Tafseer-al-Kitaab - Al-Mulk : 22
اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
اَفَمَنْ يَّمْشِيْ : کیا پھر جو چلتا ہے مُكِبًّا : سرنگوں ہوکر۔ سر جھکا کر عَلٰي وَجْهِهٖٓ : اپنے چہرے پر اَهْدٰٓى : زیادہ ہدایت یافتہ ہے اَمَّنْ يَّمْشِيْ : یا جو چلتا ہے سَوِيًّا : سیدھا عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : سیدھے راستے پر
بھلا جو شخص اپنا منہ اوندھائے ہوئے چلے وہ سیدھی راہ پانے والا ہے یا وہ شخص جو سیدھا (سر اٹھائے) راہ راست پر چلا جا رہا ہے ؟
[7] یعنی یہ کافر کتے کی مانند اپنی خواہشوں کے غلام ہیں۔ جس طرح کتا زمین کو سونگھتا ہوا چلتا ہے کہ شاید کوئی چیز کھانے کو مل جائے اسی طرح ان لوگوں کی رہنما بھی عقل کی جگہ ان کی خواہش ہے اور یہ سر جھکائے اپنی خواہش کے پیچھے چل رہے ہیں۔ خواہش کے پیچھے چلنے والا کبھی ہدایت کی راہ نہیں پاسکتا۔ ہدایت کی راہ اسی کو ملتی ہے جو سیدھی راہ پر سر اٹھا کر دائیں بائیں اور آگے پیچھے کا جائزہ لیتا ہوا چلتا ہے۔
Top