Dure-Mansoor - Al-Mulk : 16
ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ
ءَاَمِنْتُمْ : کیا بےخوف ہوگئے تم مَّنْ : اس سے جو فِي السَّمَآءِ : آسمان میں ہے اَنْ يَّخْسِفَ : کہ دھنسا دے بِكُمُ الْاَرْضَ : تم کو زمین میں فَاِذَا هِيَ : تو اچانک وہ تَمُوْرُ : لرزنے لگے۔ پھٹ جائے
کیا تم اس سے نڈر ہوگئے جو آسمان میں ہے کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے پھر وہ زمین تھرتھرانے لگے
7۔ طبرانی وابن عدی والبیہقی فی شعب الایمان والحکیم الترمذی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پیشہ ور مومن بندے کو پسند فرماتے ہیں۔ 8۔ الحکیم الترمذی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پیشہ ور بندے کو پسند فرماتے ہیں 9۔ الحکیم الترمذی نے معاویہ بن قرح (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ ایک قوم پہ گذرے پوچھا تم کون ہو انہوں نے کہا ہم توکل کرنے والے ہیں یعنی اللہ پر بھروسہ کرنے والے آپ ؓ نے فرمایا تم کھانے والے ہو پھر فرمایا متوکل وہ آدمی ہے جو زمین کی مٹی میں دانہ ڈال دیتا ہے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتا ہے۔ 10۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیاء امنتم من فی السماء کیا تم اس سے نہیں ڈرتے جو آسمانوں میں ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے آیت فاذا ہی تمور بس اچانک وہ لرزنے لگے۔ یعنی زمین کے بعض حصوں کا بعض کے اوپر حرکت کرنا اور اس کا گھومنا اور فرمایا آیت اولم یروا الی الطیر فوقہم صفت۔ کیا انہوں نے اپنے اوپر پرندوں کو پر کھولتے ہوئے نہیں دیکھا۔ یعنی پرندے پروں کو پھیلاتے ہیں۔ آیت ویقبضن اور سکیڑتے ہیں یعنی اپنے پروں کو مارتے ہیں۔ پہلوؤں کے ساتھ۔ 11۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) نے ان سے آیت الا فی غرور کے بارے میں سوال کیا۔ فرمایا اس سے مراد ہے باطل یعنی وہ باطل میں ہیں۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے حسان کا قول نہیں سنا تمنتک الامانی من بعید وقل الکفر یرجع فی غرور ترجمہ : تو نے دور تمناؤں اور آرزؤوں کا ارادہ کیا ہے اور کفر کا قول باطل میں لوٹتا ہے
Top