Ruh-ul-Quran - Saad : 3
كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّ لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ
كَمْ : کتنی ہی اَهْلَكْنَا : ہم نے ہلاک کردیں مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے قبل مِّنْ قَرْنٍ : امتیں فَنَادَوْا : تو وہ فریاد کرنے لگے وَّلَاتَ : اور نہ تھا حِيْنَ : وقت مَنَاصٍ : چھٹکارا
ان سے پہلے ہم نے کتنی قومیں ہلاک کردیں، انھوں نے اس وقت چیخ و پکار کی جب بچنے کا وقت نہ رہا
کَمْ اَھْلَـکْنَا مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّلاَتَ حِیْنَ مَنَاصٍ ۔ (صٓ: 3) (ان سے پہلے ہم نے کتنی قومیں ہلاک کردیں، انھوں نے اس وقت چیخ و پکار کی جب بچنے کا وقت نہ رہا۔ ) سابقہ مضمون کی معذب قوموں کے حالات سے تائید قریش اور دیگر لوگوں کو یہ بتایا جارہا ہے کہ جب بھی کوئی قوم انانیت کے گنبد سے باہر نہیں نکلتی اور تکبر اور ہٹ دھرمی حق اور صحیح بات کو قبول کرنے کے راستے میں حائل ہوجاتی ہے تو پھر ایسی قوم کے زندہ رہنے کے امکانات ختم ہوجاتے ہیں۔ چناچہ اس کی وضاحت کے لیے پہلی معذب قوموں کے حالات بیان کیے گئے اور بتایا گیا کہ ہم نے کتنی ایسی قومیں ہلاک کر ڈالیں جو ان سے پہلے گزری ہیں صرف اس بات پر کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول کو ماننے سے انکار کردیا اور جب عذاب کا کوڑا ان کے سر پر برسا تو پھر انھوں نے چیخ و پکار کی، اللہ تعالیٰ کی رحمت کو پکارا، اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کی۔ لیکن پھر ان کی ایک نہ سنی گئی۔ کیونکہ استغفار اور توبہ اور ایمان لانے کی کوشش اس وقت تک بارآور ہوتی ہے جب تک اللہ تعالیٰ کا عذاب نہیں آتا۔ اور جب عذاب آجاتا ہے تو پھر بچنے اور مفر کا کوئی راستہ باقی نہیں رہ جاتا۔ قریش کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ تم بڑی تیزی سے وقت ضائع کرتے جارہے ہو۔ وہ وقت دور نہیں جب تم فریاد کرو گے لیکن سننے والا کوئی نہیں ہوگا۔ لاَتَ اصل میں لاَ ہے۔ البتہ اس کے ساتھ ” ت “ کا اضافہ کردیا گیا ہے جس طرح ثُمَّ اور رُبَّ پر بھی ” ت “ کا اضافہ کردیا جاتا ہے۔ البتہ ایسی صورت میں یہ وقت کی نفی کے لیے خاص ہوجاتا ہے اور یہاں بھی ایسا ہی ہے۔
Top