Tadabbur-e-Quran - Al-Mulk : 16
ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ
ءَاَمِنْتُمْ : کیا بےخوف ہوگئے تم مَّنْ : اس سے جو فِي السَّمَآءِ : آسمان میں ہے اَنْ يَّخْسِفَ : کہ دھنسا دے بِكُمُ الْاَرْضَ : تم کو زمین میں فَاِذَا هِيَ : تو اچانک وہ تَمُوْرُ : لرزنے لگے۔ پھٹ جائے
کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے نچنت ہوگئے کہ وہ تمہارے سمیت زمین کو دھنسا دے اور وہ وقعتا بگئٹ چل پڑے
ایک مور ناتواں کے لیے اپنی ہستی پر غرور جائز نہیں: اوپر کی آیت میں انسان کی ناتوانی اور بے حقیقتی کا جو ذکر ہے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ تنبیہ ہے کہ جو انسان اس زمین کے وسیع و عریض اطراف و اکناف میں جوؤں کی طرح رینگ رہا ہے اس کو اپنی طاقت اور اپنے وسائل پر اتنا غرہ نہیں ہونا چاہیے کہ اسے خدا کے عذاب سے ڈرایا جائے تو وہ اس کا مذاق اڑائے کہ اس پر کدھر سے عذاب آئے گا اور کون عذاب لائے گا! فرمایا کہ کیا تم اس عظیم ہستی سے جو آسمانوں میں ہے بالکل بے خوف اور نچنت ہو گئے کہ وہ زمین کو تمہارے سمیت دھنسا دے اور وہ بالکل بَگ ٹُٹ ہو کر کسی سمت کو چل پڑے! ’مُوْرٌ‘ کے معنی تیزی سے حرکت کرنے کے ہیں، جیسا کہ ’یَوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًا‘ (الطور ۵۲: ۹) سے واضح ہے۔ اس کے مختلف ترجمے لوگوں نے کیے ہیں لیکن میرا ذہن بار بار اس طرف جاتا ہے کہ یہاں یہ بَگ ٹُٹ چل پڑنے کے معنی میں ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ’مور‘ کے اصل معنی حرکت سریع ہی کے ہیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اوپر اس زمین کو ناقۂ ذلول (فرماں بردار اونٹنی) سے تشبیہ دی ہے۔ اس تعلق سے دیکھیے تو یہ معنی یہاں زیادہ موزوں معلوم ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ تو خدا کی عنایت ہے کہ اس نے زمین کو تمہارے لیے مسخر کر رکھا ہے اور وہ تمہاری خدمت کے لیے ایک فرماں بردار اونٹنی بنی ہوئی ہے لیکن خدا اس کی باگ ذرا ڈھیلی کر دے تو پھر دیکھو وہ کس طرح بھاگ کھڑی ہوتی ہے کہ کسی کے سنبھالے نہ سنبھلے۔
Top