Tafseer-e-Mazhari - Al-Mulk : 16
ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ
ءَاَمِنْتُمْ : کیا بےخوف ہوگئے تم مَّنْ : اس سے جو فِي السَّمَآءِ : آسمان میں ہے اَنْ يَّخْسِفَ : کہ دھنسا دے بِكُمُ الْاَرْضَ : تم کو زمین میں فَاِذَا هِيَ : تو اچانک وہ تَمُوْرُ : لرزنے لگے۔ پھٹ جائے
کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے بےخوف ہو کہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے
ء امنتم من فی السماء . حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : کیا بصورت نافرمانی ان کو اس (خدا) کے عذاب کا جو آسمان میں ہے ‘ ڈر نہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : روزانہ جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے ‘ اللہ نچلے آسمان کی طرف نزول فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے کوئی ہے مجھ سے دعا کرنے والا کہ میں اس کی دعا قبول کروں ‘ کوئی ہے مجھ سے مانگنے والا کہ میں اس کو عطا کروں ‘ کوئی ہے مجھ سے معافی مانگنے والا کہ میں اس کے گناہ معاف کروں (بخاری و مسلم) مسلم کی روایت میں اتنا اور بھی ہے کہ پھر اللہ اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر فرماتا ہے : کون عرض کرتا ہے اس خدا سے جو نہ نادار ہے ‘ نہ حق تلفی کرنے والا (ندائے رحمت کا) یہ سلسلہ فجر ہونے تک جاری رہتا ہے (اس روایت کی روشنی میں بغیر کسی تاویل و توجیہ کے) یہ آیت متشابہات میں سے ہے کیونکہ اللہ (مادیت سے منزہ ہونے کی وجہ سے) آسمان میں سکونت پذیر اور مکان گیر ہونے سے پاک ہے۔ اس لیے سلف نے اس آیت کی توضیح کرنے سے سکوت اختیار کیا ہے صوفیہ کا اس جگہ بھی وہی قول ہے جو آیت : یاتیھم اللہ فی ظلل من الغمام کی تفسیر میں ہم نے ذکر کردیا ہے۔ علماء متاخرین نے آیت کی مختلف تاویلیں کی ہیں مثلاً اللہ کا حکم ‘ اللہ کا فیصلہ آسمانوں میں جاری ہے یا یوں کہا جائے کہ عرب کے گمان کے موافق آیت کا نزول ہوا (عرب خدا کو آسمانوں میں خیال کرتے تھے) یا سماء سے آسمان مراد نہیں ہے بلکہ بلندی مراد ہے مگر بلندی بھی مکانی نہیں بلکہ مرتبہ کے لحاظ سے یعنی اللہ اونچے مرتبہ پر ہے۔ استفہام بہرحال انکاری ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ من فی السماء سے اللہ نہیں بلکہ وہ فرشتے مراد ہیں جن کے ذمہ انتظام امور ہے ‘ ان کی حیثیت (مادی) اسباب و ذرائع کی ہے زمین کو دھنسانے اور سنگ بار طوفان لانے کے لیے وہ (غیبی) کارندے ہیں۔ ان یخسف بکم الارض یعنی کیا ان کو ڈر نہیں کہ اللہ ان کو زمین میں دھنسا دے اور زمین کے اندر چھپا دے۔ جیسا قارون کو دھنسا دیا ہے۔ فاذاھی تمور . اذا مفاجات (ناگہاں ‘ اچانک) کے لیے ہے اور تمود کا معنی ہے ہلکنے لگے ‘ زمین میں زلزلہ آ جائے یعنی اچانک زمین میں لرزہ پیدا ہوجائے (اور اللہ کافروں و کو زمین کے اندر دھنسا دے) ۔
Top