19. Maryamمريم
Mary · Meccan · 98 ayahs · 6 rukus · Nazar Ahmed
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
كٓهٰیٰعٓصٓ۫ۚ﴿1﴾
- كٓهٰيٰعٓصٓکاف۔ ہا۔ یا۔ عین۔ صاد
ک، ہ، ی، ع، صذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِیَّاۖۚ﴿2﴾
- ذِكْرُذکر
- رَحْمَتِرحمت
- رَبِّكَتیرا رب
- عَبْدَهٗاپنا بندہ
- زَكَرِيَّازکریا
ذکر ہے اُس رحمت کا جو تیرے رب نے اپنے بندے زکریاؑ پر کی تھیاِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا﴿3﴾
- اِذْجب
- نَادٰىاس نے پکارا
- رَبَّهٗاپنا رب
- نِدَآءًپکارنا
- خَفِيًّاآہستہ سے
جبکہ اُس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکاراقَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِیًّا﴿4﴾
- قَالَاس نے کہا
- رَبِّاے میرے رب
- اِنِّىْبیشک میں
- وَهَنَکمزور ہوگئی
- الْعَظْمُہڈیاں
- مِنِّيْمیری
- وَاشْتَعَلَاور شعلہ مارنے لگا
- الرَّاْسُسر
- شَيْبًاسفید بال
- وَّاور
- لَمْ اَكُنْمیں نہیں رہا
- بِدُعَآئِكَتجھ سے مانگ کر
- رَبِّاے میرے رب
- شَقِيًّامحروم
اُس نے عرض کیا "اے پروردگار، میری ہڈیاں تک گھل گئی ہیں اور سر بڑھاپے سے بھڑک اٹھا ہے اے پروردگار، میں کبھی تجھ سے دعا مانگ کر نامراد نہیں رہاوَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ وَ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّاۙ﴿5﴾
- وَاِنِّىْاور البتہ میں
- خِفْتُڈرتا ہوں
- الْمَوَالِيَاپنے رشتے دار
- مِنْ وَّرَآءِيْاپنے بعد
- وَكَانَتِاور ہے
- امْرَاَتِيْمیری بیوی
- عَاقِرًابانجھ
- فَهَبْ لِيْتو مجھے عطا کر
- مِنْ لَّدُنْكَاپنے پاس سے
- وَلِيًّاایک وارث
مجھے اپنے پیچھے اپنے بھائی بندوں کی برائیوں کا خوف ہے، اور میری بیوی بانجھ ہے تو مجھے اپنے فضلِ خاص سے ایک وارث عطا کر دےیَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ١ۖۗ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا﴿6﴾
- يَّرِثُنِيْمیرا وارث ہو
- وَيَرِثُاور وارث ہو
- مِنْسے۔ کا
- اٰلِ يَعْقُوْبَاولادِ یعقوب
- وَاجْعَلْهُاور اسے بنا دے
- رَبِّاے میرے رب
- رَضِيًّاپسندیدہ
جو میرا وارث بھی ہو اور آلِ یعقوب کی میراث بھی پائے، اور اے پروردگار، اُس کو ایک پسندیدہ انسان بنا"یٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ اِ۟سْمُهٗ یَحْیٰى١ۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا﴿7﴾
- يٰزَكَرِيَّآاے زکریا
- اِنَّابیشک ہم
- نُبَشِّرُكَتجھے بشارت دیتے ہیں
- بِغُلٰمِایک لڑکا
- اسْمُهٗاس کا نام
- يَحْيٰىیحییٰ
- لَمْ نَجْعَلْنہیں بنایا ہم نے
- لَّهٗاس کا
- مِنْ قَبْلُاس سے قبل
- سَمِيًّاکوئی ہم نام
(جواب دیا گیا) "اے زکریاؑ، ہم تجھے ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰؑ ہو گا ہم نے اِس نام کا کوئی آدمی اس سے پہلے پیدا نہیں کیا"قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِیًّا﴿8﴾
- قَالَاس نے کہا
- رَبِّاے میرے رب
- اَنّٰىکیسے
- يَكُوْنُہوگا وہ
- لِيْ غُلٰمٌمیرے لیے۔ میرا۔ لڑکا
- وَّكَانَتِجبکہ وہ ہے
- امْرَاَتِيْمیری بیوی
- عَاقِرًابانجھ
- وَّقَدْ بَلَغْتُاور میں پہنچ چکا ہوں
- مِنَسے۔ کی
- الْكِبَرِبڑھاپا
- عِتِيًّاانتہائی حد
عرض کیا، "پروردگار، بھلا میرے ہاں کیسے بیٹا ہوگا جبکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بوڑھا ہو کر سوکھ چکا ہوں؟"قَالَ كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ وَّ قَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ تَكُ شَیْئًا﴿9﴾
- قَالَاس نے کہا
- كَذٰلِكَاسی طرح
- قَالَفرمایا
- رَبُّكَتیرا رب
- هُوَوہ (یہ)
- عَلَيَّمجھ پر
- هَيِّنٌآسان
- وَّاور
- قَدْ خَلَقْتُكَمیں نے تجھے پیدا کیا
- مِنْ قَبْلُاس سے قبل
- وَجبکہ
- لَمْ تَكُتو نہ تھا
- شَيْئًاکوئی چیز۔ کچھ بھی
جواب ملا "ایسا ہی ہو گا تیرا رب فرماتا ہے کہ یہ تو میرے لیے ایک ذرا سی بات ہے، آخر اس سے پہلے میں تجھے پیدا کر چکا ہوں جب کہ تو کوئی چیز نہ تھا"قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا﴿10﴾
- قَالَاس نے کہا
- رَبِّاے میرے رب
- اجْعَلْکردے
- لِّيْٓمیرے لیے
- اٰيَةًکوئی نشانی
- قَالَفرمایا
- اٰيَتُكَتیری نشانی
- اَلَّا تُكَلِّمَتو نہ بات کرے گا
- النَّاسَلوگ (جمع)
- ثَلٰثَتین
- لَيَالٍرات
- سَوِيًّاٹھیک
زکریاؑ نے کہا، "پروردگار، میرے لیے کوئی نشانی مقرر کر دے" فرمایا "تیرے لیے نشانی یہ ہے کہ تو پیہم تین دن لوگوں سے بات نہ کر سکے"فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا﴿11﴾
- فَخَرَجَپھر وہ نکلا
- عَلٰيپاس
- قَوْمِهٖاپنی قوم
- مِنَسے
- الْمِحْرَابِمحراب
- فَاَوْحٰٓىتو اس نے اشارہ کیا
- اِلَيْهِمْان کی طرف
- اَنْ سَبِّحُوْاکہ اس کی پاکیزگی بیان کرو
- بُكْرَةًصبح
- وَّعَشِيًّااور شام
چنانچہ وہ محراب سے نکل کر اپنی قوم کے سامنے آیا اور اس نے اشارے سے ان کو ہدایت کی کہ صبح و شام تسبیح کرویٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ١ؕ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّاۙ﴿12﴾
- يٰيَحْيٰىاے یحییٰ
- خُذِپکڑو (تھام لو)
- الْكِتٰبَکتاب
- بِقُوَّةٍمضبوطی سے
- وَاٰتَيْنٰهُاور ہم نے اسے دی
- الْحُكْمَنبوت۔ دانائی
- صَبِيًّابچپن سے
"اے یحییٰؑ! کتاب الٰہی کو مضبوط تھام لے" ہم نے اُسے بچپن ہی میں "حکم" سے نوازاوَّ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ زَكٰوةً١ؕ وَ كَانَ تَقِیًّاۙ﴿13﴾
- وَّحَنَانًااور شفقت
- مِّنْ لَّدُنَّااپنے پاس سے
- وَزَكٰوةًاور پاکیزگی
- وَكَانَاور وہ تھا
- تَقِيًّاپرہیزگار
اور اپنی طرف سے اس کو نرم دلی اور پاکیزگی عطا کی اور وہ بڑا پرہیزگاروَّ بَرًّۢا بِوَالِدَیْهِ وَ لَمْ یَكُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا﴿14﴾
