Tafseer-e-Mazhari - Ash-Shura : 30
وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ
وَمَآ اَصَابَكُمْ : اور جو بھی پہنچتی ہے تم کو مِّنْ : کوئی مُّصِيْبَةٍ : مصیبت فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ : پس بوجہ اس کے جو کمائی کی تمہارے ہاتھوں نے وَيَعْفُوْا : اور وہ درگزر کرتا ہے عَنْ كَثِيْرٍ : بہت سی چیزوں سے
اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے سو تمہارے اپنے فعلوں سے اور وہ بہت سے گناہ تو معاف ہی کردیتا ہے
وما اصابکم من مصیبۃ فبماکسبت ایدیکم ویعفوعن کثیر اور (اے گناہگارو ! ) تم کو جو مصیبت پہنچتی ہے ‘ وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں سے پہنچتی ہے اور بہت سے قصوروں سے تو اللہ درگذر ہی فرماتا ہے۔ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ یعنی تمہارے گناہوں کی وجہ سے۔ مَآ اَصَابَکُمْ میں مَا شرطیہ ہے یا موصولہ ‘ جس کے اندر شرط کا معنی ہے۔ وَیَعْفُوْ عَنْ کَثِیْرٍ اس جملہ کا عطف سابق جملۂ اسمیہ ہے ‘ یا جملہ معترضہ ہے۔ حسن نے کہا : جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قسم نے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! کسی لکڑی کی چبھن اور کسی قدم کی لغزش اور کسی رگ کی پھڑک بغیر گناہ کے نہیں ہوتی اور بہت سے گناہ تو وہ ہوتے ہیں جن سے اللہ درگذر فرماتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مؤمن کی بیماری اس کے گناہوں کا کفارہ ہوتی ہے ‘ رواہ الحاکم فی المستدرک ‘ والبیہقی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت علی نے فرمایا : کیا میں تم کو کتاب اللہ کی بہت بڑھیا آیت بتاؤں جو رسول اللہ ﷺ نے ہم سے بیان فرمائی تھی ؟ وہ آیت ہے : وَمَآ اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْ عَنْ کَثِیْرِ ۔ میں اس کی تفسیر بیان کرتا ہوں : وَمَآ اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ یعنی کوئی بیماری یا عذاب یا کوئی دنیوی بلاء۔ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ (دنیا میں پاداش عمل کے بعد) اللہ آخرت میں دوہری سزا نہیں دے گا ‘ اس کی شان اس سے برتر ہے اور جس جرم سے دنیا میں درگذر فرما دی تو معافی کے بعد پھر لوٹ کر اس کی آخرت میں سزا نہیں دے گا ‘ وہ احکم الحاکمین ہے۔ رواہ احمد وغیرہ۔ بیضاوی نے لکھا ہے : آیت میں خطاب مجرموں کو ہے اور مجرموں ہی کیلئے آیت کا حکم خاص ہے کیونکہ جو گناہگار نہ ہوں ‘ ان پر مصیبت دوسری وجوہ سے آتی ہے۔ مثلاً یہ مقصد ہوتا ہے کہ مؤمن صبر کرے تاکہ اجر عظیم کا مستحق ہوجائے۔ بغوی نے عکرمہ کا قول نقل کیا ہے : بندہ کے جو ذرا سی کھرونچ لگ جاتی ہے ‘ وہ یا تو اس وجہ سے ہوتی ہے کہ اللہ اس کے بغیر اسکا گناہ معاف کرنے والا نہیں ہوتا ‘ یا کسی مرتبہ پر پہنچانے کیلئے ہوتی ہے کہ بغیر اس دکھ کے اللہ اس مرتبہ پر اس کو پہنچانے والا نہیں ہوتا (یعنی یا اس سے کوئی گناہ معاف کیا جاتا ہے ‘ یا ترقئ درجہ حاصل ہوتی ہے) ۔
Top