Tafseer-e-Haqqani - Ash-Shura : 30
وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ
وَمَآ اَصَابَكُمْ : اور جو بھی پہنچتی ہے تم کو مِّنْ : کوئی مُّصِيْبَةٍ : مصیبت فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ : پس بوجہ اس کے جو کمائی کی تمہارے ہاتھوں نے وَيَعْفُوْا : اور وہ درگزر کرتا ہے عَنْ كَثِيْرٍ : بہت سی چیزوں سے
اور تم پر جو کوئی مصیبت پڑتی ہے تو تمہاے ہی ہاتھوں کے کئے ہوئے کام سے پڑتی ہے اور بہت سی تو وہ معاف ہی کرتا ہے
ترکیب : ما اصابکم شرط فی موضع رفع بالابتد افبماکسبت جو ابہ والمراد بالفعلین الاستقبال ویعفو الخ جملۃ مستانفۃ من ولی اسم مالکم خبر ھا الجواربحذف الیاء من الحظ لانھا من الزوائد دباثبا تھا جمع جارتہ ای سائرۃ والمراد بھا الفلک مبتداء و من آیاۃ خبر ھا فی البحر یتعلق بالجواری ویمکن ان یکون حالامنہ والعامل فیہ الاستقرار۔ کالا علام جمع علم وھوالجبل اوکل شیئٍ مرتفع حال ثابۃ اومن الضمیر فی الجواری یسکن جواب الشرط فیظللن معطوف علیہ و کذلک اویوبقہن ویعف۔ رواکد جمع الراکدوھوالساکن ویقال اوبقہ ای اھل کہ ویعلم بالنصب علی الصرف ای صرف العطف علی للفظ الی العطف علی المعنی قالہ الزجاج ویقرء بالکسر علی ان یکون مخبروماحرک لالتقاء الساکنین ویقرء بالرفع علی الاستیناف مالہم من محیص الجملۃ المنفیۃ تسدمسد مفعولی علمت یعنی ھذہ الجملۃ مفعول الیعلم المحیص مھرب علی قول قطرب و قال السدی ملجاء من قولھم حاص بہ البعیر حیصۃ اذارمٰی بہ منہ قولھم فلایحیص عن الحق ای یمیل عنہ۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا بعض دعائیں مصلحت کی وجہ سے قبول نہیں ہوتیں ورنہ وہ تو الولی الحمید ہے مبدئِ فیاض ہے۔ اس پر شبہ ہوتا تھا کہ جب وہ حمید یعنی خیر محض ہے تو بندوں کو دنیا میں مبتلائے مصائب کیوں کرتا ہے ؟ اس کے جواب میں فرمایا کہ وما اصابکم من مصیبۃ الخ کہ یہ جو کچھ تکلیفیں تم کو پہنچتی ہیں تمہارے اعمال بد کا ثمرہ ہے اور وہ بھی کسی قدر ورنہ بہت سے تو وہ درگزر کرتا ہے نیکوں پر جو دنیا میں مصائب آتے ہیں وہ اس سے مستثنیٰ ہیں وہ صرف ان کی آزمائش یا رفع درجات کے لیے ہوتے ہیں دنیا کی بھٹی میں یہ ان کے جوہر نورانی چمکانے کے لیے آنچیں یاتاؤ دیے جاتے ہیں ہاں انسان کے اعمالِ بد بھی مصائب بن کر اس کے متنبہ کرنے کو اس پر گرتے ہیں اور بلائوں کے تازیانوں سے ادب و اصلاح سکھائی جاتی ہے۔ افسوس اس پر بھی یہ غافل کروٹ تک نہیں بدلتا اور بعض تکالیف جسم طبعی پر عناصر و دیگر اسباب کے نمودار ہونے اور اثر کرنے سے ہوتی ہیں جیسا کہ برسات میں گھاس کا سبز ہونا ‘ خریف میں خشک ہوجانا سردی گرمی کا اثر ‘ حیوانات و اطفال پر بھی پیش آتا ہے پس اس کو کسی اگلے جنم کا خمیازہ سمجھ کر تناسخ کا قائل ہونا اقسام مصائب سے بیخبر ی اور باہم تمیز نہ کرنے کی دلیل ہے۔ اس کے بعد ان سرکشوں کو جو تازیانہ الٰہی سے محفوظ رہنا اپنے زور و شوکت و حشمت و مال وجاہ کی وجہ سے خیال کرتے ہیں متنبہ کرتا ہے وما انتم الخ کہ زمین پر تم ہم کو ہرا سکو گے نہ ہمارے بس میں سے باہر ہو سکو گے اور جو تم کو اپنے خیالی معبودوں کا گھمنڈ ہے تو ومالکم من دون اللہ من ولی ولانصیر اس کے سوا تمہارا کوئی حمایتی و مددگار نہیں یہ محض توہمات باطلہ ہیں کہ ہمارے فلاں دیوتا یا دیوی یا فلاں بزرگ ان کی نذر ونیاز کرنے سے ہم کو مصائب سے بچا لیں گے۔ اس کے بعد اپنی قدرت کاملہ و فیض عامہ کا نقشہ بندوں کی آنکھوں میں اپنی ایک روزمرہ کی کبریائی سے کھینچتا ہے جس کا مواجہہ و معائنہ ہر دریائی سفر میں ہوتا ہے فقال و من آیۃ الجوارفی البحرکالاعلام کہ دیکھو اس کی قدرت کاملہ کی نشانیوں میں سے جہاز ہیں جو دریا میں پہاڑوں کی طرح بلند کھڑے ہیں اور پانی پر ایسے اجسام ثقیلہ اس طرح سے چلتے پھرتے ہیں کہ جس طرح مویشی زمین پر دوڑتے پھرتے ہیں ہوا اور پانی کو ان سے کس طرح مسخر کردیا اور اس نے تم کو علوم سکھادیے باایں ہمہ اگر ہوا کو (اس میں دھواں اور بھاپ بھی شامل ہے کہ جس کے زور سے آگبوٹ انجن کے ذریعہ سے چلتا ہے) تھام دے تو کھڑے رہ جاویں چلنے نہ پاویں البتہ اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکر کرنے والے کے لیے بڑی نشانیاں ہیں سفر دریا میں تکالیف بھی پہنچتی ہیں اور اخیر راحت و کامیابی بھی اس لیے صباروشکور فرمایا اور چاہے تو ان کے گناہوں سے ان کو غرق کر دے سارے علم و فن دھرے رہ جاویں پر وہ بہت سے درگزر کرتا ہے اور ہماری آیتوں میں جھگڑنے والے دل میں اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ ان کو عتاب الٰہی اور اس کی بلائوں سے کوئی پناہ نہیں مگر پھر بھی اپنی بدکرداری سے باز نہیں آتے۔
Top