- وَّبَرًّۢااور اچھا سلوک کرنیوالا
- بِوَالِدَيْهِاپنے ماں باپ سے
- وَلَمْ يَكُنْاور نہ تھا وہ
- جَبَّارًاگردن کش
- عَصِيًّانافرمان
اور اپنے والدین کا حق شناس تھا وہ جبّار نہ تھا اور نہ نافرمانوَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا۠ع﴿15﴾
- وَسَلٰمٌاور سلام
- عَلَيْهِاس پر
- يَوْمَجس دن
- وُلِدَوہ پیدا ہوا
- وَيَوْمَاور جس دن
- يَمُوْتُوہ فوت ہوگا
- وَيَوْمَاور جس دن
- يُبْعَثُاٹھایا جائے گا
- حَيًّازندہ ہو کر
سلام اُس پر جس روز کہ وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے اور جس روز وہ زندہ کر کے اٹھایا جائےوَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَ١ۘ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِیًّاۙ﴿16﴾
- وَاذْكُرْاور ذکر کرو
- فِى الْكِتٰبِکتاب میں
- مَرْيَمَمریم
- اِذِ انْتَبَذَتْجب وہ یکسو ہوگئی
- مِنْ اَهْلِهَااپنے گھروالوں سے
- مَكَانًامکان
- شَرْقِيًّامشرقی
اور اے محمدؐ، اس کتاب میں مریم کا حال بیان کرو، جبکہ وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر شرقی جانب گوشہ نشین ہو گئی تھیفَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا١۪۫ فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا﴿17﴾
- فَاتَّخَذَتْپھر ڈال لیا
- مِنْسے
- دُوْنِهِمْان کی طرف
- حِجَابًاپردہ
- فَاَرْسَلْنَآپھر ہم نے بھیجا
- اِلَيْهَااس کی طرف
- رُوْحَنَااپنی روح (فرشتہ)
- فَتَمَثَّلَشکل بن گیا
- لَهَااس کے لیے
- بَشَرًاایک آدمی
- سَوِيًّاٹھیک
اور پردہ ڈال کر اُن سے چھپ بیٹھی تھی اس حالت میں ہم نے اس کے پاس اپنی روح کو (یعنی فرشتے کو) بھیجا اور وہ اس کے سامنے ایک پورے انسان کی شکل میں نمودار ہو گیاقَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا﴿18﴾
- قَالَتْوہ بولی
- اِنِّىْٓبیشک میں
- اَعُوْذُپناہ میں آتی ہوں
- بِالرَّحْمٰنِرحمن (اللہ) کی
- مِنْكَتجھ سے
- اِنْ كُنْتَاگر تو ہے
- تَقِيًّاپرہیزگار
مریم یکایک بول اٹھی کہ"اگر تو کوئی خدا ترس آدمی ہے تو میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں"قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ١ۖۗ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا﴿19﴾
- قَالَاس نے کہا
- اِنَّمَآاس کے سوا نہیں
- اَنَاکہ میں
- رَسُوْلُبھیجا ہوا
- رَبِّكِتیرے رب کا
- لِاَهَبَتاکہ عطا کروں
- لَكِتجھ کو
- غُلٰمًاایک لڑکا
- زَكِيًّاپاکیزہ
اُس نے کہا "میں تو تیرے رب کا فرستادہ ہوں اور اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دوں"قَالَتْ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِیًّا﴿20﴾
- قَالَتْوہ بولی
- اَنّٰىکیسے
- يَكُوْنُہوگا
- لِيْمیرے
- غُلٰمٌلڑکا
- وَّجبکہ
- لَمْ يَمْسَسْنِيْمجھے چھوا نہیں
- بَشَرٌکسی بشر نے
- وَّاور
- لَمْ اَكُمیں نہیں ہوں
- بَغِيًّابدکار
مریم نے کہا "میرے ہاں کیسے لڑکا ہوگا جبکہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں ہے اور میں کوئی بدکار عورت نہیں ہوں"قَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ١ۚ وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّا١ۚ وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا﴿21﴾
- قَالَاس نے کہا
- كَذٰلِكِیونہی
- قَالَفرمایا
- رَبُّكِتیرا رب
- هُوَوہ یہ
- عَلَيَّمجھ پر
- هَيِّنٌآسان
- وَلِنَجْعَلَهٗٓاور تاکہ ہم اسے بنائیں
- اٰيَةًایک نشانی
- لِّلنَّاسِلوگوں کے لیے
- وَرَحْمَةًاور رحمت
- مِّنَّااپنی طرف سے
- وَكَانَاور ہے
- اَمْرًاایک امر
- مَّقْضِيًّاطے شدہ
فرشتے نے کہا "ایسا ہی ہوگا، تیرا رب فرماتا ہے کہ ایسا کرنا میرے لیے بہت آسان ہے اور ہم یہ اس لیے کریں گے کہ اُس لڑکے کو لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں اور اپنی طرف سے ایک رحمت اور یہ کام ہو کر رہنا ہے"فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِیًّا﴿22﴾
- فَحَمَلَتْهُپھر اسے حمل رہ گیا
- فَانْتَبَذَتْپس وہ چلی گئی
- بِهٖاسے لیکر
- مَكَانًاایک جگہ
- قَصِيًّادور
مریم کو اس بچے کا حمل رہ گیا اور وہ اس حمل کو لیے ہوئے ایک دُور کے مقام پر چلی گئیفَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ١ۚ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا﴿23﴾
- فَاَجَآءَهَاپھر اسے لے آیا
- الْمَخَاضُدردِ زہ
- اِلٰىطرف
- جِذْعِجڑ
- النَّخْلَةِکھجور کا درخت
- قَالَتْوہ بولی
- يٰلَيْتَنِيْاے کاش میں
- مِتُّمرچکی ہوتی
- قَبْلَ ھٰذَااس سے قبل
- وَكُنْتُاور میں ہوجاتی
- نَسْيًا مَّنْسِيًّابھولی بسری
پھر زچگی کی تکلیف نے اُسے ایک کھُجور کے درخت کے نیچے پہنچا دیا وہ کہنے لگی " کاش میں اس سے پہلے ہی مر جاتی اور میرا نام و نشان نہ رہتا"فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا﴿24﴾
- فَنَادٰىهَاپس اسے آواز دی
- مِنْسے
- تَحْتِهَآاس کے نیچے
- اَلَّا تَحْزَنِيْکہ نہ گھبرا تو
- قَدْ جَعَلَکردیا ہے
- رَبُّكِتیرا رب
- تَحْتَكِتیرے نیچے
- سَرِيًّاایک چشمہ
فرشتے نے پائنتی سے اس کو پکار کر کہا "غم نے کر تیرے رب نے تیرے نیچے ایک چشمہ رواں کر دیا ہےوَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا٘﴿25﴾
- وَهُزِّيْٓاور ہلا
- اِلَيْكِاپنی طرف
- بِجِذْعِتنے کو
- النَّخْلَةِکھجور
- تُسٰقِطْجھڑ پڑیں گی
- عَلَيْكِتجھ پر
- رُطَبًاتازہ تازہ
- جَنِيًّاکھجوریں
اور تو ذرا اِس درخت کے تنے کو ہلا، تیرے اوپر تر و تازہ کھجوریں ٹپک پڑیں گیفَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًا١ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا١ۙ فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ﴿26﴾
- فَكُلِيْتو کھا
- وَاشْرَبِيْاور پی
