Tafseer-e-Majidi - Al-Mulk : 16
ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ
ءَاَمِنْتُمْ : کیا بےخوف ہوگئے تم مَّنْ : اس سے جو فِي السَّمَآءِ : آسمان میں ہے اَنْ يَّخْسِفَ : کہ دھنسا دے بِكُمُ الْاَرْضَ : تم کو زمین میں فَاِذَا هِيَ : تو اچانک وہ تَمُوْرُ : لرزنے لگے۔ پھٹ جائے
کیا تم اس سے نڈر ہوگئے ہو کہ جو آسمان میں ہے، وہ کہیں تم کو زمین میں دھنسا نہ دے اور وہ تھر تھرانے لگے ؟ ،12۔
12۔ یعنی کیا تم نے اپنے کو عذاب الہی کی گرفت سے محفوظ ومصؤن سمجھ لیا ہے ؟ اگر ایسا ہے تو یہ مجرمانہ غفلت کیا انتہاء ہے۔ (آیت) ” من فی السمآء “۔ سے یہ مراد تو ہو ہی نہیں سکتی کہ وہ آسمان پر کہیں بیٹھا ہوا ہے۔ وھذا لایۃ لایمکن اجراؤھا علی ظاھرھا باتفاق المسلمین (کبیر) مراد وہ ذات اعظم ہے جس کا حکم و تصرف آسمان پر چل رہا ہے۔ تقدیر الایۃ من فی السماء سلطانہ ومل کہ قدرتہ والغرض من ذکر السمآء تفخیم سلطان اللہ تعظیم قدرتہ (کبیر) اے من ملکوتہ فی السمآء لانھا مسکن ملائکتہ ومنھا تنزل قضایاہ وکتبہ واوامرۂ ونواھیہ (مدارک) بعض نے (آیت) ” من فی السمآء “۔ سے مراد آسمانی ملائکہ عذاب سے لی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ (آیت) ” السماء کا لفظ محض جہت علو اور غایت شرف کے اظہار کے لئے ہو۔
Top