Bayan-ul-Quran - Al-Mulk : 22
اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
اَفَمَنْ يَّمْشِيْ : کیا پھر جو چلتا ہے مُكِبًّا : سرنگوں ہوکر۔ سر جھکا کر عَلٰي وَجْهِهٖٓ : اپنے چہرے پر اَهْدٰٓى : زیادہ ہدایت یافتہ ہے اَمَّنْ يَّمْشِيْ : یا جو چلتا ہے سَوِيًّا : سیدھا عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : سیدھے راستے پر
(پس اس کافر کے متعلق سوچو کہ) جو شخص منہ کے بل گرتا ہوا چل رہا ہو وہ منزل مقصود پر زیادہ پہنچنے والا ہوگا یا وہ شخص جو سیدھا ایک ہموا سڑک پر چلا جارہا ہو۔ (ف 1)
1۔ یہی حال ہے مومن و کافر کا کہ مومن کے چلنے کا رستہ بھی دین مستقیم ہے اور چلتا بھی ہے وہ سیدہا ہوکر، اور افراط وتفریط سے بچ کر، اور کافر کے چلنے کا رستہ بھی زیغ و ضلالت کا ہے، اور چلنے میں بھی ہر وقت مہالک و مخاوف میں گرتا جاتا ہے، پس ایسی حالت میں کیا منزل مقصود پر پہنچے گا۔
Top