- وَقَرِّيْاور ٹھنڈی کر
- عَيْنًاآنکھیں
- فَاِمَّا تَرَيِنَّپھر اگر تو دیکھے
- مِنَسے
- الْبَشَرِآدمی
- اَحَدًاکوئی
- فَقُوْلِيْٓتو کہدے
- اِنِّىْ نَذَرْتُمیں نے نذر مانی ہے
- لِلرَّحْمٰنِرحمن کے لیے
- صَوْمًاروزہ
- فَلَنْ اُكَلِّمَپس میں ہرگز کلام نہ کرونگی
- الْيَوْمَآج
- اِنْسِيًّاکسی آدمی
پس تو کھا اور پی اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر پھر اگر کوئی آدمی تجھے نظر آئے تو اس سے کہہ دے کہ میں نے رحمان کے لیے روزے کی نذر مانی ہے، اس لیے آج میں کسی سے نہ بولوں گی"فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ١ؕ قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا﴿27﴾
- فَاَتَتْ بِهٖپھر وہ اسے لیکر آئی
- قَوْمَهَااپنی قوم
- تَحْمِلُهٗاسے اٹھائے ہوئے
- قَالُوْاوہ بولے
- يٰمَرْيَمُاے مریم
- لَقَدْ جِئْتِتو لائی ہے
- شَيْئًاشے
- فَرِيًّابری (غضب کی)
پھر وہ اس بچے کو لیے ہوئے اپنی قوم میں آئی لوگ کہنے لگے " اے مریم، یہ تو تُو نے بڑا پاپ کر ڈالایٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّاۖۚ﴿28﴾
- يٰٓاُخْتَ هٰرُوْنَاے ہارون کی بہن
- مَانہ
- كَانَتھا
- اَبُوْكِتیرا باپ
- امْرَاَآدمی
- سَوْءٍبرا
- وَّاور
- مَا كَانَتْنہ تھی
- اُمُّكِتیری ماں
- بَغِيًّابدکار
اے ہارون کی بہن، نہ تیرا باپ کوئی برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی کوئی بدکار عورت تھی"فَاَشَارَتْ اِلَیْهِ١ؕ قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا﴿29﴾
- فَاَشَارَتْتو مریم نے اشارہ کیا
- اِلَيْهِاس کی طرف
- قَالُوْاوہ بولے
- كَيْفَ نُكَلِّمُکیسے ہم بات کریں
- مَنْ كَانَجو ہے
- فِي الْمَهْدِگہوارہ میں
- صَبِيًّابچہ
مریم نے بچے کی طرف اشارہ کر دیا لوگوں نے کہا " ہم اِس سے کیا بات کریں جو گہوارے میں پڑا ہوا ایک بچہ ہے؟"قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ﴿30﴾
- قَالَبچہ نے
- اِنِّىْبیشک میں
- عَبْدُ اللّٰهِاللہ کا بندہ
- اٰتٰىنِيَاس نے مجھے دی ہے
- الْكِتٰبَکتاب
- وَجَعَلَنِيْاور مجھے بنایا ہے
- نَبِيًّانبی
بچہ بول اٹھا "میں اللہ کا بندہ ہوں اُس نے مجھے کتاب دی، اور نبی بنایاوَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ١۪ وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّا٢۪ۖ﴿31﴾
- وَّجَعَلَنِيْاور مجھے بنایا ہے
- مُبٰرَكًابابرکت
- اَيْنَ مَاجہاں کہیں
- كُنْتُمیں ہوں
- وَاَوْصٰىنِيْمجھے حکم دیا ہے اس نے
- بِالصَّلٰوةِنماز کا
- وَالزَّكٰوةِاور زکوۃ کا
- مَا دُمْتُجب تک میں رہوں
- حَيًّازندہ
اور بابرکت کیا جہاں بھی میں رہوں، اور نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کا حکم دیا جب تک میں زندہ رہوںوَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ١٘ وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا﴿32﴾
- وَّبَرًّۢااور اچھا سلوک کرنیوالا
- بِوَالِدَتِيْاپنی ماں سے
- وَاور
- لَمْ يَجْعَلْنِيْاس نے مجھے نہیں بنایا
- جَبَّارًاسرکش
- شَقِيًّابدنصیب
اور اپنی والدہ کا حق ادا کرنے والا بنایا، اور مجھ کو جبّار اور شقی نہیں بنایاوَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا﴿33﴾
- وَالسَّلٰمُاور سلامتی
- عَلَيَّمجھ پر
- يَوْمَجس دن
- وُلِدْتُّمیں پیدا ہوا
- وَيَوْمَاور جس دن
- اَمُوْتُمیں مروں گا
- وَيَوْمَاور جس دن
- اُبْعَثُاٹھایا جاؤں گا
- حَيًّازندہ ہوکر
سلام ہے مجھ پر جبکہ میں پیدا ہوا اور جبکہ میں مروں اور جبکہ زندہ کر کے اٹھایا جاؤں"ذٰلِكَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ١ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ﴿34﴾
- ذٰلِكَیہ
- عِيْسَىعیسیٰ
- ابْنُ مَرْيَمَابن مریم
- قَوْلَبات
- الْحَقِّسچی
- الَّذِيْ فِيْهِوہ جس میں
- يَمْتَرُوْنَوہ شک کرتے ہیں
یہ ہے عیسٰی ابن مریم اور یہ ہے اُس کے بارے میں وہ سچی بات جس میں لوگ شک کر رہے ہیںمَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُؕ﴿35﴾
- مَا كَانَنہیں ہے
- لِلّٰهِاللہ کیلئے
- اَنْکہ
- يَّتَّخِذَوہ بنائے
- مِنْکوئی
- وَّلَدٍبیٹا
- سُبْحٰنَهٗوہ پاک ہے
- اِذَا قَضٰٓىجب وہ فیصلہ کرتا ہے
- اَمْرًاکسی کام
- فَاِنَّمَاتو اس کے سوا نہیں
- يَقُوْلُوہ کہتا ہے
- لَهٗاس کو
- كُنْہوجا
- فَيَكُوْنُپس وہ ہوجاتا ہے
اللہ کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے وہ پاک ذات ہے وہ جب کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو کہتا ہے کہ ہو جا، اور بس وہ ہو جاتی ہےوَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ﴿36﴾
- وَاِنَّاور بیشک
- اللّٰهَاللہ
- رَبِّيْمیرا رب
- وَرَبُّكُمْاور تمہارا رب
- فَاعْبُدُوْهُپس اس کی عبادت کرو
- ھٰذَایہ
- صِرَاطٌراستہ
- مُّسْتَقِيْمٌسیدھا
(اور عیسٰیؑ نے کہا تھا کہ) "اللہ میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی، پس تم اُسی کی بندگی کرو، یہی سیدھی راہ ہے"فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ﴿37﴾
- فَاخْتَلَفَپھر اختلاف کیا
- الْاَحْزَابُفرقے
- مِنْۢ بَيْنِهِمْآپس میں (باہم)
- فَوَيْلٌپس خرابی
- لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْاکافروں کے لیے
- مِنْسے
- مَّشْهَدِحاضری
- يَوْمٍ عَظِيْمٍبڑا دن
مگر پھر مختلف گروہ باہم اختلاف کرنے لگے سو جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے وہ وقت بڑی تباہی کا ہوگااَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ١ۙ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ﴿38﴾
- اَسْمِعْسنیں گے
- بِهِمْکیا کچھ
- وَاَبْصِرْاور دیکھیں گے
- يَوْمَجس دن
- يَاْتُوْنَنَاوہ ہمارے سامنے آئیں گے
- لٰكِنِلیکن
- الظّٰلِمُوْنَظالم (جمع)
