Tafseer-e-Haqqani - Al-Mulk : 22
اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
اَفَمَنْ يَّمْشِيْ : کیا پھر جو چلتا ہے مُكِبًّا : سرنگوں ہوکر۔ سر جھکا کر عَلٰي وَجْهِهٖٓ : اپنے چہرے پر اَهْدٰٓى : زیادہ ہدایت یافتہ ہے اَمَّنْ يَّمْشِيْ : یا جو چلتا ہے سَوِيًّا : سیدھا عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : سیدھے راستے پر
بھلا وہ جو اپنا منہ اوندھا کر کے چلتا ہے وہ زیادہ راہ راست پر ہے یا جو سیدھے راستے پر چلا جاتا ہے۔
ترکیب : مکبا حال من ضمیر یمشی علی وجہہ توکیدا ھدٰی خیر امن والھمزۃ للاستفہام الفاء لترتیب ذلک علی ماظہرمن سوء حالھم والمکب اسم فاعل من اکبَّ اللازم المطاوع لکبہ یقال کبہ اللہ فاکب ای سقط وھذا خلاف القیاس لان الھمزۃ اذادخلت علی اللازم تصیرہ متعد یاً وھنا قد دخلت علی المتعدی فصیرتہ لازتاً ۔ ھذاقول الواحدی وقال صاحب الکشاف لیس الامرکذلک وماجاء شیئٌ من نباء افعل مطاو عابل قولک اکب معناہ دخل فی الکب وصارذاکبٍ وقس علیہ نظائرہ اقشع وانقض واما مطاوع کب وقثع فھو انکب وانقثع۔ امن یمشی خبرمن محذوف لدلالۃ خبرمن الاولی وھو اھدٰی وقیل لاحاجۃ الی ذلک لان من الثانیہ معطوفۃ علی من الاولی عطف المفرد علی المفرد کقولک ازید قائم ام عمرو والخبر واحد لان ام لاحد الشیئین۔ قلیلاً مالغت لمحذوف ومامزیدۃ لتاکید التقلیل اے شکراً قلیلاً اوزماناً قلیلاً ۔ ان کنتم الخ جواب الشرط محذوف اخبرونی فلما الفاء فصیحۃ معربۃ عن تقدیر جملتین و ترتیب الشرطیۃ علیھما کانہ قیل وقد اتاھم الموعودبہ فرئوہ فلما رئوہ الخ زلفۃ مصدر بمعنی الفاعل ای قریبا او حال من المفعول سیئت الخ جواب لما یقال ساء الشیء یسور فھوسیٔ اذاقبح واسود قیل عطف علی سیئت عطف المجہول علی المجہول۔ تدّعون قرأ المجہور بالتشدید فھوا ما من الدعاء اومن الدعویٰ کما قال الزجاج والمعنی تطلبون وتستعجلون وتمنون وتسألون وقریٔ مخففا معناہ ظاہر۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ عتو اور نفور میں اڑے ہوئے ہیں۔ اب ان دونوں وصفوں کی قباحت بیان فرماتا ہے۔ فقال افمن یمشی مکبا علی وجہہ اھدٰی امن یمشی سویا علی صراط مستقیم۔ کہ کیا وہ شخص جو اونچے اونچے رستے میں ٹھوکریں کھاتا منہ کے بل گرتا ہوا چلتا ہے اس سے زیادہ راستے پر ہے جو صاف اور برابر راستے میں سیدھا چلا جاتا ہے گرتا پڑتا نہیں ؟ حالانکہ دونوں کو برابر کوئی نہیں کہے گا چہ جائیکہ اس ٹھوکریں کھانے والے اندھے کو جو برے رستے پر چلتا ہے اس سے زیادہ رستے پر اور مقصود کو پہنچنے والا کہے۔ پس وہ جو آسمانی قانون اور انبیاء (علیہم السلام) کے رستے پر صاف چلا جاتا ہے وہ مومن نیک ہے، ضرور منزل مقصود پر پہنچے گا اور یہ ٹھوکریں کھانے والا جاہل سرکش نفس اور شہوت اور جہالت اور رسم آبائی کے رستے پر چلتا ہے جو بڑا خاردار اور خطرناک رستہ ہے۔ اس میں بڑے بڑے عمیق گڑھے میں ٹھوکریں کھاتا منہ کے بل گرتا پڑتا جاتا ہے۔ یہی منزل مقصود تک نہیں پہنچے گا، گڑھوں میں گر کر ہلاک ہوگا۔ یہ کافر ‘ سرکش اسلام سے نفرت کرنے والے کی مثال ہے۔ پھر بعض مفسرین کہتے ہیں اس میں کسی خاص شخص کی طرف اشارہ نہیں بلکہ عموم مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں شخص خاص کی طرف۔ دونوں مثالوں میں اشارہ ہے۔ پھر بعض کہتے ہیں حضرت نبی (علیہ السلام) اور ابوجہل مراد ہیں۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں حمزہ بن عبدالمطلب ؓ اور ابوجہل مراد ہے۔ کجی اور راستی کا بیان۔ بعض مفسرین کہتے ہیں آیت میں کافر و مومن کی روش کجی اور راستی کا بیان ہے۔ بعض کہتے ہیں آخرت کے حال کا ذکر ہے کہ کفار آخرت میں اوندھے گرتے ہوئے چلیں گے۔ کماقال ونحشرھم یوم القیامۃ علی وجوھھم اور مومن جنت کی طرف سیدھے دوڑتے ہوئے جائیں گے۔ شریعت مصطفویہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام اور کفر کی تمثیل ہے کہ آخرت میں بھی وہ یوں متمثل ہو کر سامنے آئے گی۔ یہ بھی مسئلہ نبوت کے متعلق ایک پراثر بیان ہے۔ اس کے بعد اثبات قدرت کاملہ پھر ایسے دلائل شروع کرتا ہے جن سے یہ بھی ثابت ہوجائے کہ مرنے کے بعد باردگر زندہ کرنے پر بھی وہ قادر ہے کس لیے کہ کفار عرب حشر کے منکر تھے اور یہ انکار حصول حسنات سے روکنے والا اور شہوت پرستی پر جرأت دلانے والا تھا۔ دوسرا شاہد : اول شاہد تو پہلے گزر چکا تھا۔ اب دوسرا شاہد ذکر کرتا ہے۔ فقال ھوالذی انشاء کم وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ قلیلا ماتشکرون کہ وہی تو ہے کہ جس نے تم کو پیدا کیا، نیست سے ہست میں لایا اور اس کے بعد تمہارے لیے شنوائی اور دیکھنے کو آنکھیں اور سمجھنے کے لیے دل بنائے، پر تم کم شکر کرتے ہو۔ پہلی دلیل میں پرندوں کا ہوا میں تھامنا مذکور تھا جو اس کی قدرت کا ایک عجیب کرشمہ ہے۔ یہاں انسان کی پیدائش اور اس کی صفات پیدا کرنا بیان فرماتا ہے جو ایک عجیب حیرت بخش مسئلہ ہے جس میں جس قدر غور کرتے جاؤ ہزاروں اسرار قدرت سمجھ میں آتے جائیں گے۔ آخر عقل و ادراک خیرہ ہو کر یہی کہہ دیتا ہے۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین۔ اس برہان میں کئی باتوں کی طرف اشارہ ہے۔ (1) یہ کہ جس نے تم کو پیدا کیا اور جس نے تم کو عقل و ادراک ‘ ہوش و حواس عطا کیا اس کو چھوڑ کر اور کی طرف جھکنا کس قدر ناانصافی ہے۔ (2) یہ کہ بن مانگے جس نے تم کو یہ جواہر عطا کئے جن میں سے ایک کی بھی قیمت کوئی نہیں دے سکتا نہ وہ کسی طرح مول لیے جاسکتے ہیں۔ پھر وہ تمہاری رفع حاجات و دفع بلیات میں تمہارے مانگنے پر کیوں کوتاہی کرنے لگا، پھر اور کی طرف جاتے ہو کیا یہی شکرگزاری ہے ؟ (3) تم نے دنیا میں آنے کا راز نہیں سمجھا حالانکہ ہم نے تم کو کان دیے تھے کہ بزرگوں سے سن کر سمجھتے اور آنکھیں بھی دی تھیں کہ اس کی مخلوقات میں نظر کر کے عبرت حاصل کرتے اور جانتے کہ یہ لوگ اس جہان میں آتے اور چند دن رہ کر چلے جاتے ہیں، کیا بات ہے ؟ آنکھوں سے بھی تم نے کام نہ لیا، دل بھی دیے تھے کہ خود غور کرتے، مراقبہ کر کے سمجھتے مگر ان سے بھی کام نہ لیا۔ ان کو تو حبِّ دنیا و حبِّ شہوات سے بھر رکھا ہے ہمارے آنے کے لیے جگہ ہی باقی نہ رکھی، پھر ان چیزوں کی یہی شکرگزاری ہے ہیچ ہے قلیلا ماتشکرون۔ (4) جس نے تم کو اول بار بغیر نمونے کے بنا دیا تمہارے جسم کے اجزاء کن کن غذائوں سے کیسے جمع کئے پھر کیا وہ باردگر تم کو مرنے کے بعد زندہ نہیں کرسکتا ؟ تیسرا شاہد : اس کے بعد تیسرا شاہد بیان فرماتا ہے جس میں یہاں آنے کے راز کو کسی قدر ظاہر کیا ہے کہ اسی کے پاس جا رہے ہو پھر کچھ کر کے جائو۔ فقال ھوالذی ذرا کم فی الارض والیہ تحشرون۔ کہ اسی نے تم کو زمین پر پھیلا دیا۔ کوئی ملک نہیں کہ جہاں اولاد حضرت آدم ( علیہ السلام) نہ ہو تھوڑے دنوں میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی نسل دنیا بھر میں پھیل گئی۔ یہ برکت اسی نے عطا کی ہے پھر جس نے پھیلایا وہی تم کو سمیٹ کر اپنے پاس ایک روز جمع کرلے گا۔ واضح ہو کہ یہ دلائل صحت و ثبوت حشر و نشر کے لیے تھے تاکہ وہ آزمائش صحیح سمجھی جائے جس کا اول سورة میں ذکر تھا۔ لیبلوکم ایکم احسن عملا وھو العزیز الغفور۔ پھر اس مقصود کے ثابت کرنے کے لیے اپنے کمال قدرت پر چند دلائل بیان فرمائے اور ان کو ھو الذی ذرا کم فی الارض تک تمام کیا اور یہ ثابت کردیا کہ جس کو ابتدائً پیدا کرنے کی قدرت ہے وہ مرنے کے بعد بھی زندہ کرسکتا ہے اس لیے اس کے بعد یہ جملہ والیہ تحشرون۔ گویا تمام دلائل کا نتیجہ ہے جس کے ثبوت میں کسی عقلمند کو ذرا بھی کلام نہ ہونا چاہیے۔ اس جملے کو سن کر منکرین حشر کو کوئی حجت باقی نہ رہی مگر صرف تمسخر کے طور پر یہ کہنے لگے۔ ویقولون متی ھذا الوعدان کنتم صادقین کو وہ وعدہ یعنی قیامت کب ہے، اگر تم سچے ہو تو اس کی تعیین کرو۔ یہ ایک مہمل سوال ہے کس لیے کہ خواہ وہ کبھی ہو اس کے لیے عاقل کو تیار کرنا چاہیے۔ اس لیے اس کا جواب بھی دوسری طرح سے دیا گیا۔ قل انما العلم عنداللہ انما انانذیر مبین کہ اے محمد ﷺ ان سے کہہ دے کہ اس کے وقت کا علم تو اللہ ہی کو ہے اور میں جو ہوں تو تمہیں اس سے ڈرانے والا ہوں، صاف صاف اس کے لیے تعین وقت کا علم کوئی ضروری نہیں ہاں اس کا علم ضروری ہے جو نذیر کے لیے کافی ہے سو وہ مجھے حاصل ہے اور اس کا مجھے کامل یقین ہے پھر جب وہ وقت آئے گا کہ جس کا کوئی تعین نہیں جانے کب آجائے تو کیا حال ہوگا۔ فقال فلمارا وہ زلفۃً جبکہ اس وعدے کو دیکھیں گے کہ قریب آگیا تو سیئت وجوہ الذین کفروا۔ منکروں کے منہ بگڑ جائیں گے۔ دہشت اور ہیبت کے مارے چہرے سیاہ پڑجائیں گے۔ وقیل ھذا الذی کنتم بہ تدعون۔ اور اس وقت شرمندہ اور ذلیل کرنے کے لیے کہا جائے گا (فرشتے کہیں گے یا ایک دوسرے سے کہے گا) لو یہ ہے وہ وقت کہ جس کی بابت تمہیں دعویٰ تھا کہ ہرگز نہ ہوگا۔ یا یہ ہے وہ کہ جس کو تم دنیا میں پکارتے اور مانگتے تھے کہ وہ کب اور کیوں نہیں جلد آچکتا۔ معاذاللہ مصیبت کا وقت بھی برا وقت ہوتا ہے خصوصاً جس کا کوئی تدارک نہ ہو سکے جب وہ سامنے آتا معلوم ہوجاتا ہے تو ہوش و حواس باقی نہیں رہتے اور رنج و تکلیف، ہیبت و دہشت کے آثار چہرے پر ایسے نمایاں ہوتے ہیں کہ چہرہ بگڑ جاتا ہے۔ جب ایسی مصیبت آنے والی ہو اور اس کے آنے میں کچھ بھی کلام نہ ہو تو اس سے بیخبر رہ کر حجت بازی کرنا کیسی حماقت اور کیسی بدنصیبی ہے۔ ان آیات میں مسئلہ حشر کی ہولناک کیفیت بیان کی گئی جو رسالت کا ایک مقصد اعظم ہے کس لیے کہ یہی انسان کے شہواتی خیالات کو پست کرنے والی چیز ہے۔ فائدہ : حشرِحقیقی کا تو ایک وقت معین ہے کہ آسمان و زمین یعنی یہ عالم ناسوتی فنا ہو کر عالم ملکوتی ظہور کرے گا اور وہاں اس عالم کی ہر چیز اپنی مناسب صورتوں میں ظاہر ہوگی اور تمام بنی آدم خدا تعالیٰ کے پاس حاضر کئے جائیں گے، جزاء و سزا کے لیے اور یہی راز ہے اس جہان میں آنے کا جس کو پہلے لیبلوکم ایکم احسن عملا میں بیان فرمایا تھا مگر مرنے کے بعد بھی خدا کے پاس ارواح جزاء و سزا کے لیے حاضر کی جاتی ہیں اور اس کو قیامت صغریٰ کہتے ہیں اور کیا سچا قول ہے۔ من مات فقد قامت قیامتہ کہ جو مرگیا اس کی قیامت برپا ہوگئی۔ یہ قیامت کبریٰ کا دروازہ ہے اور یہ بھی مبہم رکھی گئی ہے تاکہ انتظام عالم میں خلل نہ آئے اور زیرک ہر وقت ہوشیار رہے، پھر یہ کبھی فرادٰی فرادٰی ہوتی ہے اور کبھی کوئی آسمانی حادثہ یکایک آپڑتا ہے کہ جس سے ہزاروں لاکھوں یکبارگی ملک عدم میں پہنچ جاتے ہیں۔ ان باتوں کی طرف بھی والیہ تحشرون میں اشارہ تھا کہ کفار و مشرکین کی قوت نظریہ اور عملیہ دونوں خراب ہوچکی تھیں وہ اس کی بابت بھی وقت کی تعیین پوچھتے تھے کہ وہ حادثہ جس کو ہم محض خدا کی طرف سے اپنے کفروبت پرستی کی سزا میں سمجھیں ‘ کب آئے گا۔ یہ بڑا گستاخانہ سوال ہے۔ اس عالم میں سینکڑوں حوادث پہلے گزر چکے جن کے آثار تمہارے سامنے ہیں اور بہت سے گزر رہے ہیں۔ پھر ان کی بابت سوال کرنا کہ وہ کب ہوں گے، بڑی بیہودہ بات ہے جس کا جواب یہی ہے کہ جب اس کو سامنے آتے دیکھیں گے تو منہ بگڑ جائیں گے۔
Top