آسان قرآن
Aasan Quran · 48. Al-Fath · Ayah 22
وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا﴿22﴾
- وَلَوْ قٰتَلَكُمُاور اگر تم سے لڑتے
- الَّذِيْنَوہ جنہوں نے
- كَفَرُوْاکفر کیا (کافر)
- لَوَلَّوُاالبتہ وہ پھیرتے
- الْاَدْبَارَپیٹھ (جمع)
- ثُمَّ لَا يَجِدُوْنَپھر وہ نہ پاتے
- وَلِيًّاکوئی دوست
- وَّلَا نَصِيْرًااور نہ کوئی مددگار
Translation · Aasan Quran
اور یہ کافر لوگ تم سے لڑتے تو یقینا پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے، پھر انہیں کوئی یار و مددگار بھی نہ ملتا۔ (20)
Tafseer · Aasan Quran
20: یعنی حدیبیہ کے مقام پر کافروں سے جو صلح کرائی گئی، اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ مسلمان کمزور تھے، اور جنگ کی صورت میں انہیں شکست اٹھانی پڑتی، بلکہ اگر مقابلہ ہوجاتا تو یہ کافر ہی شکست کھاتے، اور پیٹھ پھیر کر بھاگتے، لیکن اس وقت کئی مصلحتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے جنگ کو روکا تھا، ان میں سے ایک مصلحت کا بیان آگے آیت نمبر 25 میں آرہا ہے۔