Tafseer-e-Madani - Al-Mulk : 22
اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
اَفَمَنْ يَّمْشِيْ : کیا پھر جو چلتا ہے مُكِبًّا : سرنگوں ہوکر۔ سر جھکا کر عَلٰي وَجْهِهٖٓ : اپنے چہرے پر اَهْدٰٓى : زیادہ ہدایت یافتہ ہے اَمَّنْ يَّمْشِيْ : یا جو چلتا ہے سَوِيًّا : سیدھا عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : سیدھے راستے پر
تو کیا وہ شخص زیادہ راست رو ہے جو اوندھا چل رہا ہو اپنے منہ کے بل یا وہ جو سر اٹھا کر سیدھا چل رہا ہو ایک (کھلی کشادہ) شاہراہ پر ؟1
27 کافر و مشرک اندھے اور اوندھے، والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ کافر اور مشرک کی مثال اوندھے انسان کی ہے۔ پس یہ مثال کافر اور مشرک کی ہے، جو ایمان و توحید کی سیدھی اور سچی راہ سے محروم ہو کر اوندھے منہ الٹا چلا جا رہا ہے، یہاں تک کہ اپنی اسی الٹی روش اور اوندھی چال کے نتیجے اور انجام میں کل آخرت کے اس ابدی جہاں میں جو کہ کشف حقاق کا جہاں ہوگا، یہ اپنے منہ کے بل چل کر دوزخ کی آگ میں گرے گا والعیاذ باللہ، آنضحرت ﷺ سے جب اس بارہ عرض کیا گیا کہ یہ لوگ وہاں پر منہ کے بل کیسے چلیں گے ؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس ذات نے ان کو پاؤں کے بل چلایا ہے وہ ان کو منہ کے بل چلانے پر بھی قادر ہے، (صحیح بخاری کتاب التفسیر، تفسیر سورة الفرقان، ابن کثیر، جامع البیان وغیرہ) سو یہ لوگ اس کتے کی مانند اپنی خواہشوں کے غلام ہیں جو ہر وقت اپنی ناک زمین سے لگائے سونگھتا ہوا چلتا ہے کہ شاید کوئی چیز کھانے کو مل جائے، وہ سر اٹھا کر دیکھتا ہی نہیں اور جب اس کو اپنی نسل کا کوئی دوسرا فرد مل جاتا ہے تو یہ فوراً جا کر اپنا منہ اس کی پیشاب گاہ پر لگاتا اور اس کو سونگھتا اور چاٹتا ہے جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ خواہشات نفس کا بندہ اور غلام ہے۔ سو یہی حال ہے نور حق و ہدایت سے منہ موڑنے والے کافروں، منکروں اور دوسرے باطل پرستوں کا کہ ان کی زندگی کا مشن اور قمصد بھی بطن و فرج کی خواہشات کی تکمیل اور ان کی غلامی اور بس۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین 28-× مومن راہ راست اور فطرت سلیمہ پر قائم والحمد اللہ : سو مومن کی مثال سر اٹھا کر سیدھی راہ پر چلنے والے انسان کی ہے : پس یہ مثال مومن موحد کی ہے کہ اس کا راستہ بھی صحیح ہے کہ وہ ایمان و توحید کا راستہ ہے جو کہ عقل و نقل اور دین و فطرت کے عین مطابق ہے اور یہ چلتا بھی اس پر سماوی ہدایات و تعالیم کے مطابق ہے، اس لئے یہ بغیر کسی خوف و خطر کے کامیابی اور جنت کی راہ پر گامزن ہ، سبحان اللہ کتنی اونچی اور کس قدر پاکیزہ اور انمول دولت ہے یہ ایمان و یقین کی دولت جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار و بہرہ ور کرتی ہے۔ فالحمد للہ الذی شرقنا بھذہ النعمۃ نعمۃ الذین والایمان اللھم زدنا منہ وثبتنا علیہ سو حق و ہدایت کی دولت اسی کو ملتی ہے جو سیدھی راہ پر سر اٹھا کر داہنے بائیں اور آگے پیچھے دیکھتا ہو اور اپنے اگر دو پیش کا جائزہ لیتا ہوا چلتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسی لیے انسان کو مستوی القامت یعنی سیدھے وجود والا پیدا کیا ہے، اس کو جانوروں کی طرح زمین کی طرف جھکا ہوا نہیں پیدا کیا، لیکن بہت سے انسان ہیں کہ اپنے شرف و امتیاز کو بھلا کر جانوروں ہی کی تقلید کرتے ہیں اور اسی طرح وہ اپنی اس اعلیٰ خصوصیت اور امتیازی شان کو کھو بیٹھتے ہیں، جو انسان کا اصلی شرف اور تحفہ امتیاز ہے، اسی لیے قرآن پاک میں جگہ جگہ خواہشات کے پیچھے چلنے والوں کی مثال جانوروں خاص کر کتوں سے دی گئی ہے، جو ہر وقت اپنی ناک زمین پر ہی لگائے رکھتا ہے کہ یہی اس کا منتہائے مقصود ہوتا ہے اور بس، والعیاذ باللہ العظیم۔
Top