- الْيَوْمَآج کے دن
- فِيْمیں
- ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍکھلی گمراہی
جب کہ وہ ایک بڑا دن دیکھیں گے جب وہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے اُس روز تو اُن کے کان بھی خوب سُن رہے ہوں گے اور اُن کی آنکھیں بھی خوب دیکھتی ہوں گی، مگر آج یہ ظالم کھلی گمراہی میں مبتلا ہیںوَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ١ۘ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ﴿39﴾
- وَاَنْذِرْهُمْاور ان کو ڈراویں آپ
- يَوْمَ الْحَسْرَةِحسرت کا دن
- اِذْجب
- قُضِيَفیصلہ کردیاجائیگا
- الْاَمْرُکام
- وَهُمْلیکن وہ
- فِيْ غَفْلَةٍغفلت میں ہیں
- وَّهُمْاور وہ
- لَا يُؤْمِنُوْنَایمان نہیں لاتے
اے نبیؐ، اِس حالت میں جبکہ یہ لوگ غافل ہیں اور ایمان نہیں لا رہے ہیں، اِنہیں اس دن سے ڈرا دو جبکہ فیصلہ کر دیا جائے گا اور پچھتاوے کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہوگااِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ۠﴿40﴾
- اِنَّا نَحْنُبیشک ہم
- نَرِثُوارث ہونگے
- الْاَرْضَزمین
- وَمَنْاور جو
- عَلَيْهَااس پر
- وَاِلَيْنَااور ہماری طرف
- يُرْجَعُوْنَوہ لوٹائے جائیں گے
آخرکار ہم ہی زمین اور اس کی ساری چیزوں کے وارث ہوں گے اور سب ہماری طرف ہی پلٹائے جائیں گےوَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاع﴿41﴾
- وَاذْكُرْاور یاد کرو
- فِي الْكِتٰبِکتاب میں
- اِبْرٰهِيْمَابراہیم
- اِنَّهٗ كَانَبیشک وہ تھے
- صِدِّيْقًاسچے
- نَّبِيًّانبی
اور اس کتاب میں ابراہیمؑ کا قصہ بیان کرو، بے شک وہ ایک راست باز انسان اور ایک نبی تھااِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْكَ شَیْئًا﴿42﴾
- اِذْ قَالَجب اس نے کہا
- لِاَبِيْهِاپنے باپ کو
- يٰٓاَبَتِاے میرے ابا
- لِمَ تَعْبُدُتم کیوں پرستش کرتے ہو
- مَا لَا يَسْمَعُجو نہ سنے
- وَلَا يُبْصِرُاور نہ دیکھے
- وَلَا يُغْنِيْاور نہ کام آئے
- عَنْكَتمہارے
- شَيْئًاکچھ
(انہیں ذرا اُس موقع کی یاد دلاؤ) جبکہ اُس نے اپنے باپ سے کہا کہ "ابّا جان، آپ کیوں اُن چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں نہ دیکھتی ہیں اور نہ آپ کا کوئی کام بنا سکتی ہیں؟یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِیْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِیًّا﴿43﴾
- يٰٓاَبَتِاے میرے ابا
- اِنِّىْبیشک میں
- قَدْ جَآءَنِيْبیشک میرے پاس آیا ہے
- مِنَ الْعِلْمِوہ علم
- مَاجو
- لَمْ يَاْتِكَتمہارے پاس نہیں آیا
- فَاتَّبِعْنِيْٓپس میری بات مانو
- اَهْدِكَمیں تمہیں دکھاؤں گا
- صِرَاطًاراستہ
- سَوِيًّاسیدھا
ابّا جان، میرے پاس ایک ایسا عِلم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا، آپ میرے پیچھے چلیں، میں آپ کو سیدھا راستہ بتاؤں گایٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا﴿44﴾
- يٰٓاَبَتِاے میرے ابا
- لَا تَعْبُدِپرستش نہ کر
- الشَّيْطٰنَشیطان
- اِنَّبشیک
- الشَّيْطٰنَشیطان
- كَانَہے
- لِلرَّحْمٰنِرحمن کا
- عَصِيًّانافرمان
ابّا جان! آپ شیطان کی بندگی نہ کریں، شیطان تو رحمٰن کا نافرمان ہےیٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا﴿45﴾
- يٰٓاَبَتِاے میرے ابا
- اِنِّىْٓبیشک میں
- اَخَافُڈرتا ہوں
- اَنْکہ
- يَّمَسَّكَتجھے آپکڑے
- عَذَابٌعذاب
- مِّنَسے۔ کا
- الرَّحْمٰنِرحمن
- فَتَكُوْنَپھر تو ہوجائے
- لِلشَّيْطٰنِشیطان کا
- وَلِيًّاساتھی
ابّا جان، مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ رحمان کے عذاب میں مُبتلا نہ ہو جائیں اور شیطان کے ساتھی بن کر رہیں"قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِیْ یٰۤاِبْرٰهِیْمُ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِیْ مَلِیًّا﴿46﴾
- قَالَاس نے کہا
- اَ رَاغِبٌکیا روگرداں
- اَنْتَتو
- عَنْسے
- اٰلِهَتِيْمیرے معبود (جمع)
- يٰٓاِبْرٰهِيْمُاے ابراہیم
- لَئِنْاگر
- لَّمْ تَنْتَهِتو باز نہ آیا
- لَاَرْجُمَنَّكَتو میں تجھے ضرور سنگسار کروں گا
- وَاهْجُرْنِيْاور مجھے چھوڑ دے
- مَلِيًّاایک مدت کے لیے
باپ نے کہا "ابراہیمؑ، کیا تو میرے معبُودوں سے پھر گیا ہے؟ اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا بس تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے الگ ہو جا"قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَ١ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا﴿47﴾
- قَالَاس نے کہا
- سَلٰمٌسلام
- عَلَيْكَتجھ پر
- سَاَسْتَغْفِرُمیں ابھی بخشش مانگوں گا
- لَكَتیرے لیے
- رَبِّيْاپنا رب
- اِنَّهٗبیشک وہ
- كَانَہے
- بِيْمجھ پر
- حَفِيًّامہربان
ابراہیمؑ نے کہا "سلام ہے آپ کو میں اپنے رب سے دُعا کروں گا کہ آپ کو معاف کر دے، میرا رب مجھ پر بڑا ہی مہربان ہےوَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ اَدْعُوْا رَبِّیْ١ۖ٘ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا﴿48﴾
- وَاَعْتَزِلُكُمْاور کنارہ کشی کرتا ہوں تم سے
- وَمَااور جو
- تَدْعُوْنَتم پرستش کرتے ہو
- مِنْ دُوْنِسوائے
- اللّٰهِاللہ
- وَاَدْعُوْااور میں عبادت کروں گا
- رَبِّيْاپنا رب
- عَسٰٓىامید ہے
- اَلَّآ اَكُوْنَکہ نہ رہوں گا
- بِدُعَآءِعبادت سے
- رَبِّيْاپنا رب
- شَقِيًّامحروم
میں آپ لوگوں کو بھی چھوڑتا ہوں اور اُن ہستیوں کو بھی جنہیں آپ لوگ خدا کو چھوڑ کر پکارا کرتے ہیں میں تو اپنے رب ہی کو پکاروں گا، امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کے نامراد نہ رہوں گا"فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا﴿49﴾
- فَلَمَّاپھر جب
- اعْتَزَلَهُمْوہ کنارہ کش ہوگئے ان سے
- وَمَااور جو
- يَعْبُدُوْنَوہ پرستش کرتے تھے
