Mualim-ul-Irfan - Al-Mulk : 15
هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ
هُوَ : وہ الَّذِيْ : اللہ وہ ذات ہے جَعَلَ : جس نے بنایا لَكُمُ الْاَرْضَ : تمہارے لیے زمین ذَلُوْلًا : تابع۔ فرش فَامْشُوْا : پس چلو فِيْ مَنَاكِبِهَا : اس کے اطراف میں وَكُلُوْا : اور کھاؤ مِنْ رِّزْقِهٖ : اس کے رزق میں سے وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف النُّشُوْرُ : دوبارہ زندہ ہونا
اللہ تعالیٰ کی ذات وہی ہے جس نے تمہارے لیے بنائی ہے۔ زمین تابع ، چلو اس کے اطراف میں اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی روزی میں سے کھائو اور ایک دن خدا کی طرف دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے ۔
گزشتہ سے پیوستہ (ربط) : پہلے توحید ، قیامت ، رسالت اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا ذکر ہوا۔ پھر آگے جزائے عمل کا ذکر تھا۔ مجرمین کی سزا کا ذکر ہوا۔ قدرت کی نشانیاں ذکر فرمائیں۔ اب اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے چند دلائل اور نشان بیان فرماتے ہیں۔ البتہ زیادہ تر مضمون توحید اور معاد کا ہے۔ پہلے رسالت کا بیان بھی ہوگیا جیسے دوزخ کی سزا میں مبتلا ہونے پر جب فرشتے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ لوگ اقرار کریں گے کہ ہمارے پاس ڈرانے والے ضرور آئے مگر ہم نے ان کی تکذیب کی۔ اور پھر افسوس کا اظہار کریں گے۔ اگر ہم خیر خواہوں کی بات کو سنتے یا عقل سے کام لیتے تو کبھی دوزخ میں داخل ہونے والے نہ ہوتے۔ مگر ہم نے یہ دونوں باتیں نہ کیں ۔ نہ ہم نے خیرخواہوں کی بات کو سنا اور نہ عقل سے کام لیا۔ دلائل قدرت تسخیر الارض : اب یہاں دلائل قدرت کا بیان ہے جن سے دو چیزوں کا اثبات ہوتا ہے۔ ایک طرف اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور دوسری طرف قیامت کا ذکر ہے ارشاد ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات وہی ہے۔ جس نے تمہارے لیے بنائی ہے زمین یعنی تابع۔ ذلول کا معنی تابع اور ہموار ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے تصرف کے لیے تین کو تمہارے تابع بنادیا ہے۔ تمہارے لیے مسخر کردیا ہے۔ کہ ہر قسم کے کام زمین میں کرسکو۔ اگر اللہ تعالیٰ زمین کو ایسا نہ بناتا تو سخت دشواری ہوتی۔ دلدلی بنا دیتا یا پانی جیسی ہوتی یا لوہے اور پتھر جیسی سخت ہوتی تو زراعت مشکل ہوجاتی۔ مکان بنانا دشوار ہوتا۔ زمین کو کھود کر اس میں سے چیزیں نکالنا ناممکن ہوتا۔ نہریں چلانا مشکل ہوجاتا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے زمین کو ایسا مسخر کردیا کہ ہر قسم کا کام آسانی سے ہوسکے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے۔ یہی چیز اللہ تعالیٰ سمجھانا چاہتا ہے۔ دوسری جگہ فرمایا کیا تم نے کبھی غور نہیں کیا کہ ہم نے زمین کو سمیٹنے والی بنایا زندوں کو بھی سمیٹتی ہے مردوں کو بھی سمیٹتی ہے۔ دوسری جگہ فرمایا۔ زمین پر اترتے ہوئے مت چلو ، یہ اللہ کو پسند نہیں زمین میں عاجزی ہے کہ ہر چیز اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔ تم زمین پر چلتے ہو۔ کام کرتے ہو ، زمین کو کھودتے ہو اس پر نجاست پھینکتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اسکو کیسا منقاد اور مسخر بنادیا ہے خدا کی نعمت کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اسی لیے فرمایا منکب کندھے کو کہتے ہیں۔ یعنی زمین کے کندھوں پر چلو ، کندھوں سے مراد اطراف زمین ہیں ، بعض اس سے پہاڑ مراد لیتے ہیں جیسے کندھے اونچے ہوتے ہیں اسی طرح پہاڑ بھی اونچے ہوتے ہیں تو اونچی جگہ پر چلو۔ اونچی جگہ پر چلنے کا سامان بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمادیا۔ پہاڑوں پر جانے کے لیے راستے مقرر کردیے وہاں بھی روبار سرانجام دیتے ہو۔ ہموار زمین پر چلنا آسان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے احسان جتلاتے ہوئے قوم ثمود سے فرمایا دیکھو ! اللہ نے زمین بنائی ہے۔ پہاڑ بنائے ہیں ، پہاڑوں کو کرید کر مکان بنا لیتے ہو۔ ہموار زمین پر بڑے بڑے مملات تعمیر کرتے ہو۔ تو فرمایا چلو اس کے اطراف میں اور کھائو اس کی دی ہوئی روزی۔ یہ زمین بھی اللہ نے پیدا کی اور اسے تمہارے لیے مسخر بنا دیا۔ اس میں بڑی آسانیاں پیدا کردیں۔ ذرا سوچو اگر زمین میں دشواری ہوتیں تو سب کا روبار رک جاتے اللہ تعالیٰ نے زمین کو مسخر کر کے کتنا احسان فرمایا ہے۔ خدا نے روزی کے اسباب بھی مہیا کیے ہیں۔ یہ چلنا پھرنا بسا اوقات روزی حاصل کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ جیسے انسان چل پھر کر رزق حلال تلاش کرتا ہے ۔ انسان کے لیے یہ بھی ضروری ہے کیونکہ رزق حلال تلاش کرنا فرائض کے بعد ایک فریضہ ہے۔ آگے معاد کا ذکر ہے۔ اس میں دونوں باتیں سمجھا دیں۔ زمین کو خدا نے تمہارے فائدے کے لیے بنایا۔ تاکہ تم زمین میں کاروبار کرسکو۔ اور پھر اللہ کی پیدا کی ہوئی روزی میں سے کھائو۔ جو بھی تمہارے ح سے میں آئے گی۔ روزی بھی اللہ نے دی ، زمین کو بھی اللہ نے پیدا کیا ۔ کوئی روزی دینے والا نہیں ہے۔ رزق خدا کے ہاں سے تلاش کرو۔ اللہ ہی رزق کے اسباب مہیا کرتا ہے۔ تمام جانداروں کی ضرورت ہے ۔ جو اللہ ہی مہیا کرتا ہے۔ تمام اسباب اسی کے تصرف میں ہیں۔ اس کے سوا کوئی روزی نہیں دیتا۔ کوئی کسی کو ایک حبہ بھی نہیں دے سکتا۔ اب وہ انسان کس قدر بیوقوف اور احمق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس کے تابع بنایا ہے۔ اس کی خدمت کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر وہ زمین کو ہی اپنا معبود بناتے۔ دنیا میں ایسے مشرک لو گ بھی ہیں۔ جو زمین کو معبود مانتے ہیں۔ اور ایسے بھی ہیں جو خدا کے سوا دوسروں کے ہاں سے روزی تلاش کرتے ہیں۔ یہاں دونوں باتوں کی نفی کی گئی ہے۔ قیامت کی آمد : پھر فرمایا زمین پر چلتے ہوئے ، کاروبار کرتے ہوئے خدا کی روزی کھاتے ہوئے یہ نہ سمجھو کہ ہم آزاد ہیں۔ ایک دن خدا کی طرف اکٹھا بھی ہونا ہے۔ جزائے اعمال بھی لازم ہے اور معاد کا آنا بھی ضروری ہے۔ انسان اٹھائے جائیں گے اور خدا کے حضور پیش کیے جائیں گے انہیں اپنے اپنے اعمال کا محاسبہ پیش کرنا پڑے گا یہ بات نہیں ہے کہ زمین پر مس ہو جائو قیامت بھی کوئی نہیں آئیگی۔ بلکہ قیامت تو آنے والی ہے۔ تو اس طرح گویا توحید کا مسئلہ بھی سمجھا دیا اور معاد کا مسئلہ بھی سمجھا دیا۔ خوف خدا : آگے تخویف ہے ۔ انسانوں کو ڈرایا گیا ہے۔ فرمایا کیا تم نڈر ہوگئے ہو بےفکر ہوگئے ہو اس سے جو آسمانوں میں ہے کہ تم کو زمین میں دھنسا دے۔ انسان مغرور ہوتا ہے۔ اترا کر زمین پر چلتا ہے۔ فرمایا اگر آسمان والا تم کو زمین میں دھنسا دے۔ جیسا کہ کئی واقعات پیش آتے ہیں۔ زمین لرزنے لگے ۔ جیسے زلرزلہ ہوتا ہے بعض اوقات ہزاروں انسان زلزلے میں تباہ ہوجاتے ہیں۔ شہر اور بستیاں تباہ ہوجاتی ہیں۔ (جوالجزائر میں ہے) کی بارہ ہزار کی آبادی یکدم فنا ہو کر رہ گئی تھی۔ ابھی دس پندرہ سال کی بات ہے۔ زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔ 1923 ء میں جاپان میں جو زلزلہ آیا تھا۔ اس میں تین لاکھ آدمی فنا ہوگئے تھے۔ زمین میں ہزاروں گڑھے نظر آتے تھے۔ دراڑیں پیدا ہوگئیں تھیں۔ تو فرمایا کیا تم اس سے بےفکر ہوگئے ہو ، جو آسمانوں میں ہے۔ فی السمارے دار بلندی ہے : فی السماء سے کیا مراد ہے ۔ یہ مشکل لفظ ہے خدا کی ذات آسمانوں میں نہیں ہے نہ ہی زمین پر ہے۔ یہ اعتقاد درست نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ تو مکان و زماں سے مبرا ہے۔ فی السماء سے مراد آسمانوں سے اوپر ہے۔ کہ آسمانوں کے اوپر بھی اسی کی حکومت اور تسلط ہے کسی اور کا نہیں ۔ اور اس سے بلندی مراد ہوتی ہے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے۔ کہ ایک صحابی نے معمولی غلطی پر ایک لونڈی کو تھپڑ مار دیا۔ حضور ﷺ ناراض ہوئے۔ آپ نے لونڈی کو بلایا۔ اس سے پوچھا اللہ کہاں ہے اس نے کہا آسمانوں میں پھر فرمایا میں کون ہوں عرض کیا آپ اللہ کے رسول ﷺ ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا یہ مومنہ ہے۔ اس کو آزاد کر دو ۔ آسمان کا لفظ اس لیے استعمال کیا کہ عام آدمی کی عقل آسمان تک پہنچتی ہے۔ تو اس سے مراد بلندی ہوتی ہے۔ پڑھا لکھا آدمی ایسا نہیں کہہ سکتا۔ مگر عام لوگوں سے اللہ تعالیٰ ان کے فہم کے مطابق مواخذ ہ کرے گا۔ خوف خدا کی مثال : بخاری شریف میں اس شخص کا حال ذکر کیا گیا ہے جس نے کہا تھا کہ میں نے نیکی تو کوئی بھی نہیں کی۔ تو اس نے اپنے مرنے سے پہلے اپنے بیٹوں سے کہاتم کو وراثت تب دوں گا کہ تم میری ایک بات پوری کرو۔ پوچھا کیا شرط ہے۔ کہا کہ جب میں مر جائوں تو میری لاش کو جلا کر راکھ بنا دینا پھر اس آدھی راکھ کو خشکی میں اڈا دینا اور آدھی پانی میں بہا دینا۔ بیٹوں نے ایسا ہی کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرنے والے کو برزخ میں اٹھا کر پوچھا تم نے یہ کام کیوں کیا تھا۔ کہنے لگا پروردگار میں نے ایسا کام تیرے خوف کی وجہ سے کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس کو بخشش دو ، معاف کردو ، اب اس کا مواخذہ نہیں ہوگا۔ وہ سمجھتا تھا کہ راکھ اڑا دینے سے وہ معدوم ہوجائے گا۔ اور خدا اس پر قادر نہیں ہوگا۔ مگر خدا تو پھر بھی قادر ہے۔ اس کا فہم ہی اس قدر تھا۔ اسی پر اللہ تعالیٰ نے اسکی گرفت کی اور اسی پر اس کا فیصلہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے : الغرض اللہ تعالیٰ آسمان میں تو ہے نہیں ، مگر آسمانوں میں بھی اس کا تصرف ہے۔ ورنہ اس سے مکانیت لازم آئیگی۔ اور مطلقاََ انکار بھی اچھا نہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں۔ اگر کوئی آدمی یوں کہے میں تو جانتا کہ میرا خدا آسمان میں ہے یا زمین میں میں تو وہ آدمی کافر ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ یعنی عرش پر مستوی ہے۔ عرش تو ساتوں آسمانوں کے اوپر ہے۔ آسمانوں کے اوپر بہشت ہے اور پھر عرش الہیٰ ہے اس پر استوی کیسا ہے۔ یہ ہماری عقل میں نہیں آتا۔ شاہ ولی اللہ (رح) آسان بات کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں۔ سے مراد یہ ہے کہ عرش الہٰی پر اللہ تعالیٰ کی تجلی اعظم پڑتی ہے۔ خدا تعالیٰ کی ذات بہت بلند اور برتر ہے۔ جب اس کی تجلی اعظم عرش پر پڑتی ہے۔ تو وہ سارا رنگین ہوجاتا ہے اور اسکے اثرات سارے جہاں پر چھا جاتے ہیں۔ پھر دوبارہ اس کے اثرات واپس لوٹتے ہیں۔ اسی طرح اس پر تجلی اعظم پڑتی رہتی ہے۔ زمین کا دھنس جانا : تو فرمایا کیا تم بےفکر ہو اس ذات سے جو آسمان میں ہے کہ دھنسا دے تم کو زمین میں اور وہ لرزنے لگے۔ ضلع فیروز پور کا 1949 ء کا واقعہ اخبار میں پڑھا تھا کہ کسی سکول میں بچے پڑھ رہے تھے کہ اچانک سارا سکول زمین میں دھنس گیا اسی طرح اخیر زمانہ میں بھی دھنسنے والے واقعات آئیں گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ کعبے کو گرانے والا جو لشکر آئیگا ۔ اللہ تعالیٰ اس کو بھی زمین میں دھنسا دے گا۔ ان کا کوئی اکا دکا آدمی ہی بھاگ کر بچ سکے گا۔ ورنہ اول آخر سارے کے سارے ہی دھنسائے جائیں گے۔ ایسا ہی قاردن کے بارے میں بھی ذکر ہے ۔ بخاری شریف میں اس آدمی کا حال بھی موجود ہے جو رنگین تہ بند پہن کر زمین پر اکڑ کر چلتا تھا۔ اسکی گردن بھی اکڑی ہوئی تھی۔ خدا نے زمین میں دھنسا دیا۔ وہ قیامت تک زمین میں دھنسا ہی چلا جارہا ہے۔ جب قیامت کا بگل بجے گا تو وہ کہیں رکے گا۔ چناچہ فرمایا کیا تم بےفکر ہوگئے ہو۔ انسان کو غرور نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو تابع بنایا ہے۔ اکٹر کر مت چلو ۔ بےفکر مت ہو۔ کہیں خد اتم کو زمین میں نہ دھنسا دے ۔ زمین لرزنے لگے۔ پتھروں کے ذریعے عذات الہٰی : اس کے بعد فرمایا یعنی کیا تم اس بات سے بےفکر ہوگئے ہو کہ وہ خدا تعالیٰ جس کا تصرف آسمانوں اور زمین میں ہر جگہ ہے۔ تم پر پتھروں کا مینہ برسادے۔ اللہ تعالیٰ نے سابقہ اودار میں مجرمین کے ساتھ ایسا بھی کیا۔ شرق اردن کے رہنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے پتھروں کا مینہ برسایا۔ تہ بہ تہ پتھر برس رہے تھے۔ اور پھر یہ بھی کہ جس کے سر پر وہ پتھر پڑتا ا س پر اس کا نام بھی لکھا ہوتا تھا۔ جس قوم کو اللہ تعالیٰ نے یہ سز دی تھی زمین کو بھی الٹ دیا تھا کیونکہ وہ الٹے کام کرتے تھے۔ کہیں ایسا نہ ہو ابرہمہ کے لنکر پر بھی اللہ تعالیٰ نے پتھرہی برسائے تھے۔ چھوٹے چھوٹے پتھر پرندوں کے ذریعے برسائے تھے۔ اور ان کو ہلاک کردیا تھا۔ یہ چھوٹے سنگریزے پرندوں کے ہاتھوں میں ایٹم بم سے زیادہ خطرناک تھے جس کے سر پر لگا ہلاک ہوگیا۔ اور جس کی سائڈ پر لگا۔ ایسی بیماری لگی کہ وہ کبھی تندرست ہی نہ ہوا۔ ایسا چیچک سالاحق ہوگای۔ یا للہ تعالیٰ بڑے پتھر برسادے ، جیسے قوم لوط پر برسائے تھے۔ پس تم جان لو گے۔ کہ میرا ڈراسنانے والا کیسا ہے۔ یاو ہ عذاب کیسا ہے جس کے بارے میں تم کو ڈرادیا گیا تھا خبردار کردیا گیا تھا۔ جھٹلانے والوں کا حشر : ان سے پہلے لوگوں کو دیکھ لو جنہوں نے جھٹلایا میری گرفت کیسی ہوئی۔ سابقہ جھٹلانے والوں کی تاریخ بھی تم قرآن پاک میں پڑ تھے ہو کہ جھٹلانے والوں کا کیا حشر ہوا ۔ آج بھی اگر جھٹلائو گے تو تمہیں محسوس کرنا چاہیے کہ ہمارا بھی ایسا ہی حال نہ ہو۔ یہ دلائل قدرت اور انذار ہے۔ پرندوں کی مثال : اس کے بعد فرمایا کیا یہ شرک کرنے والے لوگ نہیں دیکھتے معاد کے منکر خدا تعالیٰ کی صفت کو نہیں سمجھتے ایمان نہیں لاتے توحید کو قبول نہیں کرتے۔ کیا انہوں نے پرندوں کی طرف نہیں دیکھا۔ ان کے اوپر کیسے پر کھلوے ہوئے ہیں۔ اور سیکڑتے بھی ہیں۔ دیکھو اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پرندوں کو فضا میں کس طریقے سے روکتی ہے۔ ان کا پروں کا پھیلانا اور سکیڑنا اللہ کی قدرت سے ہے۔ خدا تعالیٰ نے پرندوں کے پروں میں یہ طاقت دی ہوئی ہے کہ وہ اڑتے ہیں ان پرندوں کو فضا میں کون روکتا ہے۔ سوائے رحمان کے اور کون روکتا ہے۔ اللہ ہی نے یہ چیز پرندوں کے اندر رکھی ہے۔ یعنی طاقت رکھی ہے کہ وہ اڑتے ہیں۔ پروں کو سیکڑتے ہیں۔ چناچہ انسانوں نے بھی پرندوں کے نمونے پر اڑنے والی چیزیں اور آلات بنالئے ہیں۔ اس میں بڑی محنت اور مشقت کی ہے۔ آٹھ سو سال کے بعد اڑان کا مسئلہ طے ہوا۔ پہلا آدمی تو ہلاک ہوگیا تھا۔ جس نے اپنے بازئوں کے ساتھ گدھ کے پر باندھ کر ایک محل سے دوسرے محل تک اڑنے کی کوشش کی تھی۔ اگرچہ وہ ہلاک ہوگیا مگر ایک راستہ بنا گیا۔ اس کے ہاٹھ سو سال بعد 1904 ء میں یہ اڑان شروع ہوئی۔ یہ وہی پرندوں کا نمونہ تھا۔ دیکھو ! پرندوں کو فضا میں سوائے رحمان کے کون روکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو اپنی نگاہ میں رکھتا ہے۔ ہر چیز اس کے سامنے ہے۔ عذاب الہٰی کو کوئی ٹال نہیں سکتا : فرمایا۔ اگر اللہ تعالیٰ تم پر اپنی گرفت ڈال دے تو تمہارا کونسا لشکر ہے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے تمہاری حفاظت کرسکے فرمایا۔ کا فر لوگ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں محض غرور میں پڑے ہوئے ہیں کہ انکار کرتے ہیں ، سمجھتے نہیں اور معبودان باطلہ کی پرستش کرتے ہیں۔ غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ فرضی دیوتا بنائے ہوئے ہیں۔ اگر خدا کا عذاب آجائے تو کوئی چھڑانے والا نہیں ہے۔ یہ لوگ آنے والی مصیبت سے اپنا بچائو نہیں کر رہے ہیں۔ : اگر خدا تعالیٰ تمہاری روزی کو روک دے تو روزی پہنچانے والا کون ہے۔ کیا کوئی ہے ؟ ایک حبہ بھی نصیب نہ ہو۔ خدا تعالیٰ بسا اوقات قحط ڈال دیتا ہے۔ ابن بطوطہ نے اپنے سفر نامہ میں لکھا ہے کہ جب قحط پڑتا ہے تو دس دینار میں ایک روٹی بھی نہیں آتی۔ اللہ تعالیٰ اسباب میں تغیر پیدا کردے ، روزی کو روک دے تو کوئی ہے تمہارے لیے روزی لانے والا ؟ فرمایا حقیقت یہ ہے یعنی اصرار کرتے ہیں۔ سر کشی اور بدکنے میں پڑے ہوئے ہیں۔ محض شرارت اور سر کشی کی وجہ سے خدا کی وحدانیت کو نہیں مانتے۔ اور اس کی صفت پر ایمان نہیں لاتے۔ اگر اللہ چاہے تو سب دروازے بند کر دے۔ روزی کو روک دے تو کوئی کسی کو ایک دانہ بھی نہیں پہنچا سکتا۔ یہ سب دلائل توحید ہیں۔ ساتھ ساتھ معاد کا مسئلہ بھی سمجھایا گیا۔ اس کے بعد فرمایا وہ آدمی اچھا ہے جو اوندھے منہ چل رہا ہے یا وہ سیدھا چلتا ہے۔ سیدھا چلنے والا آدمی اوندھے منہ جاتا ہے ، اس کا عقیدہ فاسد ہے ، شرک اور کفر والا ہے اس نے ضرور گڑھے میں گرنا ہے۔ ایسا شخص کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ سیدھا چلنے والا ہی صراط مستقیم پر ہے۔ تو یہ گویا مومن اور کافر کی مثال بیان کی گئی ہے۔ جو لوگ آج ہدایت کی طرف سے اوندھے منہ چل رہے ہیں کل قیامت کے دن دوزخ میں اوندھے منہ جائیں گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ، قیامت والے دن اللہ تعالیٰ کافروں کو منہ کے بل دوڑائیں گے لوگوں نے تعجب کا اظہار کیا کہ منہ کے بل کس طرح دوڑیں گے ، فرمایا یعنی جو خدا تعالیٰ پائوں پر دوڑا سکتا ہے وہ سر کے بل بھی دوڑائے گا۔ سرکے بل دوڑتے ہوئے جہنم میں جا گریں گے۔ توحید اور معاد دونوں کا بیان اللہ تعالیٰ نے فرمادیا۔ اور مزید قدرت کی بہت سی نشانیاں بیان فرمائیں تو گویا توحید ، معاد اور رسالت تینوں مسائل سمجھادیے۔
Top