Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 38. Saad · Ayah 3

  1. كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّ لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ﴿3﴾

    1. كَمْکتنی ہی
    2. اَهْلَكْنَاہم نے ہلاک کردیں
    3. مِنْ قَبْلِهِمْان سے قبل
    4. مِّنْ قَرْنٍامتیں
    5. فَنَادَوْاتو وہ فریاد کرنے لگے
    6. وَّلَاتَاور نہ تھا
    7. حِيْنَوقت
    8. مَنَاصٍچھٹکارا
Translation · Tadabbur-e-Quran
ان سے پہلے ہم نے کتنی ہی قومیں ہلاک کردیں تو انہوں نے اس وقت ہائے پکار کی جب کوئی مفر باقی نہیں رہا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
کم اھلکنا من قبلھم من قرن فنا دواولات حسین مناص (3) ماضی کی قوموں کی طرف ایک اشارہ یعنی ان کی انانیت پر یہ بات بہت شاق گزر رہی ہے کہ انہیں ڈرایا جا رہا ہے کہ اگر وہ قرآن کی تکذیب پر اڑے رہے تو خدا کے عذاب کی زد میں آجائیں گے۔ حالانکہ تاریخ کی کتنی مثالیں ان کی بنائی جا چکی ہیں کہ جن قوموں نے ان کی طرح ضد کی ہم نے ان کو تباہ کردیا۔ جب وہ خدا کی پکڑ میں آگئیں تو انہوں نے بہت ہائے پکارا اور توبہ و ایمان کی منا دی کی۔ لیکن اس وقت ان کے لئے کوئی مضر باقی نہیں رہا تھا اس لئے کہ ظہور عذاب کے بعد توبہ اور ایمان کا وقت گزر چکا ہوتا ہے۔ لاث لاثاصل میں لا ہے البتہ اس کے ساتھ ت کا اضافہ ہوگیا ہے اسی طرح کا اضافہ ثم اور دب کے ساتھ بھی ہوجاتا ہے۔ البتہ اس صرت میں یہ وقت کی نفی کے لئے خاص ہوجاتا ہے جس طرح یہاں ہے۔