Anwar-ul-Bayan - Ash-Shura : 30
وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ
وَمَآ اَصَابَكُمْ : اور جو بھی پہنچتی ہے تم کو مِّنْ : کوئی مُّصِيْبَةٍ : مصیبت فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ : پس بوجہ اس کے جو کمائی کی تمہارے ہاتھوں نے وَيَعْفُوْا : اور وہ درگزر کرتا ہے عَنْ كَثِيْرٍ : بہت سی چیزوں سے
اور تمہیں جو بھی کوئی مصیبت پہنچ جائے سو وہ تمہارے اپنے اعمال کی وجہ سے ہے اور وہ بہت کچھ معاف فرما دیتا ہے۔
جو بھی کوئی مصیبت تمہیں پہنچتی ہے تمہارے اعمال کی وجہ سے ہے پھر فرمایا کہ تم سے جس کسی کو جو بھی کوئی تکلیف پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے اعمال کی وجہ سے پہنچ جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ ہر گناہ پر تکلیف نہیں بھیجتا اگر ہر گناہ کی وجہ سے مصیبت بھیجی جائے تو ہوسکتا ہے کہ آرام و راحت کا نمبر ہی نہ آئے بہت سے گناہوں سے اللہ تعالیٰ در گزر فرماتا ہے لہٰذا ان کی وجہ سے کوئی مصیبت نہیں آتی۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کسی بھی بندہ کو کوئی ذرا سی تکلیف یا بڑی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو وہ گناہ کی وجہ سے ہوتی ہے، اور اللہ تعالیٰ جن گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے وہ ان گناہوں سے زیادہ ہوتے ہیں جن پر مواخذہ ہوتا ہے۔ (رواہ الترمذی) اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ مومن مرد اور مومن عورت کو جان و مال اور اولاد میں تکلیف پہنچتی رہتی ہے یہاں تک کہ جب وہ (قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا تو اس کا کوئی گناہ بھی باقی نہ ہوگا۔ (رواہ الترمذی) معلوم ہوا کہ اہل ایمان پر جو تکلیفیں آتی ہیں ہیں ان سے گناہ معاف ہوتے رہتے ہیں اور یہ بہت بڑا فائدہ ہے کیونکہ آخرت میں گناہوں پر جو عذاب ہے وہ بہت سخت ہے دنیا میں جو تکلیفیں پہنچتی رہتی ہیں وہ معمولی چیزیں ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بندہ کے لیے کوئی بلند مرتبہ دینے کا فیصلہ فرما دیتا ہے لیکن وہ اپنے عمل سے اس مرتبہ تک پہنچنے سے قاصر رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے تکلیف میں مبتلا فرما دیتا ہے یہ تکلیف اس کے مال جان اور اولاد میں پہنچ جاتی ہے پھر اللہ تعالیٰ اس پر صبر عطا فرما دیتا ہے یہاں تک کہ اس مرتبہ پر پہنچا دیتا ہے جو اللہ کی طرف سے اس کے لیے پہلے سے مقرر کردیا گیا تھا۔ (مشکوٰۃ المصابیح 128 از احمد و ابو داؤد) یاد رہے کہ ﴿وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ﴾ میں جو خطاب ہے یہ عام مومنین سے ہے لہٰذا یہ اشکال پیدا نہیں ہوتا کہ حضرات انبیاء کرام تو معصوم تھے ان پر تکلیفیں کیوں آئیں ان حضرات کو جو تکلیفیں پہنچیں گناہوں کی وجہ سے نہیں بلکہ رفع درجات کی وجہ سے پہنچیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ تم زمین میں عاجز کرنے والے نہیں ہو یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں جس حال میں رکھے اس میں رہو گے اس سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتے، اور غیر اللہ سے امیدیں باندھنا بھی فائدہ مند نہیں ہوسکتا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ولی (یعنی کارساز) نصیر (یعنی مددگار) نہیں ہے پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے کشتیاں بھی ہیں، پہاڑوں کے برابر بڑی بڑی کشتیاں سمندر میں چلتی ہیں جنہیں آج کل باخرہ اور بحری جہاز کہتے ہیں ان کشتیوں میں خود بھی سوار ہوکر سفر کرتے ہیں اور ان پر مال بھی لے جاتے ہیں بھاری بھاری کشتیاں سامان سے لدی ہوئی سمندر میں جا رہی ہیں کشتیاں ہوا کے ذریعہ ان کو چلاتے ہیں یہ ہوائیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے چلتی ہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ہوا کو روک دے اور یہ کشتیاں سمندر میں کھڑی کھڑی رہ جائیں اس میں صبر اور شکر کرنے والے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ شاید کسی کے دل میں وسوسہ آئے کہ اب تو بڑے بڑے جہاز پٹرول سے چلتے ہیں، ہواؤں کا ان کے چلنے میں دخل نہیں ہے اس وسوسہ کا جواب یہ ہے کہ مقصود اللہ تعالیٰ کی عظمت اور قدرت اور بندوں کو احتیاج بیان کرنا ہے پٹرول بھی تو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے اور اس کے استعمال کا طریقہ بھی بتایا اور مشینوں اور انجنوں کی سمجھ اور ان کے چلانے کے طریقہ بھی تو اللہ تعالیٰ نے الہام فرمائے ہیں۔
Top