- مِنْ دُوْنِسوائے
- اللّٰهِاللہ
- وَهَبْنَاہم نے عطا کیا
- لَهٗٓاس کو
- اِسْحٰقَاسحق
- وَيَعْقُوْبَاور یعقوب
- وَكُلًّااور سب کو
- جَعَلْنَاہم نے بنایا
- نَبِيًّانبی
پس جب وہ اُن لوگوں سے اور اُن کے معبُودانِ غیر اللہ سے جُدا ہو گیا تو ہم نے اُس کو اسحاقؑ اور یعقوبؑ جیسی اولاد دی اور ہر ایک کو نبی بنایاوَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۠ع﴿50﴾
- وَوَهَبْنَااور ہم نے عطا کیا
- لَهُمْانہیں
- مِّنْسے
- رَّحْمَتِنَااپنی رحمت
- وَجَعَلْنَااور ہم نے کیا
- لَهُمْان کا
- لِسَانَذکر
- صِدْقٍسچا۔ جمیل
- عَلِيًّانہایت بلند
اور ان کو اپنی رحمت سے نوازا اور ان کو سچی ناموری عطا کیوَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى١٘ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا﴿51﴾
- وَاذْكُرْاور یاد کرو
- فِي الْكِتٰبِکتاب میں
- مُوْسٰٓىموسیٰ
- اِنَّهٗبیشک وہ
- كَانَتھا
- مُخْلَصًابرگزیدہ
- وَّكَانَاور تھا
- رَسُوْلًارسول
- نَّبِيًّانبی
اور ذکر کرو اس کتاب میں موسیٰؑ کا وہ ایک چیدہ شخص تھا اور رسول نبی تھاوَ نَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِیًّا﴿52﴾
- وَنَادَيْنٰهُاور ہم نے اسے پکارا
- مِنْسے
- جَانِبِجانب
- الطُّوْرِکوہ طور
- الْاَيْمَنِداہنی
- وَقَرَّبْنٰهُاور اسے نزدیک بلایا
- نَجِيًّاراز بتانے کو
ہم نے اُس کو طُور کے داہنی جانب سے پکارا اور راز کی گفتگو سے اس کو تقرب عطا کیاوَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا﴿53﴾
- وَوَهَبْنَااور ہم نے عطا کیا
- لَهٗاسے
- مِنْ رَّحْمَتِنَآاپنی رحمت سے
- اَخَاهُاس کا بھائی
- هٰرُوْنَہارون
- نَبِيًّانبی
اور اپنی مہربانی سے اس کے بھائی ہارونؑ کو نبی بنا کر اُسے (مدد گار کے طور پر) دیاوَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ﴿54﴾
- وَاذْكُرْاور یاد کرو
- فِي الْكِتٰبِکتاب میں
- اِسْمٰعِيْلَاسمعیل
- اِنَّهٗبیشک وہ
- كَانَتھے
- صَادِقَ الْوَعْدِوعدہ کا سچا
- وَكَانَاور تھے
- رَسُوْلًارسول
- نَّبِيًّانبی
اور اس کتاب میں اسماعیلؑ کا ذکر کرو وہ وعدے کا سچا تھا اور رسُول نبی تھاوَ كَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ١۪ وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِیًّا﴿55﴾
- وَكَانَ يَاْمُرُاور حکم دیتے تھے
- اَهْلَهٗاپنے گھروالے
- بِالصَّلٰوةِنماز کا
- وَالزَّكٰوةِاور زکوۃ
- وَكَانَاور وہ تھے
- عِنْدَ رَبِّهٖاپنے رب کے ہاں
- مَرْضِيًّاپسندیدہ
وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا اور اپنے رب کے نزدیک ایک پسندیدہ انسان تھاوَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاۗۙ﴿56﴾
- وَاذْكُرْاور یاد کرو
- فِي الْكِتٰبِکتاب میں
- اِدْرِيْسَادریس
- اِنَّهٗبیشک وہ
- كَانَتھے
- صِدِّيْقًاسچے
- نَّبِيًّانبی
اور اس کتاب میں ادریسؑ کا ذکر کرو وہ ایک راستباز انسان اور ایک نبی تھاوَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا﴿57﴾
- وَّرَفَعْنٰهُاور ہم نے اسے اٹھا لیا
- مَكَانًاایک مقام
- عَلِيًّابلند
اور اسے ہم نے بلند مقام پر اٹھایا تھااُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَ١ۗ وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١٘ وَّ مِنْ ذُرِّیَّةِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْرَآءِیْلَ١٘ وَ مِمَّنْ هَدَیْنَا وَ اجْتَبَیْنَا١ؕ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا۩۩﴿58﴾
- اُولٰٓئِكَیہ وہ لوگ
- الَّذِيْنَوہ جنہیں
- اَنْعَمَ اللّٰهُاللہ نے انعام کیا
- عَلَيْهِمْان پر
- مِّنَسے
- النَّبِيّٖنَنبی (جمع)
- مِنْسے
- ذُرِّيَّةِ اٰدَمَاولاد آدم
- وَمِمَّنْاور ان سے جنہیں
- حَمَلْنَاسوار کیا ہم نے
- مَعَساتھ
- نُوْحٍنوح
- وَّاور
- مِنْسے
- ذُرِّيَّةِاولاد
- اِبْرٰهِيْمَابراہیم
- وَاِسْرَآءِيْلَاور یعقوب
- وَمِمَّنْاور ان سے جنہیں
- هَدَيْنَاہم نے ہدایت دی
- وَاجْتَبَيْنَااور ہم نے چنا
- اِذَا تُتْلٰىجب پڑھی جاتیں
- عَلَيْهِمْان پر
- اٰيٰتُ الرَّحْمٰنِرحمن کی آیتیں
- خَرُّوْاوہ گرپڑتے
- سُجَّدًاسجدہ کرتے ہوئے
- وَّبُكِيًّااور روتے ہوئے
یہ وہ پیغمبر ہیں جن پر اللہ نے انعام فرمایا آدمؑ کی اولاد میں سے، اور اُن لوگوں کی نسل سے جنہیں ہم نے نوحؑ کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا، ا ور ابراہیمؑ کی نسل سے اور اسرائیلؑ کی نسل سے اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جن کو ہم نے ہدایت بخشی اور برگزیدہ کیا ان کا حال یہ تھا کہ جب رحمان کی آیات ان کو سنائی جاتیں تو روتے ہوئے سجدے میں گر جاتے تھےفَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ﴿59﴾
- فَخَلَفَپھر جانشین ہوئے
- مِنْۢ بَعْدِهِمْان کے بعد
- خَلْفٌچند جانشین (ناخلف)
- اَضَاعُواانہوں نے گنوادی
- الصَّلٰوةَنماز
- وَاتَّبَعُوااور پیروی کی
- الشَّهَوٰتِخواہشات
- فَسَوْفَپس عنقریب
- يَلْقَوْنَانہیں ملے گی
- غَيًّاگمراہی
پھر ان کے بعد وہ ناخلف لوگ ان کے جانشین ہوئے جنہوں نے نماز کو ضائع کیا اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کی، پس قریب ہے کہ وہ گمراہی کے انجام سے دوچار ہوںاِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ شَیْئًاۙ﴿60﴾
- اِلَّامگر
- مَنْجو۔ جس
- تَابَتوبہ کی
- وَاٰمَنَوہ ایمان لایا
- وَعَمِلَاور عمل کیے
- صَالِحًانیک
- فَاُولٰٓئِكَپس یہی لوگ
- يَدْخُلُوْنَوہ داخل ہوں گے
- الْجَنَّةَجنت
- وَلَا يُظْلَمُوْنَاور ان کا نہ نقصان کیا جائیگا
- شَيْئًاکچھ۔ ذرا
البتہ جو توبہ کر لیں اور ایمان لے آئیں اور نیک عملی اختیار کر لیں وہ جنّت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرّہ برابر حق تلفی نہ ہو گیجَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِیًّا﴿61﴾
