Asrar-ut-Tanzil - Al-Mulk : 15
هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ
هُوَ : وہ الَّذِيْ : اللہ وہ ذات ہے جَعَلَ : جس نے بنایا لَكُمُ الْاَرْضَ : تمہارے لیے زمین ذَلُوْلًا : تابع۔ فرش فَامْشُوْا : پس چلو فِيْ مَنَاكِبِهَا : اس کے اطراف میں وَكُلُوْا : اور کھاؤ مِنْ رِّزْقِهٖ : اس کے رزق میں سے وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف النُّشُوْرُ : دوبارہ زندہ ہونا
وہی ہستی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو مسخر کردیا ، سو تم اس کی راہوں میں چلو پھر وہ اور اس کی عطا کردہ روزی میں سے کھاؤ اور اس کے پاس دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے
آیات 15 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ وہی ذات کریم ہے کہ جس نے زمین کو تمہارے لیے مسخر کردیا اب اس کے راستوں میں چلو یعنی وہ طریقے اور قاعدے دریافت کرو جن سے اس سے فائدہ حاصل کرسکو تمہیں اس کی استعداد بھی دی اور یوں اس کے سینے سے اپنے لیے اللہ کی نعمتیں اور رزق حاصل کرکے زندگی بسر کرو کہ اس کے بعد پھر تمہیں اسی عظیم بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ یعنی صرف ایجادات اور اشیاء کی لذات میں نہ کھوجاؤ بلکہ ان سب کو اللہ کی نعمتیں شمار کرکے اس کا شکر ادا کرتے رہو اور اطاعت اختیار کرو کہ پھر پیشی پر شرمندگی نہ ہو۔ اور اے وہ لوگو جو اس سب کو محض اپنا ذاتی کمال خیال کرتے ہو کیا تم تب مانو گے کہ اللہ جو زمین ہی نہیں آسمانوں کا بھی مالک ہے اسی زمین میں تم کو دھنسا دے گا اور تمہاری ساری عقل اور سائنس دھری کی دھری رہ جائے اور خود زمین بھی غضب الٰہی سے لرزنے لگے گی یاتب مانو گے جب اللہ کی قدرت سے آسمانوں سے پتھر برسنے لگیں گے اور تمہیں سمجھ آجائے کہ غضب الٰہی کیا ہوگا جس کی یہ ادنی جھلک ہے اور یہ سب گاہے بگاہے ہوتارہتا ہے اگرچہ پہلی قوموں کی طرح اجتماعی ہلاکت کا عزاب اب نہیں آتا مگر کہیں نہ کہیں زمین پھٹ جاتی ہے زلزلے تباہی مچادیتے ہیں اور پتھروں کی طرح اولے پڑتے ہیں جسے انسانی سائنس روکنے سے بےبس ہوجاتی ہے پھر پہلی قوموں کے حالات پڑھو کہ انہوں نے کفر اور انکار کا راستہ اختیار کیا تو ان اقوام پر کیسی تباہی آئی۔ تم اس کی قدرت کاملہ کو نہیں دیکھتے تمہیں آج راکٹوں میں اڑنے پر نازل ہے وہ بھی اسی کی دی ہوئی عقل سے مگر یہ کمال اس نے بےزبان پرندوں میں تخلیقی طور پر پیدا کردیا کہ ان کے اجسام اور پرا ایسے بنائے کہ کبھی پھیلاتے ہیں اور کبھی پروں کو سکیڑ کر ہوا میں تیرتے پھرتے ہیں کس طرح انہوں نے اس بہت بڑے رحم کرنے والے نے سکھادیا اور وہ ہر شے سے باخبر ہے۔ بھلا یہ تو بتاؤ کہ اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو کون سالشکر جو تمہاری مدد کو آئے گا تمہیں زندگی اور یہ نعمتیں دے گا خود تمہارے وجود کو قائم رہنے میں مدد دے گا کوئی بھی نہیں صرف کافر دھوکے میں میں گرفتار ہیں یہ نہیں سوچتے کہ اگر وہ رزق روک لے صرف بارش نہ برسائے یا زمین سے اگانا بند کردے اور اس کی زرخیزی چھین لے تو کوئی ہے جو اپن طاقت سے یہ سب کردے کوئی نہیں محض کفار برائی اور شرارت پر اڑے ہوئے ہیں اور ان کا حال یا رویہ ایسا ہے جیسا کوئی الٹا سر کے بل چلناشروع کردے بھلایہ شخص صحیح ہے یا وہ جو سیدھا اور سیدھی راہ پر چلتا ہے وہی عظیم ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں کان آنکھ اور دل عطا فرمایا کہ تم اس کی ذات کو بھی پہچانو اور دنیا کے کمالات بھی حاصل کرو۔ مرکز علم دل ہے۔ علم الابدان کے ماہرین کے نزدیک پانچ حسیں حصول علم کا ذریعہ جنہیں حواس خمسہ کہتے ہیں سننا ، دیکھنا ، سونگھنا ، چکھنا ، اور محسوس کرنا اور ان سے حاصل ہونے والے علم کامرکز دماغ ہے مگر قرآن نے صرف دو ذریعوں کا ذکر فرمایا سب سے اول سننے کا اور ظاہر ہے انسان سب سے زیادہ علم سن کر حاصل کرتا ہے ۔ بچپن سے موت تک اس کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور یا پھر مشاہدے سے اور دیکھ کر باقی تین ذرائع اتنے اہم نہیں وہ ذاتی زندگی کے لیے ہیں عظیم امور میں ان کا دخل نہیں اور تمام علوم کا مرکز دل کو قرار دیا کہ اگر سب کا تجربہ کرکے دل درست اور صحیح کیفیت اختیارنہ کرے تو سب ضائع ہوجاتا ہے۔ لہذا تنی بڑی نعمتوں پہ تو انسان کو شکر ادا کرنا چاہیے تھا جو بہت کم لوگ کرتے ہیں اگر ان ذرائع علم سے تجربہ کرو تو یہ حقیقت جان سکتے ہو کہ اسی نے تمہیں پیدا کرکے زمین پر پھیلادیا ہے اور تم اس کی نعمتیں حاصل کرکے زندگی بسر کرتے ہو اس تمام کارگہ حیات کا نتیجہ اور حساب بھی تو ہونا ہے لہذا تمہین اسکی بارگاہ میں پھر سے جمع ہوناپڑے گا پھر کہتے ہیں کہ بھلا وہ جمع ہونے کا دن اور تاریخ کونسی ہے اگر اے نبی آپ کی بات درست ہے تو وقت بتادیجئے اور فرمادیجئے کہ اس میں انسان کو دخل نہیں نہ اس نے اس کا کوئی انتظام کرنا ہے کہ اسے بتایاجائے یہ سب اللہ کا اپنا کام ہے اور وہی خوب جانتا ہے ہاں میرا منصب ہے کہ میں تمہیں اس کی تیاری کے لیے مکمل معلومات فراہم کردوں۔ اور جب یہ اسے سامنے پائیں گے توہیبت سے ان کے چہرے تک مسخ ہوجائیں گے تب ان سے کہاجائے گا کہ وہ وقت آگیا ہے جس کا تم مطالبہ کیا کرتے تھے۔ کفر ہمیشہ سے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کا دشمن رہا ہے۔ ان سے فرمادیجئے کہ تم ہماری یعنی مسلمانوں کی تباہی اور ہلاکت کے درپے ہو ہمارا معاملہ تو اللہ کے ساتھ ہے کہ ہمیں ہلاک کرے گایاسلامت رکھے گا ذرایہ بتاؤ کہ تمہارے پاس اللہ کے دردناک عذابوں سے بچنے کی کیا تدبیر ہے یا کون ہے جو تمہیں بچالے گا جبکہ اللہ سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے اور ہم تو اسی پر ایمان لائے ہیں اور اسی پر بھروسہ کرتے ہیں اسی کی رحمت ہمیں تمام عذابوں اور ہلاکتوں سے بچانے کا سبب ہے لہذا عنقریب تم بھی دیکھ لوگے کہ کون گمراہی کا شکار ہے یعنی تم پر اپنی غلطی واضح ہوجائے گی ان سے فرمادیجئے کہ اپنی بیشمار نعمتوں میں سے صرف پانی کو خشک کردے تو بھلا کون ہے جو تمہیں ایسی حیات آفریں نعمت عطا کرے گا کہ جس کے باعث معمورہ عالم آباد ہے۔ کتنے سمندر بادل ، برسات برف ، چشمے ، ندیاں ، دریا ، اور زیر زمین سونے پھیلاکر بےشمارنعمتوں کو وجود میں لانے کا سبب بنادیا بھلا کوئی ہے جو اللہ کے بغیر ایسا کرسکے ، ہرگز ہرگز نہیں۔
Top