Aasan Quran - Ash-Shura : 30
وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ
وَمَآ اَصَابَكُمْ : اور جو بھی پہنچتی ہے تم کو مِّنْ : کوئی مُّصِيْبَةٍ : مصیبت فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ : پس بوجہ اس کے جو کمائی کی تمہارے ہاتھوں نے وَيَعْفُوْا : اور وہ درگزر کرتا ہے عَنْ كَثِيْرٍ : بہت سی چیزوں سے
اور تم پر جو مصیبت بھی آتی ہے تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آتی ہے اور تمہاری بہت سی برائیوں سے وہ درگزر بھی کرتا ہے
وَمَـآ اَصَابَـکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْـکُمْ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ ۔ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ صلے ج وَمَا لَـکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلاَ نَصِیْرٍ ۔ (الشوری : 30، 31) (اور تم پر جو مصیبت بھی آتی ہے تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آتی ہے اور تمہاری بہت سی برائیوں سے وہ درگزر بھی کرتا ہے۔ اور نہ تم زمین میں اللہ کو عاجز کردینے والے ہو اور تمہارے لیے اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی کارساز ہے اور نہ مددگار۔ ) مخالفین کے زعم باطل کے ابطال پر دلیل اس آیت کریمہ میں مخالفین کے ایک زعم باطل پر چوٹ لگائی جارہی ہے اور اس کے ابطال پر دلیل بھی دی جارہی ہے۔ اشرافِ قریش یہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی نظام مجازات نہیں۔ ہر شخص کو اپنے وسائل سے کام لینے کی چھٹی ملی ہوئی ہے۔ چناچہ طاقتور اگر کمزوروں پر ظلم کررہا ہے تو یہ اس کی طاقت کا تقاضا ہے۔ اور مظلوم کو اس بات کی سزا مل رہی ہے کہ اس نے اپنے آپ کو طاقتور کیوں نہیں بنایا۔ ظالم سے نہ کبھی دنیا میں پوچھا جائے گا اور نہ کبھی آخرت میں اس کی بازپرس ہوگی۔ ہر شخص اپنی صلاحیت اور طاقت کے مطابق من مرضی کے اعمال بجا لانے کے لیے آزاد ہے۔ چناچہ اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا کوئی نظام مجازات نہیں اور اس کی صفت عدل کا کوئی تقاضا نہیں تو پھر تم بعض دفعہ مختلف تکالیف کا شکار کیوں ہوتے ہو۔ اور بعض آفات غیرمتوقع طور پر تمہیں کیوں آگھیرتی ہیں۔ اور جس طرح اہل مکہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کے انکار کی وجہ سے قحط کا شکار ہیں تو آخر ایسا کیوں ہے ؟ یہ ایک واضح علامت ہے اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے کرتوتوں کی سزا بعض دفعہ دنیا میں بھی دیتا ہے۔ اگرچہ وہ بہت ساری باتوں کو نظرانداز کردیتا ہے اور ان پر بازپرس آخرت میں ہوگی لیکن یہاں بھی بعض مصائب تم پر نازل کرکے تمہیں یہ بتانا مقصود ہے کہ دنیا میں تمہیں شتر بےمہار بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ تم جس طرح چاہو زندگی گزارو۔ اگر ایسا ہوتا تو زندگی کے حوادث تمہارے اپنے ہاتھوں میں ہوتے۔ اور کبھی بھی تمہارے ارادے فسخ ہونے میں نہ آتے۔ اور نہ کبھی تمہارے وسائل تمہارے حسب حال نتیجہ خیزہونے سے انکار کرتے۔ اور پھر انھیں تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جس طرح دنیا میں وہ تم پر مصائب نازل کرکے اور مختلف حوادث کا شکار کرکے تم پر یہ بات واضح کرتا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بہت دور نہیں ہو اور نہ زمین میں اس کی گرفت سے تمہیں کوئی بچا سکتا ہے۔ اسی طرح اس نے ایک یوم الفصل بھی رکھا ہے جو کامل جزاء و سزا کا دن ہے۔ اس میں تمہیں ہر عمل کا جواب دینا پڑے گا اور وہاں بھی تمہیں نہ کسی کی نصرت اور مدد چھڑا سکے گی اور نہ کوئی تمہاری کارسازی کرسکے گا۔ اور دنیا میں تمہارے جن گناہوں سے درگزر کیا گیا تھا قیامت میں ان کی جزاء و سزا سے بھی تمہیں گزارا جائے گا۔ واضح رہے کہ آیت کریمہ میں خطاب صرف کفار سے ہے۔ انھیں یہ بتایا گیا ہے کہ انھیں جو تکلیفیں بھی پہنچتی ہیں وہ ان کے اعمال کی پاداش میں پہنچتی ہیں۔ لیکن ان کا تعلق انبیائے کرام اور دیگر صالحینِ عظام سے نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کو جو تکلیفیں اور مصیبتیں بھی آتی ہیں وہ ان کے اعمال کی سزا کے طور پر نہیں بلکہ ابتلاء کے طور پر پیش آتی ہیں اور وہ ان کے گناہوں اور خطائوں اور کوتاہیوں کا کفارہ بنتی چلی جاتی ہیں۔ آنحضرت ﷺ کا ارشادِ کر امی ہے : مَایُصِیْبُ المُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ وَلاَ وَصَبٍ وَلاَھَمٍّ وَلاَحُزْنٍ وَلاَ اَذَیً وَلاَغَمٍّ حَتّٰی الشَّوْکَۃُ یُشَاکُھَا اِلاَّ کَفَّرَاللّٰہُ بِھَا مِنْ خَطَایَاہٗ (بخاری و مسلم) ” مسلمان کو جو رنج اور دکھ اور فکر اور غم اور تکلیف اور پریشانی بھی پیش آتی ہے حتیٰ کہ اگر ایک کانٹا بھی اس کو چبھتا ہے تو اللہ اس کو اس کی کسی نہ کسی خطا کا کفارہ بنا دیتا ہے۔ “ اور اللہ تعالیٰ کی راہ کے جو برگزیدہ لوگ ہیں جن میں شہداء بھی شامل ہیں، ان کو جن مصائب سے واسطہ پڑتا ہے وہ ان کے گناہوں کا کفارہ نہیں بلکہ ترقی درجات کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ ان پر صبر کرنے سے ان کے اندر ایسی صلاحیت پیدا ہوتی ہے جو انھیں مسلسل مدارج کی بلندی کی طرف مہمیز کرتی رہتی ہے۔
Top