- جَنّٰتِ عَدْنِہمیشگی کے باغات
- الَّتِيْوہ جو
- وَعَدَوعدہ کیا
- الرَّحْمٰنُرحمن
- عِبَادَهٗاپنے بندے (جمع)
- بِالْغَيْبِغائبانہ
- اِنَّهٗبیشک وہ
- كَانَہے
- وَعْدُهٗاس کا وعدہ
- مَاْتِيًّاآنے والا
ان کے لیے ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کا رحمان نے اپنے بندوں سے در پردہ وعدہ کر رکھا ہے اور یقیناً یہ وعدہ پُورا ہو کر رہنا ہےلَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا١ؕ وَ لَهُمْ رِزْقُهُمْ فِیْهَا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا﴿62﴾
- لَا يَسْمَعُوْنَوہ نہ سنیں گے
- فِيْهَااس میں
- لَغْوًابےہودہ
- اِلَّا سَلٰمًاسوائے سلام
- وَلَهُمْاور ان کے لیے
- رِزْقُهُمْان کا رزق
- فِيْهَااس میں
- بُكْرَةًصبح
- وَّعَشِيًّااور شام
وہاں وہ کوئی بے ہودہ بات نہ سُنیں گے، جو کچھ بھی سُنیں گے ٹھیک ہی سنیں گے اور ان کا رزق انہیں پیہم صبح و شام ملتا رہے گاتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا﴿63﴾
- تِلْكَیہ
- الْجَنَّةُجنت
- الَّتِيْوہ جو کہ
- نُوْرِثُہم وارث بنائینگے
- مِنْسے ۔ کو
- عِبَادِنَااپنے بندے
- مَنْجو
- كَانَہوں گے
- تَقِيًّاپرہیزگار
یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اُس کو بنائیں گے جو پرہیزگار رہا ہےوَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ١ۚ لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِیًّاۚ﴿64﴾
- وَمَااور ہم
- نَتَنَزَّلُنہیں اترتے
- اِلَّامگر
- بِاَمْرِحکم سے
- رَبِّكَتمہارا رب
- لَهٗاس کے لیے
- مَا بَيْنَ اَيْدِيْنَاجو ہمارے ہاتھوں میں ( آگے)
- وَمَااور جو
- خَلْفَنَاہمارے پیچھے
- وَمَااور جو
- بَيْنَ ذٰلِكَاس کے درمیان
- وَمَااور نہیں
- كَانَہے
- رَبُّكَتمہارا رب
- نَسِيًّابھولنے والا
اے محمدؐ، ہم تمہارے رب کے حکم کے بغیر نہیں اُترا کرتے جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جو کچھ پیچھے ہے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے ہر چیز کا مالک وہی ہے اور تمہارا رب بھولنے والا نہیں ہےرَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ١ؕ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا۠ع﴿65﴾
- رَبُّ السَّمٰوٰتِآسمانوں کا رب
- وَالْاَرْضِاور زمین
- وَمَااور جو
- بَيْنَهُمَاان کے درمیان
- فَاعْبُدْهُپس اس کی عبادت کرو
- وَاصْطَبِرْاور ثابت قدم رہو
- لِعِبَادَتِهٖاس کی عبادت پر
- هَلْکیا
- تَعْلَمُتو جانتا ہے
- لَهٗاس کا
- سَمِيًّاہم نام کوئی
وہ رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور اُن ساری چیزوں کا جو آسمان و زمین کے درمیان ہیں پس تم اُس کے بندگی کرو اور اُسی کی بندگی پر ثابت قدم رہو کیا ہے کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ؟وَ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا﴿66﴾
- وَيَقُوْلُاور کہتا ہے
- الْاِنْسَانُانسان
- ءَ اِذَاکیا جب
- مَا مِتُّمیں مرگیا
- لَسَوْفَتو پھر
- اُخْرَجُمیں نکالا جاؤں گا
- حَيًّازندہ
انسان کہتا ہے کیا واقعی جب میں مر چکوں گا تو پھر زندہ کر کے نکال لایا جاؤں گا؟اَوَ لَا یَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ یَكُ شَیْئًا﴿67﴾
- اَوَکیا
- لَا يَذْكُرُیاد نہیں کرتا
- الْاِنْسَانُانسان
- اَنَّابیشک ہم
- خَلَقْنٰهُہم نے اسے پیدا کیا
- مِنْ قَبْلُاس سے قبل
- وَلَمْ يَكُجبکہ وہ نہ تھا
- شَيْئًاکچھ بھی
کیا انسان کو یاد نہیں آتا کہ ہم پہلے اس کو پیدا کر چکے ہیں جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا؟فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَ الشَّیٰطِیْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِیًّاۚ﴿68﴾
- فَوَرَبِّكَسو تمہارے رب کی قسم
- لَنَحْشُرَنَّهُمْہم انہیں ضرور جمع کریں گے
- وَالشَّيٰطِيْنَاور شیطان (جمع)
- ثُمَّپھر
- لَنُحْضِرَنَّهُمْہم انہیں ضرور حاضر کرلیں گے
- حَوْلَارد گرد
- جَهَنَّمَجہنم
- جِثِيًّاگھٹنوں کے بل گرے ہوئے
تیرے رب کی قسم، ہم ضرور ان سب کو اور ان کے ساتھ شیاطین کو بھی گھیر لائیں گے، پھر جہنم کے گرد لا کر انہیں گھٹنوں کے بل گرا دیں گےثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِیْعَةٍ اَیُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِیًّاۚ﴿69﴾
- ثُمَّپھر
- لَنَنْزِعَنَّضرور کھینچ نکالیں گے
- مِنْسے
- كُلِّہر
- شِيْعَةٍگروہ
- اَيُّهُمْجو ان میں سے
- اَشَدُّبہت زیادہ
- عَلَي الرَّحْمٰنِاللہ رحمن سے
- عِتِيًّاسرکشی کرنے والا
پھر ہر گروہ میں سے ہر اُس شخص کو چھانٹ لیں گے جو رحمان کے مقابلے میں زیادہ سرکش بنا ہُوا تھاثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِیًّا﴿70﴾
- ثُمَّپھر
- لَنَحْنُالبتہ
- اَعْلَمُخوب واقف
- بِالَّذِيْنَان سے جو
- هُمْوہ
- اَوْلٰى بِهَازیادہ مستحق اس میں
- صِلِيًّاداخل ہونا
پھر یہ ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے کون سب سے بڑھ کر جہنم میں جھونکے جانے کا مستحق ہےوَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا١ۚ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ﴿71﴾
- وَاِنْاور نہیں
- مِّنْكُمْتم میں سے
- اِلَّامگر
- وَارِدُهَایہاں سے گزرنا ہوگا
- كَانَہے
- عَلٰيپر
- رَبِّكَتمہارا رب
- حَتْمًالازم
- مَّقْضِيًّامقرر کیا ہوا
تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو جہنم پر وارد نہ ہو، یہ تو ایک طے شدہ بات ہے جسے پُورا کرنا تیرے رب کا ذمہ ہےثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا﴿72﴾
- ثُمَّپھر
- نُنَجِّيہم نجات دینگے
- الَّذِيْنَ اتَّقَوْاوہ جنہوں نے پرہیزگاری کی
- وَّنَذَرُاور ہم چھوڑ دینگے
