Anwar-ul-Bayan - Al-Mulk : 15
هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ
هُوَ : وہ الَّذِيْ : اللہ وہ ذات ہے جَعَلَ : جس نے بنایا لَكُمُ الْاَرْضَ : تمہارے لیے زمین ذَلُوْلًا : تابع۔ فرش فَامْشُوْا : پس چلو فِيْ مَنَاكِبِهَا : اس کے اطراف میں وَكُلُوْا : اور کھاؤ مِنْ رِّزْقِهٖ : اس کے رزق میں سے وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف النُّشُوْرُ : دوبارہ زندہ ہونا
وہ ایسا ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو مسخر بنا دیا سو تم اس کے راستوں میں چلو اور اس کی روزی میں سے کھاؤ، اور اسی کے پاس دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے
اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارے لیے مسخر فرما دیا، اسے قدرت ہے کہ تمہیں زمین میں دھنسا دے یا سخت آندھی بھیج دے، بلندی پر جو پرندے اڑتے ہیں اللہ تعالیٰ ہی ان کا محافظ ہے ان آیات میں بھی اللہ تعالیٰ کی شان خالقیت اور رازقیت بیان فرمائی ہے اول تو یہ فرمایا کہ یہ زمین جس پر تم بستے ہو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے مسخر فرما دی ہے اس کو جیسے چاہتے ہو اپنے تصرف میں لاتے ہو نرم چیز ہے اسے کھودتے ہو بنیادیں ڈال کر گھر بناتے ہو۔ کنویں کھودتے ہو، ہل اور ٹریکٹر چلا کر کھیتی بوتے ہو، اس پر رہتے سہتے ہو، ناپاکی تک اس پر ڈالتے ہو۔ غرض یہ کہ وہ تمہارے کاموں میں آتی ہے اور تمہاری ضرورتوں میں استعمال ہوتی ہے تم اس کے راستوں میں چلو پھرو سفر کرو تجارت کرو یہاں کی چیزیں وہاں لے جاؤ اور وہاں کی چیزیں یہاں لے کر آؤ اور جو رزق تمہیں سفر کیے بغیر مل جائے یا سفر کر کے حاصل ہو اسے کھاؤ پیو۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی کا رزق ہے اور ساتھ ہی یہ سمجھ لو کہ زمین کی یہ نعمت اور رزق کی دولت صرف اسی حد تک نہیں ہے کہ یہیں کھا پی کر بےفکر ہوجاؤ تمہیں مرنا بھی ہے اور اسی زمین میں دفن ہونا ہے پھر صور پھونکے جانے پر قبروں سے اٹھنا ہے اور حساب کتاب کے لیے خالق جل مجدہ کے حضور پیش بھی ہونا ہے، چلو پھرو، کھاو پیو اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو اس کی فرمانبرداری میں لگو۔
Top