Fahm-ul-Quran - Al-Mulk : 15
هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ
هُوَ : وہ الَّذِيْ : اللہ وہ ذات ہے جَعَلَ : جس نے بنایا لَكُمُ الْاَرْضَ : تمہارے لیے زمین ذَلُوْلًا : تابع۔ فرش فَامْشُوْا : پس چلو فِيْ مَنَاكِبِهَا : اس کے اطراف میں وَكُلُوْا : اور کھاؤ مِنْ رِّزْقِهٖ : اس کے رزق میں سے وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف النُّشُوْرُ : دوبارہ زندہ ہونا
وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو نرم کردیا ہے اس کے راستوں پر چلو پھرو اور اللہ کا دیا ہوا رزق کھاؤ ! اور اسی کے حضور تمہیں دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے
فہم القرآن ربط کلام : جس رب نے انسان کو پیدا کیا ہے اسی نے انسان کے لیے زمین کو بنایا اور بچھایا ہے۔ اس سورت کی آیت 3 تا 5 میں آسمانوں کی تخلیق، تزئین اور حفاظت کا ذکر فرماکر انسان کو یہ حقیقت یاد کرائی گئی ہے کہ جس خالق نے سب کچھ پیدا کیا ہے وہ لوگوں کے سینوں کے رازوں سے واقف ہے اور جو رب لوگوں کے دلوں کے جذبات کو جانتا ہے اس نے ہی زمین کو اس قابل بنایا ہے تاکہ تم اس کے راستوں پر چلو اور اپنے رازق کا رزق کھاؤ اور یاد رکھو ! کہ تم نے اسی کے حضور پیش ہونا ہے۔ یہاں زمین کے لیے ” ذَلُوْلًا “ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا معنٰی نر م ہے۔ بیشک زمین میں پہاڑ اور چٹانیں بھی پائی جاتی ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ہر دور کے انسان کو فہم اور وسائل عطا فرمائے ہیں کہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق زمین میں راستے بنائے اور انہیں ہموار کرے تاکہ وہ ایک مقام سے دوسرے مقام تک جاسکے۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ صلاحیت کے سبب انسان نے زمین پر شاہرائیں بنائیں اور پہاڑوں کے سینے چیر کر راستے ہموار کیے یہاں تک کہ سمندر پر بھی راستے بنا لیے ہیں۔ جس سے ایک ملک کے وسائل اور اناج باآسانی دوسرے ملک میں پہنچ رہے ہیں۔ اس سے لوگوں کے رزق میں کشادگی پیدا ہوئی اور ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں آسانی میسر آئی۔ اگر اللہ تعالیٰ زمین پر راستے نہ بناتا اور انسان کو مواصلات کے ذرائع بنانے کی صلاحیت نہ دیتا تو لوگ اپنے اپنے علاقے میں قیدی بن کر رہ جاتے اور نہ ایک دوسرے کے وسائل سے فائدہ اٹھا سکتے تھے اور نہ ہی دنیا اس قدر ترقی کرسکتی تھی۔ مسائل 1۔ اللہ ہی نے زمین کو نرم بنایا اور اس پر راستے بنائے۔ 2۔ اللہ ہی لوگوں کو رزق دینے اور کھلانے والا ہے۔ 3۔ ہر شخص نے اپنی اپنی قبر سے نکل کر اللہ کے حضور پیش ہونا ہے۔ تفسیر بالقرآن ہرکسی نے ” اللہ “ کے حضور پیش ہونا ہے : 1۔ میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے واپس جانا ہے۔ (الرعد : 36) 2۔ اللہ کو ہی قیامت کا علم ہے اور اسی کی طرف تم نے لوٹنا ہے۔ (الزخرف : 85، مریم : 40، الزمر : 44، یونس : 56)
Top