- الظّٰلِمِيْنَظالم (جمع)
- فِيْهَااس میں
- جِثِيًّاگھٹنوں کے بل گرے ہوئے
پھر ہم اُن لوگوں کو بچا لیں گے جو (دنیا میں) متقی تھے اور ظالموں کو اُسی میں گرا ہُوا چھوڑ دیں گےوَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا١ۙ اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌ مَّقَامًا وَّ اَحْسَنُ نَدِیًّا﴿73﴾
- وَاِذَااور جب
- تُتْلٰىپڑھی جاتی ہیں
- عَلَيْهِمْان پر
- اٰيٰتُنَاہماری آیتیں
- بَيِّنٰتٍواضح
- قَالَکہتے ہیں
- الَّذِيْنَوہ جنہوں نے
- كَفَرُوْاکفر کیا
- لِلَّذِيْنَان سے جو
- اٰمَنُوْٓاوہ ایمان لائے
- اَيُّکون سا
- الْفَرِيْقَيْنِدونوں فریق
- خَيْرٌ مَّقَامًابہتر مقام
- وَّاَحْسَنُاور اچھی
- نَدِيًّامجلس
اِن لوگوں کو جب ہماری کھُلی کھُلی آیات سنائی جاتی ہیں تو انکار کرنے والے ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں "بتاؤ ہم دونوں گروہوں میں سے کون بہتر حالت میں ہے اور کس کی مجلسیں زیادہ شاندار ہیں؟"وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّ رِءْیًا﴿74﴾
- وَكَمْاور کتنے ہی
- اَهْلَكْنَاہم ہلاک کرچکے
- قَبْلَهُمْان سے پہلے
- مِّنْ قَرْنٍگروہوں میں سے
- هُمْوہ
- اَحْسَنُبہت اچھے
- اَثَاثًاسامان
- وَّرِءْيًااور نمود
حالانکہ ان سے پہلے ہم کتنی ہی ایسی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں جو اِن سے زیادہ سر و سامان رکھتی تھیں اور ظاہری شان و شوکت میں اِن سے بڑھی ہوئی تھیںقُلْ مَنْ كَانَ فِی الضَّلٰلَةِ فَلْیَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا١ۚ۬ حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَةَ١ؕ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضْعَفُ جُنْدًا﴿75﴾
- قُلْکہہ دیجئے
- مَنْ كَانَجو ہے
- فِي الضَّلٰلَةِگمراہی میں
- فَلْيَمْدُدْتو ڈھیل دے رہا ہے
- لَهُاس کو
- الرَّحْمٰنُاللہ
- مَدًّاخوب ڈھیل
- حَتّٰٓيیہاں تک کہ
- اِذَاجب
- رَاَوْاوہ دیکھیں گے
- مَا يُوْعَدُوْنَجس کا وعدہ کیا جاتا ہے
- اِمَّاخواہ
- الْعَذَابَعذاب
- وَاِمَّااور خواہ
- السَّاعَةَقیامت
- فَسَيَعْلَمُوْنَپس اب وہ جان لیں گے
- مَنْکون
- هُوَوہ
- شَرٌّ مَّكَانًابدتر مقام
- وَّاَضْعَفُاور کمزور تر
- جُنْدًالشکر
اِن سے کہو، جو شخص گمراہی میں مُبتلا ہوتا ہے اُسے رحمان ڈھیل دیا کرتا ہے یہاں تک کہ جب ایسے لوگ وہ چیز دیکھ لیتے ہیں جس کا اُن سے وعدہ کیا گیا ہے خواہ وہ عذاب الٰہی ہو یا قیامت کی گھڑی تب انہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ کس کا حال خراب ہے اور کس کا جتھا کمزور!وَ یَزِیْدُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا هُدًى١ؕ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ مَّرَدًّا﴿76﴾
- وَيَزِيْدُاور زیادہ دیتا ہے
- اللّٰهُاللہ
- الَّذِيْنَ اهْتَدَوْاجن لوگوں نے ہدایت حاصل کی
- هُدًىہدایت
- وَالْبٰقِيٰتُاور باقی رہنے والی
- الصّٰلِحٰتُنیکیاں
- خَيْرٌبہتر
- عِنْدَ رَبِّكَتمہارے رب کے نزدیک
- ثَوَابًاباعتبار ثواب
- وَّخَيْرٌاور بہتر
- مَّرَدًّاباعتبار انجام
اس کے برعکس جو لوگ راہِ راست اختیار کرتے ہیں اللہ ان کو راست روی میں ترقی عطا فرماتا ہے اور باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیرے رب کے نزدیک جزا اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہیںاَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ كَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًاؕ﴿77﴾
- اَفَرَءَيْتَپس کیا تونے دیکھا
- الَّذِيْوہ جس نے
- كَفَرَانکار کیا
- بِاٰيٰتِنَاہمارے حکموں کا
- وَقَالَاور اس نے کہا
- لَاُوْتَيَنَّمیں ضرور دیا جاؤں گا
- مَالًامال
- وَّوَلَدًااور اولاد
پھر تو نے دیکھا اُس شخص کو جو ہماری آیات کو ماننے سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تو مال اور اولاد سے نوازا ہی جاتا رہوں گا؟اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۙ﴿78﴾
- اَطَّلَعَکیا وہ مطلع ہوگیا ہے
- الْغَيْبَغیب
- اَمِیا
- اتَّخَذَاس نے لے لیا
- عِنْدَ الرَّحْمٰنِاللہ رحمن سے
- عَهْدًاکوئی عہد
کیا اسے غیب کا پتہ چل گیا ہے یا اس نے رحمان سے کوئی عہد لے رکھا ہے؟كَلَّا١ؕ سَنَكْتُبُ مَا یَقُوْلُ وَ نَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّاۙ﴿79﴾
- كَلَّاہرگز نہیں
- سَنَكْتُبُاب ہم لکھ لیں گے
- مَا يَقُوْلُوہ جو کہتا ہے
- وَنَمُدُّاور ہم بڑھا دینگے
- لَهٗاس کو
- مِنَ الْعَذَابِعذاب سے
- مَدًّااور لمبا
ہرگز نہیں، جو کچھ یہ بکتا ہے اسے ہم لکھ لیں گے اور اس کے لیے سزا میں اور زیادہ اضافہ کریں گےوَّ نَرِثُهٗ مَا یَقُوْلُ وَ یَاْتِیْنَا فَرْدًا﴿80﴾
- وَّنَرِثُهٗاور ہم وارث ہوں گے
- مَا يَقُوْلُجو وہ کہتا ہے
- وَيَاْتِيْنَااور وہ ہمارے پاس آئیگا
- فَرْدًااکیلا
جس سر و سامان اور لاؤ لشکر کا یہ ذکر کر رہا ہے وہ سب ہمارے پاس رہ جائے گا اور یہ اکیلا ہمارے سامنے حاضر ہوگاوَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّیَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّاۙ﴿81﴾
- وَاتَّخَذُوْااور انہوں نے بنالیا
- مِنْ دُوْنِ اللّٰهِاللہ کے سوا
- اٰلِهَةًمعبود
- لِّيَكُوْنُوْاتاکہ وہ ہوں
- لَهُمْان کے لیے
- عِزًّاموجب عزت
اِن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے کچھ خدا بنا رکھے ہیں تاکہ وہ اِن کے پشتیبان ہوںكَلَّا١ؕ سَیَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَ یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِمْ ضِدًّا۠ع﴿82﴾
- كَلَّاہرگز نہیں
- سَيَكْفُرُوْنَجلد ہی وہ انکار کرینگے
- بِعِبَادَتِهِمْان کی بندگی سے
- وَيَكُوْنُوْنَاور ہوجائیں گے
- عَلَيْهِمْان کے
- ضِدًّامخالف
