Tafseer-e-Madani - Al-Mulk : 16
ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ
ءَاَمِنْتُمْ : کیا بےخوف ہوگئے تم مَّنْ : اس سے جو فِي السَّمَآءِ : آسمان میں ہے اَنْ يَّخْسِفَ : کہ دھنسا دے بِكُمُ الْاَرْضَ : تم کو زمین میں فَاِذَا هِيَ : تو اچانک وہ تَمُوْرُ : لرزنے لگے۔ پھٹ جائے
کیا تم لوگ نڈر (اور بےخوف) ہوگئے ہو اس سے جو کہ آسمان میں (بھی معبود و متصرف) ہے اس بات سے کہ وہ تمہیں دھنسا دے (تمہارے اپنے زیر پا افتادہ) اسی زمین میں پھر یکایک یہ (عظیم الشان کرہ) ہچکو لے کھانے لگے ؟
22 بےفکری اور لاپرواہی پر تنبیہہ و تذکیر کا ذکر وبیان : سو غافل لوگوں کے قلوب و ضمائر کو جھنجھوڑتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگ آسمان والے سے اس بارے نڈر ہوگئے ہو کہ وہ تمہیں دھنسا دے زمین میں پھر وہ یکایک ہچکولے کھانے لگے ؟ استفہام یہاں پر انکاری ہے ‘ یعنی تم کو اس ذات اقدس و اعلیٰ کی گرفت و پکڑ سے بےفکر اور بےخوف نہیں ہونا چاہئے کہ وہ تم کو آخرت کے اس ہولناک عذاب سے پہلے اس دنیا میں بھی اس طرح کے کسی بھی عذاب میں ‘ کسی بھی وقت پکڑ سکتا ہے کہ وہ غفور و رحیم اور ستار و کریم ہونے کے ساتھ ساتھ جبار وقہار اور عزیز ذوانتقام بھی ہے ‘ سبحانہ و تعالی۔ٰ سو کسی کو اپنی طاقت و قوت اور اپنے ذرائع و وسائل پہ اتنا غرہ نہیں ہونا چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کدھر سے آأے گا ؟ کون لائے گا ؟ سو کسی کو اس خدائے پاک کی اس عظیم الشان ہستی سے نچنت اور بےخوف نہیں ہوجانا چاہئے جو کہ آسمان میں ہے ‘ وہ اگر چاہے تو اسی زمین کو تمہارے لئے باعث عذاب بنادے ‘ جس کو اس نے نافہ ذنول (فرمانبردار اونٹنی) کی طرح تمہارے کام میں لگا رکھا ہے کہ اس کی باگ ڈور تو بہرحال اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ‘ وہ اگر اس کی باگ ذرہ ڈھیلی کردے سبحانہ و تعالیٰ تو یہ تم سب کو لے کر اس طرح بھاگ کھڑی ہو کہ کسی کے سنبھالے نہ سنبھلے ‘ اور کسی کے روکے نہ رکے ‘ سو عقل و خرد کا تقاضا یہی ہے کہ انسان نچنت اور بےفکر ہونے کی بجائے ہمیشہ اس کی گرفت و پکڑ سے بچنے کی فکر و کوشش کرے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔
Top