Tafseer-e-Saadi - Al-Mulk : 15
هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ
هُوَ : وہ الَّذِيْ : اللہ وہ ذات ہے جَعَلَ : جس نے بنایا لَكُمُ الْاَرْضَ : تمہارے لیے زمین ذَلُوْلًا : تابع۔ فرش فَامْشُوْا : پس چلو فِيْ مَنَاكِبِهَا : اس کے اطراف میں وَكُلُوْا : اور کھاؤ مِنْ رِّزْقِهٖ : اس کے رزق میں سے وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف النُّشُوْرُ : دوبارہ زندہ ہونا
وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو نرم کیا تو اس کی راہوں میں چلو پھرو اور خدا کا (دیا ہوا) رزق کھاؤ اور (تم کو) اسی کے پاس (قبروں سے) نکل کر جانا ہے۔
یعنی وہی ہے جس نے زمین کو مسخر کردیا اور اسے تمہارا مطیع کردیا تکاہ تم اس میں سے ہر وہ چیز حاصل کرسکو جس سے تمہاری حاجات متعلق ہیں۔ باغات لگانا، عمارتیں تعمیر کرنا، کھیتیاں اگانا اور ایسی شاہراہیں بنانا جو تمہیں دور دراز ملکوں اور شہروں تک پہنچاتی ہیں (فامشوا فی مناکبھا) پس تم اس کی راہوں میں چلو پھرو یعنی طلب رزق ومکاسب کے لیے (وکلوا من رزقہ والیہ النشور) اور اللہ کے رزق سے کھاؤ اور اسی کی طرف جی اٹھنے کے بعد جانا ہے۔ یعنی اس گھر سے منتقل ہو کر جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے امتحان گاہ اور ایسا وسیلہ بنایا ہے جس کے ذریعے سے آخرت کے گھر تک پہنچا جاتا ہے، تمہارے مرنے کے بعد تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے پاس اکٹھا کیا جائے گا تاکہ وہ تمہیں تمہارے اچھے اور برے اعمال کی جزا وسزا دے۔
Top