Tafseer-e-Majidi - Al-Mulk : 15
هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ
هُوَ : وہ الَّذِيْ : اللہ وہ ذات ہے جَعَلَ : جس نے بنایا لَكُمُ الْاَرْضَ : تمہارے لیے زمین ذَلُوْلًا : تابع۔ فرش فَامْشُوْا : پس چلو فِيْ مَنَاكِبِهَا : اس کے اطراف میں وَكُلُوْا : اور کھاؤ مِنْ رِّزْقِهٖ : اس کے رزق میں سے وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف النُّشُوْرُ : دوبارہ زندہ ہونا
وہ وہی ہے جس نے زمین کو تمہارے لئے مسخر کردیا تو تم اس کے راستوں میں چلو پھر و اور اللہ کی (دی ہوئی) روزی میں سے کھاؤ (پیو) اور اسی کے پاس زندہ ہو کر جانا ہے،11۔
11۔ بندوں کو ترغیب ہے کہ زمین سے جو چاہوکام لو، جس طرح چاہو رہو سہو، بس صرف اتنا یاد رہے کہ تم بندے ہو، خدا نہیں ہو، خود مختار ومطلق العنان نہیں ہو، خدا کے قانون کے محکوم وپابند ہو اور اسی کے سامنے اپنے ہر عمل کے جوابدہ ہو، (آیت) ” من رزقہ “۔ یاددلادیا کہ جو کچھ تمہیں کھانے پینے کو مل رہا ہے یہ سب حق تعالیٰ کا ہی عطیہ تو ہے۔ (آیت) ” ھو ..... ذلولا “۔ یہ ارشاد ہوا کہ زمین میں تمہارے لئے ہر قسم کے تصرفات کی اہلیت رکھ دی گئی ہے، تم تو خود اس پر حاکم و متصرف ہو، الٹے اسی کو دیوی سمجھ لینا کیسی حماقت ہے۔
Top