Bayan-ul-Quran - Ash-Shura : 30
وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ
وَمَآ اَصَابَكُمْ : اور جو بھی پہنچتی ہے تم کو مِّنْ : کوئی مُّصِيْبَةٍ : مصیبت فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ : پس بوجہ اس کے جو کمائی کی تمہارے ہاتھوں نے وَيَعْفُوْا : اور وہ درگزر کرتا ہے عَنْ كَثِيْرٍ : بہت سی چیزوں سے
تم پر جو مصیبت بھی آئی ہے، تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آئی ہے، اور بہت سے قصوروں سے وہ ویسے ہی در گزر کر جاتا ہے
وَمَآ اَصَابَكُمْ [ اور جو آ لگتی ہے تم لوگوں کو ] مِّنْ مُّصِيْبَةٍ [ کوئی بھی آلگنے والی (مصیبت ) ] فَبِمَا [ تو (وہ ) اس سبب سے ہے جو ] كَسَبَتْ [ کمائی کی ] اَيْدِيْكُمْ [ تمہارے ہاتھوں نے ] وَيَعْفُوْا [ اور وہ (اللہ ) درگزر کرتا ہے ] عَنْ كَثِيْرٍ [ بہتوں سے ] یہ آیت (آیت ۔ 30) ان لوگوں کیلئے مخصوص ہے جن سے گناہ سرزد ہوسکتے ہیں ۔ انبیاء (علیہم السلام) جو گناہوں سے معصوم ہیں یا نابالغ بچے اور مجنون جن سے کوئی گناہ نہیں ہوتا ، ان کو جو تکلیف پہنچتی ہے وہ اس حکم میں داخل نہیں ۔ اس کے دوسرے اسباب اور حکمتیں ہوتی ہیں ۔ (معارف القرآن ) مزید توضیح کے لئے یہ بیان کردینا بھی ضروری ہے کہ مومن مخلص پر جو تکلیفیں اور مصیبتیں آتی ہیں وہ سب اس کے گناہوں ، خطاؤں اور کوتاہیوں کا کفارہ بنتی چلی جاتی ہیں ۔ حدیث میں ہے کہ ” مسلمان کو جو رنج اور دکھ اور فکر اور غم اور تکلیف اور پریشانی بھی پیش آتی ہے حتی کہ ایک کانٹا بھی اس کو اگر چبھتا ہے تو اللہ اس کو اس کی کسی نہ کسی خطا کا کفارہ بنا دیتا ہے ۔ رہے وہ مصائب جو اللہ کی راہ میں اس کا کلمہ بلند کرنے کے لئے مومن برداشت کرتا ہے وہ محض کوتاہیوں کا کفارہ ہی نہیں ہوتے بلکہ اللہ کے ہاں ترقی درجات کا ذریعہ بھی بنتے ہیں ۔ (تفہیم القرآن )
Top