Kashf-ur-Rahman - Al-Mulk : 22
اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
اَفَمَنْ يَّمْشِيْ : کیا پھر جو چلتا ہے مُكِبًّا : سرنگوں ہوکر۔ سر جھکا کر عَلٰي وَجْهِهٖٓ : اپنے چہرے پر اَهْدٰٓى : زیادہ ہدایت یافتہ ہے اَمَّنْ يَّمْشِيْ : یا جو چلتا ہے سَوِيًّا : سیدھا عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : سیدھے راستے پر
بھلا وہ شخص جو ہر قدم پر منہ کے بل گرتا ہوا چلے وہ زیادہ راہ یافتہ ہوگایا وہ شخص جو ایک سیدھی راہ سیدھ باندھے چلا جارہا ہو وہ منزل مقصود تک پہنچے گا۔
(22) بھلا ایک وہ شخص جو اندھا اپنے منہ کے بل چلے وہ سیدھی راہ پائے گا یا وہ شخص جو چلے سیدھا اور ایک سیدھی راہ پر وہ مقصود تک پہنچے گا۔ قرآن نے یہ مشرک اور موحد کی مثال بیان فرمائی مکب کہتے ہیں اس شخص کو جو منہ کے بل گرتا ہو جیسے مرگی والا اندھا آدمی جو قدم قدم پر ٹھوکریں کھاتا ہو اور منہ کے بل گر گرپڑتا ہو تو ایک ایسا شخص جو قدم قدم پر منہ کے بل گرتا ہو اور اس حال میں راستہ طے کرتا ہو اور ایک ناہموار راستے پر رینگ رہا ہو اور سوائے زمین کے اس کو کچھ نظر نہ آتا ہو کیونکہ جب سیدھا کھڑا ہونے کا موقعہ ہی نہ ملے گا اور دوسری چیزیں اس کو کس طرح دکھائی دیں گی بہرحال ایک شخص تو ایسا ہے تو کیا یہ زیادہ را ہ یافتہ ہوگایا وہ شخص جو سیدھی سڑک اور سیدھی راہ سیدھا چلتا ہو یعنی صحیح وسالم اور سیدھا کھڑے ہوکرچلتا ہو ہر طرف کے نشانات اور اشجار واحجار اور چاند و سورج کو دیکھتا ہو چلتا ہو یہ منزل مقصود تک پہنچنے میں کامیاب ہوگا اور یہ زیادہ راہ یافتہ ہوگا بعض حضرات نے مکب سے ابو جہل اور سوی سے حضرت حمزہ یا ابوجہل اور عمار بن یا سر مراد لئے ہیں لیکن صحیح یہ ہے کہ آیت کا مفہوم عام ہے۔ ہرموحد اور ہر مشرک کی یہی حالت ہے ایک تخمین اور ظن پر ٹٹولتا ہوا چل رہا ہے اور ایک حق اور یقین کی راہ اختیار کئے ہوئے ہے اور جو یقین اور حق کی راہ چل رہا ہے وہی زیادہ راہ یافتہ اور کامیاب ہے ان دلائل واضحہ کے بعد بھی اگر یہ لوگ نہیں سمجھتے تو حضرت حق تعالیٰ پیغمبر (علیہ السلام) کو ارشاد فرماتے ہیں کہ ان کی فہمائش کا دوسرا طریقہ اختیار کیجئے اور ان سے یوں کہیے۔
Top