کوئی پشتیبان نہ ہوگا وہ سب ان کی عبادت کا انکار کریں گے اور الٹے اِن کے مخالف بن جائیں گےاَلَمْ تَرَ اَنَّاۤ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ تَؤُزُّهُمْ اَزًّاۙ﴿83﴾
- اَلَمْ تَرَکیا تم نے نہیں دیکھا
- اَنَّآ اَرْسَلْنَابیشک ہم نے بھیجے
- الشَّيٰطِيْنَشیطان (جمع)
- عَلَيپر
- الْكٰفِرِيْنَکافر (جمع)
- تَؤُزُّهُمْاکساتے ہیں انہیں
- اَزًّاخوب اکسانا
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ ہم نے اِن منکرین حق پر شیاطین چھوڑ رکھے ہیں جو اِنہیں خُوب خُوب (مخالفتِ حق پر) اکسا رہے ہیں؟فَلَا تَعْجَلْ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّاۚ﴿84﴾
- فَلَا تَعْجَلْسو تم جلدی نہ کرو
- عَلَيْهِمْان پر
- اِنَّمَاصرف
- نَعُدُّہم گنتی پوری کر رہے ہیں
- لَهُمْان کی
- عَدًّاگنتی
اچھا، تو اب اِن پر نزول عذاب کے لیے بیتاب نہ ہو ہم اِن کے دن گن رہے ہیںیَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًاۙ﴿85﴾
- يَوْمَجس دن
- نَحْشُرُہم جمع کرلیں گے
- الْمُتَّقِيْنَپرہیزگار (جمع)
- اِلَى الرَّحْمٰنِرحمن کی طرف
- وَفْدًامہمان بنا کر
وہ دن آنے والا ہے جب متقی لوگوں کو ہم مہمانوں کی طرح رحمان کے حضور پیش کریں گےوَّ نَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًاۘ﴿86﴾
- وَّنَسُوْقُاور ہانک کرلے جائیں گے
- الْمُجْرِمِيْنَگنہ گار (جمع)
- اِلٰىطرف
- جَهَنَّمَجہنم
- وِرْدًاپیاسے
اور مجرموں کو پیاسے جانوروں کی طرح جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گےلَا یَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۘ﴿87﴾
- لَا يَمْلِكُوْنَوہ اختیار نہیں رکھتے
- الشَّفَاعَةَشفاعت
- اِلَّاسوائے
- مَنِ اتَّخَذَجس نے لیا ہو
- عِنْدَ الرَّحْمٰنِرحمن کے پاس
- عَهْدًااقرار
اُس وقت لوگ کوئی سفارش لانے پر قادر نہ ہوں گے بجز اُس کے جس نے رحمان کے حضور سے پروانہ حاصل کر لیا ہووَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًاؕ﴿88﴾
- وَقَالُوااور وہ کہتے ہیں
- اتَّخَذَبنالیا ہے
- الرَّحْمٰنُرحمن
- وَلَدًابیٹا
وہ کہتے ہیں کہ رحمان نے کسی کو بیٹا بنایا ہےلَقَدْ جِئْتُمْ شَیْئًا اِدًّاۙ﴿89﴾
- لَقَدْ جِئْتُمْتحقیق تم لائے ہو
- شَيْئًاایک بات
- اِدًّابری
سخت بیہودہ بات ہے جوتم لوگ گھڑ لائے ہوتَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّاۙ﴿90﴾
- تَكَادُقریب ہے
- السَّمٰوٰتُآسمان
- يَتَفَطَّرْنَپھٹ پڑیں
- مِنْهُاس سے
- وَتَنْشَقُّاور ٹکڑے ٹکرے
- الْاَرْضُزمین
- وَتَخِرُّاور گرپڑیں
- الْجِبَالُپہاڑ
- هَدًّاپارہ پارہ
قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں، زمین شق ہو جائے اور پہاڑ گر جائیںاَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًاۚ﴿91﴾
- اَنْ دَعَوْاکہ انہوں نے پکارا (منسوب کیا)
- لِلرَّحْمٰنِاللہ کے لیے
- وَلَدًابیٹا
اس بات پر کہ لوگوں نے رحمان کے لیے اولاد ہونے کا دعویٰ کیا!وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًاؕ﴿92﴾
- وَمَاجبکہ نہیں
- يَنْۢبَغِيْشایان
- لِلرَّحْمٰنِرحمن کے لیے
- اَنْ يَّتَّخِذَکہ وہ بنائے
- وَلَدًابیٹا
رحمان کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کسی کو بیٹا بنائےاِنْ كُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًاؕ﴿93﴾
- اِنْ كُلُّنہیں تمام۔ کوئی
- مَنْجو
- فِي السَّمٰوٰتِآسمانوں میں
- وَالْاَرْضِاور زمین
- اِلَّآ اٰتِيمگر آتا ہے
- الرَّحْمٰنِرحمن
- عَبْدًابندہ
زمین اور آسمان کے اندر جو بھی ہیں سب اس کے حضور بندوں کی حیثیت سے پیش ہونے والے ہیںلَقَدْ اَحْصٰىهُمْ وَ عَدَّهُمْ عَدًّاؕ﴿94﴾
- لَقَدْ اَحْصٰىهُمْاس نے ان کو گھیر لیا ہے
- وَعَدَّهُمْاور ان کا شمار کرلیا ہے
- عَدًّاگن کر
سب پر وہ محیط ہے اور اس نے اُن کو شمار کر رکھا ہےوَ كُلُّهُمْ اٰتِیْهِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَرْدًا﴿95﴾
- وَكُلُّهُمْاور ان میں سے ہر ایک
- اٰتِيْهِآئیگا اس کے سامنے
- يَوْمَ الْقِيٰمَةِقیامت کے دن
- فَرْدًااکیلا
سب قیامت کے روز فرداً فرداً اس کے سامنے حاضر ہوں گےاِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا﴿96﴾
- اِنَّبیشک
- الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاجو لوگ ایمان لائے
- وَعَمِلُوااور انہوں نے عمل کیے
- الصّٰلِحٰتِنیک
- سَيَجْعَلُپیدا کردے گا
- لَهُمُان کے لیے
- الرَّحْمٰنُرحمن
- وُدًّامحبت
یقیناً جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور عمل صالح کر رہے ہیں عنقریب رحمان اُن کے لیے دلوں میں محبت پیدا کر دے گافَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِیْنَ وَ تُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا﴿97﴾
- فَاِنَّمَاپس اس کے سوا نہیں
- يَسَّرْنٰهُہم نے اسے آسان کردیا ہے
- بِلِسَانِكَآپ کی زبان پر
- لِتُبَشِّرَ بِهِتاکہ آپ خوشخبری دیں اس کے ساتھ
- الْمُتَّقِيْنَپرہیزگاروں
- وَتُنْذِرَ بِهٖاور ڈرائیں اس سے
- قَوْمًا لُّدًّاجھگڑالو لوگ
پس اے محمدؐ، اِس کلام کو ہم نے آسان کر کے تمہاری زبان میں اسی لیے نازل کیا ہے کہ تم پرہیز گاروں کو خوشخبری دے دو اور ہٹ دھرم لوگوں کو ڈرا دووَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ١ؕ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا۠ع﴿98﴾
- وَكَمْاور کتنے ہی
- اَهْلَكْنَاہم نے ہلاک کردئیے
- قَبْلَهُمْان سے قبل
- مِّنْسے
- قَرْنٍگروہ
- هَلْکیا
- تُحِسُّتم دیکھتے ہو
- مِنْهُمْان سے
- مِّنْ اَحَدٍکوئی۔ کسی کو
- اَوْ تَسْمَعُیا تم سنتے ہو
- لَهُمْان کی
- رِكْزًاآہٹ
ان سے پہلے ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں، پھر آج کہیں تم ان کا نشان پاتے ہو یا اُن کی بھنک بھی کہیں سنائی دیتی ہے؟