Tafseer-e-Baghwi - Saad : 3
كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّ لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ
كَمْ : کتنی ہی اَهْلَكْنَا : ہم نے ہلاک کردیں مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے قبل مِّنْ قَرْنٍ : امتیں فَنَادَوْا : تو وہ فریاد کرنے لگے وَّلَاتَ : اور نہ تھا حِيْنَ : وقت مَنَاصٍ : چھٹکارا
ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کردیا تو وہ (عذاب کے وقت) لگے فریاد کرنے اور وہ رہائی کا وقت نہیں تھا
3، کم اھلکنا من قبلھم من قرن، جو ماقبل میں امتیں گزرچکی ہیں۔ ، فنا دوا، نزول عذاب کے وقت فریا درسی کے لیے بہت چیختے چلاتے ہیں۔ ، ولات حین مناص، نزول عذاب کے وقت ان کے لیے فرار ممکن نہیں تھا۔ مناص مصدر ہے ناص ینوص سے ، نوص پیچھے رہ جانے کو کہاجاتا ہے اور مناص جائے پنا ہ کو کہتے ہیں۔ لات اہل یمن کی لغت نہیں ہے۔ نحویین کے نزدیک یہھی اور لا سے مرکب ہے اور آخر میں تاء بڑھادی گئی۔ جیسا کہ ان کا قول ، رب وربت وتم وتمت ، اس کا اصل ھا تھا اور اس کے ساتھ لاکو ملالیا ۔ اور، لائ، کہنے لگے۔ جیسا کہ انہوں نے کہا کہ لاء اور حالت وصل میں انہیں تاء اور وقف کی صورت میں لات ہے۔ کسائی کے نزدیک حالت وقف میں لاہ پڑھاجائے گا ۔ بعض کا خیال ہے کہ لاء پر وقف ہے اور تاء کا تعلق حین سے ہے۔ یعنی، لاتحین، ابوعبیدہ نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا کہ میں نے مصحف عثمانی میں اسی طرح لکھاپایا ہے۔ جیسا کہ ابی وجزہ ساعدی کا قول ہے۔ العاطفون تحین مامن عاطف والمطعمون زمان مامن مطعم (وہ ایسے وقت مہربانی کرتے ہیں جب کوئی مہربان موجود نہیں ہوتا اور ایسے وقت کھانا کھلاتے ہیں جب کوئی شخص کھانا کھلانیوالا نہیں ہوتا) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کفار مکہ جب جنگ کرتے تھے تو لڑائی میں سرمست ہوجاتے تھے اور ایک دوسرے سے کہتا تھامناص، اس پر اللہ نے فرمایا، ولات حین مناص ، یعنی مناص کہنے کا وہ وقت نہ تھا یعنی نہ کوئی جائے پناہ تھی اور نہ بھاگ جانے کا مقام۔ جب اللہ تعالیٰ نے بدر کے دن ان پر عذاب نازل کیا تو وہ کہنے لگے مناص اس پر یہ آیت نازل ہوئی، ولات حین مناص،
Top