کو جرادہ کہا جاتا تھا ‘ ایسی حسین و جمیل لڑکی کسی نے نہیں دیکھی۔ آپ نے اپنے لئے اس کا انتخاب کرلیا۔ اول اس کو دعوت اسلام دی ‘ وہ ناگواری خاطر کے ساتھ مسلمان ہوگئی ‘ آپ نے اس سے نکاح کرلیا۔ آپ کو اس سے اتنی محبت ہوگئی کہ اور کسی بیوی سے نہیں تھی۔ وہ لڑکی حضرت سلیمان کے پاس اتنے مرتبہ پر پہنچنے کے بعد بھی ہمیشہ غمگین رہتی ‘ اس کا آنسو نہیں رکتا تھا۔ حضرت سلیمان کیلئے یہ بات تکلیف دہ تھی ‘ آپ نے اس سے فرمایا : اس کی کیا وجہ کہ تیرا غم دور نہیں ہوتا اور آنسو نہیں تھمتے ؟ کہنے لگی : مجھے اپنے باپ کی ‘ اس کی حکومت کی اور اس پر جو مصیبت پڑی ‘ اس کی یاد آتی ہے جو مجھے غمگین بنائے رکھتی ہے۔ حضرت سلیمان نے فرمایا : اس کے عوض تو اللہ نے تجھے وہ ملک عطا کردیا جو اس کے ملک سے بڑا ہے اور ایسی حکومت عنایت کردی جو اس کی حکومت سے عظیم ہے اور مسلمان ہوجانے کی تجھے توفیق دی جو سب سے بہتر (نعمت) ہے۔ وہ کہنے لگی : ہاں ! یہ تو سب کچھ ہے ‘ پھر بھی مجھے جب باپ کی یاد آتی ہے تو وہ غم چھا جاتا ہے ‘ جو آپ دیکھتے ہی ہیں۔ اگر آپ حکم دے کر جنات سے اس مکان کے اندر جس میں میں رہتی ہوں ‘ میرے باپ کی مورتی بنوا دیں اور میں صبح و شام اس کو دیکھتی رہوں تو امید ہے کہ میرا غم دور ہوجائے گا اور میرے دل کو کچھ تسلی ہوگی۔ حضرت سلیمان نے جنات کو حکم دیا کہ اس کے باپ کی ایک مورت اس کے گھر کے اندر بنا دو ‘ کوئی فرق نہ ہو ‘ جنات نے ایسی مورتی بنا دی۔ اس عورت نے دیکھ لیا کہ بعینہ یہ اس کا باپ ہے ‘ فقط اتنی بات ہے کہ اس میں جان نہیں ہے۔ پھر اس کو کرتہ پہنایا ‘ صافہ باندھا اور چادر اڑھا دی اور ویسے ہی کپڑے پہنا دئیے جو وہ (اپنی زندگی میں) پہنا کرتا تھا۔ حضرت سلیمان جب اس کے گھر سے باہر نکل جاتے تو وہ صبح و شام اپنی لونڈیوں اور باندیوں کو ساتھ لے کر مورتی کے پاس جاتی اور جیسا باپ کی زندگی میں اس کا دستور تھا ‘ اسی کے مطابق مورتی کو خود بھی سجدہ کرتی اور باندیاں بھی اس کے ساتھ سجدہ کرتیں۔ چالیس روز تک حضرت سلیمان کو اس کا کوئی علم نہ ہوا۔ آصف بن برخیا کو اس کی اطلاع مل گئی ‘ آپ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے گہرے دوست تھے ‘ حضرت سلیمان کے دروازے آپ کیلئے ہر وقت کھلے رہتے تھے ‘ جس وقت چاہتے ‘ حضرت سلیمان کے جس گھر میں چاہتے داخل ہوجاتے ‘ کوئی آپ کو لوٹا نہیں سکتا تھا ‘ حضرت سلیمان گھر میں موجود ہوں یا نہ ہوں۔ ایک روز حضرت سلیمان سے انہوں نے کہا : اے اللہ کے نبی ! میں بوڑھا ہوگیا ہوں ‘ ہڈیاں ضعیف ہوگئیں ‘ عمر ختم ہونے کے قریب آگئی ‘ جانے کا وقت آگیا۔ اب میں چاہتا ہوں کہ مرنے سے پہلے کسی ایک جگہ کھڑا ہو کر اللہ کے پیغمبروں کا تذکرہ کروں اور اپنی معلومات کے مطابق ان کے اوصاف بیان کروں اور انبیاء کے متعلق جو بعض باتیں لوگ نہیں جانتے ہیں ‘ ان کو بتاؤں۔ حضرت سلیمان نے فرمایا : (جیسا چاہو) کرو۔ حضرت سلیمان نے آصف کی تقریر سننے کیلئے لوگوں کو جمع کردیا ‘ آصف تقریر کرنے کھڑے ہوگئے۔ گذشتہ انبیاء کا ذکر کیا ‘ ہر نبی کے خصوصی اوصاف جو اس میں تھے ‘ بیان کئے اور جو فضیلت اللہ نے اس کو (خاص طور پر) دی تھی ‘ وہ ظاہر کی۔ تقریر کرتے کرتے حضرت سلیمان کے تذکرے پر آئے تو کہا : آپ بچپن میں بڑے عقلمند ‘ حلیم ‘ بڑے پرہیزگار اور بڑے پر حکمت حکم دینے والے تھے اور چھوٹی عمر میں ہر امر مکروہ سے بہت دور تھے۔ یہ کہہ کر تقریر ختم کردی۔ حضرت سلیمان نے فرمایا : آصف ! تم نے گذشتہ انبیاء کا تذکرہ کیا اور ہر عمر کے ان کے اچھے اوصاف بیان کئے ‘ لیکن جب میرا تذکرہ کیا تو چھوٹی عمر کے میرے اچھے اوصاف تم نے بیان کئے اور بڑے ہونے کے بعد جو میرے اوصاف تھے ‘ ان کی طرف سے خاموشی اختیار کرلی۔ آخر بڑا ہو کر میں نے کونسی نئی بات کرلی ؟ حقیقت میں حضرت سلیمان نے آصف کی تقریر کو برا محسوس کیا ‘ اتنا کہ غصہ سے بھر گئے اور گھر جا کر آصف کو بلوا کر یہ بات کہی ‘ آصف نے جواب دیا : ایک عورت کی محبت کی وجہ سے آپ کے گھر کے اندر چالیس روز سے صبح کو اللہ کے سوا دوسرے کی پوجا ہو رہی ہے۔ حضرت سلیمان نے کہا : کیا میرے گھر میں ؟ آصف نے کہا : (ہاں) آپ کے گھر میں۔ حضرت سلیمان نے کہا : اِنَّا لِلّٰہ وانَّا الیہ راجعون میں تو جانتا ہی تھا کہ تم نے جو کچھ کہا ‘ وہ بےوجہ نہیں کہا ‘ یقیناً تم کو کوئی اطلاع ملی ہے۔ پھر آپ اس عورت کے گھر میں گئے ‘ بت کو توڑا ‘ عورت کو سخت سزا دی اور اپنا لباس اتار کر دوسرے کپڑے پہنے جن کا سوت صرف دوشیزہ (نابالغ ‘ معصوم) لڑکیوں نے کاتا تھا اور دوشیزہ لڑکیوں نے ہی بنا تھا ‘ کسی بالغہ نے چھوا بھی نہ تھا۔ یہ لباس پہن کر تنہا جنگل کو نکل گئے ‘ وہاں چولھے کی راکھ کا بستر بچھوایا ‘ پھر توبہ کرنے کیلئے اس خاکی بستر پر بیٹھے اور کپڑوں سمیت اس پر لوٹے ‘ اللہ کے سامنے گڑگڑائے اور زاری کی ‘ دعا کرتے رہے ‘ روتے رہے اور جو کچھ گھر میں ہوا ‘ اس کی معافی مانگتے رہے۔ شام تک اسی میں مشغول رہے ‘ شام ہوگئی تو گھر واپس آگئے۔ آپ کی ایک ام ولد (وہ باندی جو بچہ کی ماں ہوگئی ‘ آقا کی کوئی اولاد اس کے پیٹ سے ہوگئی) تھی جس کو امینہ کہا جاتا تھا ‘ آپ جب بیت الخلاء جاتے یا کسی بی بی سے قربت صنفی کرنے کا ارادہ کرتے تو اپنی مہر امینہ کے پاس رکھ دیتے تھے اور جب تک ضرورت سے فراغت کے بعد بالکل پاک نہ ہوجاتے ‘ مہر کو ہاتھ بھی نہیں لگاتے تھے ‘ اسی مہر سے آپ کی حکومت وابستہ تھی۔ ایک روز امینہ کے پاس مہر رکھ کر بیت الخلاء کو چلے گئے ‘ آپ کے جانے کے بعد سمندری شیطان جس کا نام صخر تھا ‘ حضرت سلیمان کی شکل میں امینہ کے پاس آیا اور مہر طلب کی۔ امینہ نے اس شکل میں حضرت سلیمان کی شکل سے کوئی غیریت محسوس نہیں کی اور سلیمان سمجھ کر مہر دے دی۔ صخر نے وہ مہر اپنے ہاتھ میں پہن لی اور باہر جا کر حضرت سلیمان کے تخت پر بیٹھ گیا اور سارے پرندے ‘ جنات اور انسان اس کے پاس آکر (حسب معمول) جمع ہوگئے۔ حضرت سلیمان بیت الخلاء سے نکل کر امینہ کے پاس پہنچے اور کہا : امینہ ! میری انگوٹھی لاؤ۔ چونکہ ہر دیکھنے والے کو آپ کی حالت اور ہیئت بدلی ہوئی دکھائی دیتی ‘ اسلئے امینہ بھی نہ پہچان سکی اور بولی : تو کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : میں سلیمان بن داؤد ہوں۔ امینہ نے کہا : تو جھوٹا ہے۔ ابھی سلیمان میرے پاس آکر مہر لے کر گئے ہیں اور تخت حکومت پر اس وقت بیٹھے ہوئے ہیں۔ حضرت سلیمان سمجھ گئے کہ یہ گناہ کا وبال آپہنچا۔ آپ بنی اسرائیل کے گھروں پر جاتے اور خانہ بخانہ چکر لگاتے اور کہتے کہ میں سلیمان بن داؤد ہوں ‘ لیکن لوگ (دیوانہ سمجھ کر) آپ کے اوپر مٹی ڈالتے اور گالیاں دیتے اور کہتے : اس دیوانہ کو ذرا دیکھو ‘ کیا کہتا ہے ؟ اپنے کو سلیمان سمجھتا ہے۔ حضرت سلیمان نے یہ حالات دیکھے تو سمندر کی طرف چلے گئے اور دریا کے ٹھیکیداروں کی مچھلیاں اپنے اوپر لاد کر بازار تک پہنچاتے اور صاحب مال آپ کو روزانہ دو مچھلیاں مزدوری میں دے دیتا تھا۔ شام ہوتی تو آپ ایک مچھلی فروخت کر کے روٹیاں لے لیتے اور دوسری مچھلی بھون لیتے۔ چالیس روز اسی حالت میں رہے ‘ چالیس ہی دنوں تک آپ کے گھر کے اندر بت کی پوجا ہوئی تھی۔ آصف اور دوسرے علماء بنی اسرائیل نے دشمن خدا کے احکام کو اس چلہ میں پہلے کے مقابلہ میں کچھ بدلا ہوا محسوس کیا ‘ اسلئے آصف نے کہا : اے گروہ بنی اسرائیل ! کیا تم نے بھی ابن داؤد کے احکام کو کچھ پہلے کے مقابلے میں بدلا ہوا محسوس کیا جیسا میں محسوس کر رہا ہوں ؟ علماء نے کہا : جی ہاں۔ آصف نے کہا : تو اتنا توقف کرو کہ میں سلیمان کی بیویوں سے جا کر پوچھ لوں کہ کیا انہوں نے بھی اندرونی حالت میں کچھ تغیر محسوس کیا ہے ‘ جیسا کہ ہم بیرونی عام حالت میں محسوس کر رہے ہیں ؟ چناچہ آصف عورتوں کے پاس گئے اور کہا : کیا تم نے بھی ابن داؤد کے اندرونی حالات میں کچھ تغیر پایا ہے ‘ جیسا کہ ہم نے باہر محسوس کیا ہے ؟ عورتوں نے جواب دیا : اس سے بھی زیادہ ‘ وہ تو ہم میں سے کسی عورت کو خون کی حالت میں بھی نہیں چھوڑتا اور غسل جنابت بھی نہیں کرتا۔ آصف نے کہا : اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ 5 بلاشہ یہ کھلی ہوئی سخت آزمائشی مصیبت ہے۔ آصف نے واپس آکر بنی اسرائیل سے کہہ دیا کہ خاص احوال تو عام حالات سے بھی بڑھ چڑھ کر ہیں۔ چالیس روز گزر گئے تو شیطان مردود اپنی جگہ سے اٹھ کر دریا پر گیا اور دریا میں مہر پھینک دی ‘ جس کو ایک مچھلی نے نگل لیا اور کسی شکاری نے وہ مچھلی پکڑ لی۔ حضرت سلیمان نے دن کے ابتدائی حصہ میں (حسب معمول) اپنا کام کیا ‘ شام ہوئی تو شکاری نے آپ کو ایک (معمولی) مچھلی دے دی اور دوسری وہ مچھلی جس کے پیٹ میں مہر تھی ‘ دے دی۔ حضرت سلیمان دونوں مچھلیاں لے کر آگئے۔ معمولی مچھلی کے بدلے تو روٹیاں لے لیں اور جس مچھلی کے پیٹ میں مہر تھی ‘ اس کا بھوننے کیلئے پیٹ چاک کیا۔ پیٹ کے اندر سے مہر نکلی ‘ آپ نے مہر لے کر ہاتھ میں پہن لی ‘ اور سجدہ میں گرگئے۔ اس کے بعد پرندے اور جنات آپ کے پاس آکر جمع ہوگئے اور آدمی بھی آپ کی طرف متوجہ ہوگئے۔ حضرت سلیمان سمجھ گئے کہ یہ جو مصیبت ان پر آئی تھی ‘ یہ اسی بات کی پاداش میں تھی جو ان کے گھر کے اندر ہوئی تھی۔ غرض آپ کو حکومت واپس مل گئی اور آپ نے اپنے گناہ سے علی الاعلان توبہ کی اور جنات کو حکم دیا کہ صخر کو پکڑ کر لاؤ۔ شیاطین نے اس کو ڈھونڈ نکالا اور پکڑ کر حاضر کردیا۔ حضرت سلیمان نے پتھر کی ایک چٹان میں شگاف کر کے صخر کو اس میں بند کر کے اوپر سے ایک چٹان اور رکھ کر لوہے اور رانگ سے اس کی مضبوط بندش کردی ‘ پھر سمندر میں پھینک دینے کا حکم دے دیا۔ یہ سارا وہب کا بیان ہے۔ سدی کا بیان ہے کہ حضرت سلیمان کی سرگذشت کا سبب یہ تھا کہ آپ کی سو (100) بیبیاں تھیں ‘ ان میں سے ایک کا نام جرادہ تھا۔ جرادہ حضرت سلیمان کی نظر میں سب سے زیادہ چہیتی اور سب سے پکی امانتدار تھی۔ آپ جب ضرورت کو جاتے تو اسی کے پاس مہر رکھ دیا کرتے تھے۔ ایک دن جرادہ نے آپ سے کہا : میرے بھائی اور فلاں شخص کے درمیان کچھ جھگڑا ہے ‘ میں چاہتی ہوں کہ میرا بھائی جب آپ کے پاس آئے تو آپ اس کے حق کے حق میں ڈگری دے دیں۔ حضرت سلیمان نے کہا : اچھا (آپ نے وعدہ و کرلیا) لیکن کیا نہیں۔ اس قول پر ہی آپ مبتلاء آزمائش کر دئیے گئے۔ غرض ایک روز مہر جرادہ کو دے کر بیت الخلاء کو چلے گئے۔ آپ کے پیچھے شیطان (یعنی کوئی جن) آپ کی صورت بنا کر آیا اور جرادہ سے مہر لے گیا اور جا کر حضرت سلیمان کے تخت پر بیٹھ گیا۔ حضرت سلیمان جب بیت الخلاء سے آئے اور جرادہ سے مہر طلب کی تو اس نے کہا : کیا آپ نے ابھی لے نہیں لی تھی ؟ آپ نے کہا : نہیں۔ پھر آپ یہاں سے نکل کر کہیں اپنے مقام پر چلے گئے اور چالیس روز تک شیطان لوگوں پر حکومت کرتا رہا۔ لوگوں نے اس کے احکام کو (حضرت سلیمان کے احکام سے) بدلا ہوا محسوس کیا تو بنی اسرائیل کے علماء اور قراء آپ کی بیویوں کے پاس گئے ‘ اور ان سے کہا : ہم کو احکام سلیمانی سے اس کے احکام غیر نظر آتے ہیں ‘ اگر یہ سلیمان ہے تو یقیناً اس کی عقل جاتی رہی ہے۔ عورتیں رونے لگیں۔ علماء اور قراء چلے آئے اور آکر توریت کھول کر اس کی تلاوت میں مشغول ہوگئے۔ شیطان نے جو یہ دیکھا تو ان کے سامنے سے اڑ کر روشندان میں جا پڑا ‘ مہر اس کے پاس ہی رہی ‘ پھر وہاں سے اڑ کر سمندر کی طرف چلا گیا۔ مہر اس کے ہاتھ سے سمندر میں گرگئی ‘ جس کو ایک مچھلی نے نگل لیا۔ حضرت سلیمان بھی شکاریوں کے پاس پہنچ گئے اور تھے بہت سخت بھوکے ‘ اسلئے ایک شکاری سے اس کے شکار کی ایک مچھلی کھانے کیلئے مانگی اور کہا : میں سلیمان ہوں۔ یہ بات سن کر ایک شکاری نے اٹھ کر آپ کے لاٹھی ماری اور سر پھاڑ دیا۔ آپ سمندر کے کنارے بیٹھے خون دھونے لگے۔ دوسرے شکاریوں نے مارنے والے کو ملامت کی اور جو مچھلیاں پکڑی تھیں ‘ ان میں سے دو مچھلیاں آپ کو دے دیں۔ آپ نے دونوں کا پیٹ چاک کیا اور دھونے لگے۔ ایک مچھلی کے اندر سے آپ کو اپنی مہر مل گئی اور آپ نے اس کو پہن لیا۔ اس طرح اللہ نے آپ کو حکومت اور شان و شوکت واپس دے دی اور پرندے آپ کے گرد گھومنے لگے ‘ اس وقت ان لوگوں کو معلوم ہوا کہ سلیمان یہ ہیں ‘ اور لگے اپنی حرکت پر معذرت کرنے۔ آپ نے فرمایا : نہ میں تمہاری اس معذرت کی تعریف کرتا ہوں نہ تمہارے فعل پر تمہیں ملامت کرتا ہوں ‘ یہ تو ہونا ہی تھا۔ اس کے بعد آپ اپنی حکومت پر آگئے اور جس شیطان نے مہر اڑائی تھی ‘ اس کی گرفتاری کا حکم دیا۔ وہ گرفتار ہو کر آگیا تو آپ نے لوہے کے ایک صندوق کو بند کر کے صندوق کو مقفل کر کے اس پر اپنی مہر لگا کر سمندر میں پھینکوا دیا۔ آج تک وہ اسی حالت میں ہے اور زندہ بھی ہے۔ سعید بن مسیب سے مروی ہے کہ حضرت سلیمان تین روز تک لوگوں سے پردے میں رہے (کسی سے ملامقات کو نہیں آئے نہ سامنے آئے) اللہ نے وحی بھیجی اور فرمایا : تم تین روز لوگوں سے پردے میں رہے اور میرے بندوں کے معاملات پر نظر نہیں کی (اس لغزش پر) اللہ نے آپ کو آزمائش میں ڈال دیا۔ اس سے آگے سعید نے مہر کا قصہ اور شیطان کے اس پر قبضہ کرلینے کا ذکر کیا ہے۔ حسن نے کہا : اللہ ایسا نہ تھا کہ سلیمان کی بیبیوں پر شیطان کو مسلط کردیتا۔ انتہیٰ کلام البغوی عبد بن حمید اور نسائی اور ابن مردویہ نے وہب بن منبہ کے بیان کی طرح یہ قصہ بیان کیا اور روایت کی نسبت حضرت ابن عباس کی طرف کی ہے اور ابن جریر نے یہ قصہ بروایت سدی ‘ وہب بن منبہ کی طرح بیان کیا ہے ‘ مگر ان کے بعض طرق روایت میں آیا ہے کہ صخر جنّی حضرت سلیمان کے تخت پر بیٹھ گیا تو اللہ نے سوائے سلیمان کی ذات اور ان کی بیبیوں کے ‘ ہر چیز میں اس کے حکم کو نافذ کردیا۔ بغوی کی روایت میں حسن کا بھی یہی قول آیا ہے کہ اللہ ایسا نہ تھا کہ شیطان کو حضرت سلیمان کی بیبیوں پر مسلط کردیتا۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ مہر اور شیطان اور حضرت سلیمان کے گھر میں بت کی پوجا کا ذکر محض یہودیوں کی خرافات ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ بعض روایات میں آیا ہے : جب حضرت سلیمان فتنہ میں پڑگئے تو مہر ان کے ہاتھ سے نکل کر گرگئی۔ آپ نے دوبارہ ہاتھ میں ڈالی ‘ تب بھی نکل کر گرگئی اور چونکہ آپ کی حکومت انگوٹھی سے ہی وابستہ تھی ‘ اسلئے آپ کو مصیبت کا یقین ہوگیا۔ اتنے میں آصف آگئے اور حضرت سلیمان سے کہنے لگے : آپ اپنے قصور کی وجہ سے آزمائش میں پھنس گئے ‘ یہ مہر آپ کے ہاتھ میں 14 روز تک نہیں رکے گی۔ حضرت سلیمان اپنے تہ خانے میں بھاگ کر چلے گئے اور آصف نے انگوٹھی اٹھا کر اپنی انگلی میں پہن لی تو انگوٹھی رک گئی (انگلی سے نکل کر نیچے نہیں گری) آیت وَاَلْقَیْنَا عَلٰی کُرْسِیِّہٖ جَسَدًا میں جسد سے یہی مراد ہے (یعنی جسد سے مراد ہیں آصف) آصف 14 روز تک حکومت پر قائم رہے اور حضرت سلیمان ہی کے طریقہ پر حکومت کرتے رہے۔ اس کے بعد اللہ نے حضرت سلیمان کو حکومت لوٹا کر عطا فرما دی اور وہ اپنی کرسی پر بیٹھ گئے اور دوبارہ اپنی انگوٹھی ہاتھ میں پہن لی۔ میں کہتا ہوں : وہب کی روایت غلط ہونے کی دلیل یہ ہے کہ وہب کی روایت کے بموجب صیدون نام کا کوئی جزیرہ تھا ‘ اس جزیرہ میں کوئی عظیم الشان بادشاہ تھا جس کی وہاں حکومت تھی۔ جزیرہ چونکہ سمندر میں واقع تھا ‘ اسلئے وہاں تک کسی شخص کی رسائی نہ تھی۔ پانی کی سطح پر جو ہوا تھی ‘ حضرت سلیمان اپنے لشکر سمیت اس ہوا کے دوش پر سوار ہو کر اس جزیرہ میں جا اترے (گویا پہلے سے ہوا آپ کے حکم کی تابع ہوچکی تھی) حالانکہ قرآن کہہ رہا ہے کہ اس مصیبت اور انابت و استغفار کے بعد اللہ نے ہوا کو سلیمان کا تابع حکم بنایا تھا ‘ فرمایا ہے : فسخرنا لہ الریح یعنی اس واقعہ کے بعد ہم نے ہوا کو سلیمان کا تابع حکم بنا دیا۔ (ف تعقیب و ترتیب کیلئے ہے جو تسخیر ہوا کے مؤخر ہونے پر دلالت کر رہی ہے۔ مترجم) ۔ اس قصہ کے بعد ہی آپ نے دعا کی تھی اور کہا تھا : رَبِّ ھَبْ لِیْ مُلْکًا الخ (یہ دعا قبول ہوئی اور ہوا کو مسخر کردیا گیا) ۔ اگر وہب کے بیان کردہ قصہ کو صحیح مان لیا جائے ‘ تب بھی حضر سلیمان سے کسی گناہ کا صدور لازم نہیں آتا۔ مورتیاں بنانا ان کی شریعت میں جائز تھا اور حضرت سلیمان کی لاعلمی میں مورتی کو سجدہ کرنے سے آپ کو مجرم نہیں قرار دیا جاسکتا۔
Top