Al-Quran-al-Kareem - Al-Mulk : 16
ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ
ءَاَمِنْتُمْ : کیا بےخوف ہوگئے تم مَّنْ : اس سے جو فِي السَّمَآءِ : آسمان میں ہے اَنْ يَّخْسِفَ : کہ دھنسا دے بِكُمُ الْاَرْضَ : تم کو زمین میں فَاِذَا هِيَ : تو اچانک وہ تَمُوْرُ : لرزنے لگے۔ پھٹ جائے
کیا تم اس سے بےخوف ہوگئے ہو جو آسمان میں ہے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسادے، تو اچانک وہ حرکت کرنے لگے ؟
1۔ ئَ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآئِ اَنْ یَّخْسِفَ بِکُمُ الْاَرْضَ۔۔۔۔:”تمور“ حرکت کرنے لگے ، یعنی زبردست زلزلے سے لرزنے لگے۔ (دیکھئے طور : 9) پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات کا ذکر فرمایا تھا اور اس آیت میں اپنی شان قہاریت کا اظہار کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ زمین اگرچہ تمہارے تابع کردی گئی ہے کہ تم جیسے چاہو اس میں تصرف کرسکو، لیکن یاد رکھو کہ یہ اسی آسمان والے کی ملکیت ہے ، وہ چاہے تو تمہیں اس کے اندر دھنسا دے (جس طرح قارون کو دھنا دیا ، دیکھئے قصص : 81) اور چاہے تو بھونچا سے لرزنے لگے ، لہٰذا اس پر سرکش و خود مختار ہو کر نہیں بلکہ فرما برداروں کی طرح ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرو۔ (اشرف الحواشی) اس آیت کا اور اس کے بعد والی آیت کا مفہوم سورة ٔ انعام (65) اور سورة ٔ کہف (68، 69) میں بیان ہوا ہے۔ 2۔ ئَ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآئِ :”السمائ“ ”سمو“ سے مشتق ہے ، جس کا معنی بلندی ہے۔ ہر وہ چیز جو اوپر ہوا سے ”سماء“ کہہ لیتے ہیں۔ ان دونوں آیات سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اوپر کی طرف ہے۔ قرآن مجید نے کئی مقامات پر رحمان کا عرش پر ہونا بیان فرمایا ہے۔ معاویہ بن حکم سلمی ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اپنی لونڈی کے متعلق پوچھا کہ کیا میں اسے آزاد کر دوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :(ائتنی بھا)”اسے میرے پاس لاؤ“۔ میں اسے آپ کے پاس لے کر آیا تو آپ نے اس سے پوچھا :(این اللہ ؟) ”اللہ کہاں ہے ؟“ اس نے کہا :(فی السمائ)”آسمان میں“۔ آپ ﷺ نے فرمایا :(من آنا ؟) میں کون ہوں ؟“ اس نے کہا : (انت رسول اللہ)”آپ اللہ کے رسول ہیں“۔ آپ ﷺ نے فرمایا :(اعتقھا فانھا مومنۃ) (مسلم ، المساجد ، باب تحریم الکلام فی الصلاۃ۔۔۔۔ 537)”اسے آزاد کر دو ، یہ مومنہ ہے۔“ تمام سلف صالحین کا یہی عقیدہ ہے ، بعد کے لوگ جو یونانی فلسفے سے متاثر ہوگئے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی صفت علو (اوپر ہونے کی صفت) کا انکار کردیا ، کسی نے کہاوہ لا مکان ہے ، کسی نے کہا وہ ہر جگہ ہے اور قرآن و حدیث کی صاف نصوص کی تاویل کی۔ بعض لوگ تو یہاں تک پہنتچ گئے کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ سوال ہی کفر ہے کہ اللہ تعالیٰ کہاں ہے ؟ انہوں نے یہ خیال نہ کیا کہ یہ سوال تو خود رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے اور اس کے جواب میں بھی اللہ تعالیٰ کے آسمانوں پر ہونے کے عقیدے کو آپ نے ایمان قرار دیا ہے۔ (دیکھئے مسلم : 537) تو کیا نعوذ باللہ یہ فتویٰ رسول اللہ ﷺ پر بھی لگایا جائے گا ؟ قرآن مجید ”ئَ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآئِ“ میں اللہ تعالیٰ کا آسمان پر ہونا فرما رہا ہے اور یہ بات انسان کی فطرت میں رکھ دی گئی ہے کہ وہ دذعا کرتا ہے تو آسمان کی طرف نگاہ اٹھاتا ہے ، مگر فلسفے کے مارے ہوئے یہ حضرات کبھی کہتے ہیں کہ اس کا مطلب تو پھر یہ ہوا کہ وہ آسمانوں پر بیٹھا ہوا ہے ، کبھی کہتے ہیں کہ پھر کیا وہ آسمان میں رہتا ہے ؟ اس طرح تو وہ آسمان کا محتاج ہوا جبکہ آسمان و زمین خود اس نے پیدا کیے ہیں۔ حالانکہ سلف صالحین کے عقیدہ کے مطابق وہ لفظ اللہ تعالیٰ کے متعلق استعمال کرنا جائز نہیں جو اس نے خود اپنے متعلق استعمال نہ کیا ہو۔ اب یہ کس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کھڑا ہے یا بیٹھا ہے ؟ قرآن و حدیث سے اللہ تعالیٰ کی بلندی کی جانب ہونا اور عرش پر ہونا ثابت ہے ، اس کی کیفیت کسی کو معلوم نہیں اور وہ عرش کا یا بلندی کا محتاج نہیں بلکہ اس کے عرش پر ہونے کے باوجود عرش خود اس کا محتاج ہے اور اس نے عرش اور آسمان و زمین کو تھام رکھا ہے۔ مخلوق میں کئی چیزیں ہیں جو اوپر ہیں ، مگر ان کے نیچے کی چیزیں اپنے قیام میں ان کی محتاج ہیں ، اللہ تعالیٰ کی مثال تو اس سے بہت بلند ہے۔ مومن جب بھی اللہ تعالیٰ کا تصور کرتا ہے اس سے دعا کرتا ہے ، تو اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کا پروردگار آسمانوں کے اوپر عرش پر ہے اور اسے اپنے رب سے تعلق جوڑنے میں کوئی الجھن نہیں ہوتی۔ تاویلوں کی مصیبت میں پھنسے ہوئے لوگ یہ فیصلہ ہی نہیں کر پاتے کہ ان کا رب کہاں ہے جس کی طرف وہ توجہ کریں۔ وہ لا مکان کے چکر ہی سے نہیں نکل سکتے۔ اسلام کے فطری اور سادہ عقائد کو چھوڑ کر فلسفی بھول بھلیاں اختیار کرنے کا یہی انجام ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ فجر (22) کی تفسیر۔
Top