Mazhar-ul-Quran - Al-Mulk : 22
اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
اَفَمَنْ يَّمْشِيْ : کیا پھر جو چلتا ہے مُكِبًّا : سرنگوں ہوکر۔ سر جھکا کر عَلٰي وَجْهِهٖٓ : اپنے چہرے پر اَهْدٰٓى : زیادہ ہدایت یافتہ ہے اَمَّنْ يَّمْشِيْ : یا جو چلتا ہے سَوِيًّا : سیدھا عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : سیدھے راستے پر
بھلا وہ1 جو اپنے منہ کے بل اوندھا چلے زیادہ راہ پر ہے یا وہ جو کھڑا ہوکر سیدھے رستے پر چلتا ہے ۔
(ف 1) قرآن شریف میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ نے اس لیے اپنی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے کہ مشرک لوگ اس بات کو سمجھیں کہ جب نعمتیں اللہ کی پیدا کی ہوئی ہیں کسی کا اس میں دخل نہیں ہے اور کوئی مصیبت آن کو ان نعمتوں کو کچھ زوال پہنچ جائے تو اس زوال کی مصیبت کو بھی سو اللہ تعالیٰ کے اور کوئی دفع نہیں کرسکتا، تو پھر یہ کافر لوگ اندھاراستہ چل رہے ہیں کہ بتوں کو پوجتے اور اس کا شریک کرتے ہیں، اسی پر یہ مثال فرمائی ہے کہ خدا کو معبود ٹھہرانے والے لوگ اپنے پیروں سے سیدھی چال چلتے ہیں اور کافر لوگ ایسے جیسے کوئی پیروں سے چلنا چھوڑ کر منہ کے بل چلنے لگے۔ پھر فرمایا کہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے اس نے تو نصیحت کے سننے کے لیے کافی قدرت کے نمونے مثلا دیکھنے کے لیے آنکھیں ، ہر بات پر غور کرنے کے لیے ان کے دل میں عقل سب کچھ دیا ہے اس پر یہ اندھا راستہ چلیں گے تو قیامت کے دن اس اوندھی چال کی سزا بھی ان لوگوں کو اسی طرح کی دی جائے گی کہ جب آحشر کے دن یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو منہ کے بل اٹھیں گے جس کا ذکر قرآن شریف اور صحیحین وغیرہ کی حدیث میں اوپرگزرچکا ہے۔ ” قل ھوالذی ذراکم فی الارض والیہ تحشرون “ کی تفسیر وہی ہے جو اوپر گزری کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کھیل کے طور پر بےفائدہ نہیں پیدا کیا بلکہ انسان کے پیدا کرنے کا نتیجہ وہی ہے جو کئی جگہ قرآن میں بیان کردیا گیا ہے کہ چند روزہ زیست میں انسان سے جو نیک وبد ہوسکے وہ کرلیوے اور دنیا سے اٹھ جانے کے بعد اس کے سب دنیا کے ختم کے بعد اس کو پھر دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور اس کے عمر بھر کے نیک وبد کی جزاوسزا ہوگی تاکہ انسان کا پیدا کرنا رائیگاں نہ ہو، اس نصیحت کے ذکر میں اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں یہ بھی فرمایا کہ اب تو یہ کافر لوگ سرکشی سے یہ کہتے ہیں کہ قرآن کی نصیحت نہ ماننے پر جس عذاب سے ڈرایا جاتا ہے۔ آخر وہ عذاب کب آئے گا فرمایا کہ ان کافروں سے اس کے جواب میں کہیے کہ عذاب کے آنے کا وقت تو اللہ کو معلوم ہے لیکن اتنایاد رہے کہ جب عذاب کا وقت آئے گا توسرکشی سب نکل جائے گی اور بڑے بڑے سرکشوں کی صورت مارے دہشت وغم کے پہچانی نہ جائے گی، اللہ کا وعدہ سچا ہے بدر کی لڑائی والے دن اور مکہ کے قحط کے وقت دنیا میں تو یہ حال گذرچکا ، عقبی کے عذاب کا وقت مرنے کے بعد آئے گا اور اس وقت قائل کرنے کے لیے ان سے کہہ دیاجائے گا کہ جس عذاب کی دنیا میں تم جلدی کرتے تھے اب اس کا مزہ چکھو۔
Top