Al-Qurtubi - Al-Mulk : 15
هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ
هُوَ : وہ الَّذِيْ : اللہ وہ ذات ہے جَعَلَ : جس نے بنایا لَكُمُ الْاَرْضَ : تمہارے لیے زمین ذَلُوْلًا : تابع۔ فرش فَامْشُوْا : پس چلو فِيْ مَنَاكِبِهَا : اس کے اطراف میں وَكُلُوْا : اور کھاؤ مِنْ رِّزْقِهٖ : اس کے رزق میں سے وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف النُّشُوْرُ : دوبارہ زندہ ہونا
وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو نرم کیا تو اس کی راہوں میں چلو پھرو اور خدا کا (دیا ہوا) رزق کھاؤ اور (تم کو) اسی کے پاس (قبروں سے) نکل کر جانا ہے۔
ھو الذی جعل لکم الارض ذلولا یعنی نرم جس پر تم قرار پذیر ہوتے ہو۔ ذلول ایسے مطیع کو کہتے ہیں جو تیرے لئے نرمی کرتا ہے اس کا مصدر ذل ہے جس کا معین نرمی اور اطاعت کرنا ہے یعنی زمین کو ایسا نہیں بنایا کہ اس کی سختی کی وجہ سے اس میں چلنا ممکن نہ ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسے پہاڑوں کے ساتھ مضبوط کردیا تاکہ وہ اپنے مکینوں کے ساتھ جھک ہی نہ جائے۔ اگر یہ ایک طرف جھکنے والی ہوتی تو یہ ہمارے لئے مطیع نہ ہوتی۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : اس امر یک طرف اشارہ کیا ہے کہ اس میں کھیتی اگانا، درخت لگانا، چشموں کا پھوٹ پڑنا، نہریں نکالنا اور کنوئیں کھودنا ممکن ہے۔ فامشوا فی مناکبھا امراباحت کے لئے ہے اس میں احسان کرنے کا اظہار ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ خبر ہے جو امر کے لفظ کی صورت میں ہے یعنی تاکہ تم اس کی اطراف، اس کے چھوٹے پہاڑوں اور اس کے بڑے پہاڑوں پر چلو۔ حضرت ابن عباس قتادہ اور بشیر بن کعب نے کہا، فی مناکبھا سے مراد اس کے پہاڑ ہیں (1) روایت بیان کی جاتی ہے کہ حضرت بشیر بن کعب کی ایک لونڈی تھی۔ آپ نے اسے فرمایا، اگر تو مجھے بتا دے کہ زمین کے مناکب کیا ہیں تو تو آزاد ہے ؟ اس نے جواب دیا : زمین کے مناکب سے مراد اس کے پہاڑ ہیں تو وہ آزاد ہوگئی۔ حضرت بشیر بن کعب نے اس سے نکاح کا ارادہ کیا اور حضرت ابودرداء سے پوچھا، آپ نے فرمایا : جو تجھے شک میں ڈالے اور اسے چھوڑ دے اور اسے اپنا جو تجھے شک میں نہ ڈالے (٭) مجاہد نے کہا، اس کا معنی ہے اس کے اطراف، منکبا الرجل سے مراد بندے کی دونوں اطراف ہیں۔ مجاہد سے یہ بھی مروی ہے، اس کے راستوں اور تنگ راستوں میں، یہی سدی اور حضرت حسن بصری کا قول ہے۔ کلبی نے کہا، مراد اس کی اطراف ہیں (2) منکب کا اصل معنی جانب ہے اسی سے منکب الرجل ہے۔ انسان کا کندھا، اس سے ایک لفظ ریح نکباء ٹیڑھی چلنے والی ہوا ہے۔ تنکب فلان عن فلاں فلاں فلاں سے ایک طرف ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : جہاں تم چاہو تم چلو میں نے اسے تمہارے لئے مسخر کردیا ہے، اب یہ تمہارے مانع نہیں۔ قتادہ نے ابو جلد سے روایت نقل کی ہے زمین چوبیس ہزار فرسخ ہے۔ حبشیوں کے لئے بارہ ہزار فرسخ، رومیوں کے لئے آٹھ ہزار فرسخ، ایرانیوں کیلئے تین ہزار فرسخ اور عربوں کے لئے ایک ہزار فرسخ (3) وکلوا من رزقہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے جسے حلال کیا ہے اسے کھائو، یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس میں سے کھائو جو میں نے تمہیں دیا ہے۔ والیہ النشور۔ اس کی طرف لوٹنا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس کا معنی ہے وہ ذات جس نے آسمان کو کجی کے بغیر پیدا کیا اور زمین کو مطیع بنایا وہ تمہیں دوبارہ اٹھانے پر قادر ہے۔
Top