Tafseer-e-Madani - Ash-Shura : 20
مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ
مَنْ كَانَ : جو کوئی ہے يُرِيْدُ : ارادہ رکھتا۔ چاہتا ہے حَرْثَ الْاٰخِرَةِ : آخرت کی کھیتی کا نَزِدْ لَهٗ : ہم زیادہ کردیتے ہیں اس کے لیے فِيْ حَرْثِهٖ : اس کی کھیتی میں وَمَنْ : اور جو کوئی كَانَ : ہے يُرِيْدُ : ارادہ رکھتا حَرْثَ الدُّنْيَا : دنیا کی کھیتی کا نُؤْتِهٖ مِنْهَا : ہم دیتے ہیں اس کو اس میں سے وَمَا لَهٗ : اور نہیں اس کے لیے فِي : میں الْاٰخِرَةِ : آخرت (میں) مِنْ نَّصِيْبٍ : کوئی حصہ
جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ہم اس کے لئے افزونی دیتے ہیں اس کی کھیتی میں اور جو کوئی دنیا کی کھیتی چاہتا ہے اس کو ہم اسی میں سے (جو چاہتے ہیں) دے دیتے ہیں مگر آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا3
57 آخرت ہی اصل مقصود ہونی چاہیے ؟ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اصل مقصود آخرت ہی کو بنانا چاہیئے کہ اسی میں دنیا کا بھی بھلا ہے۔ یعنی انسان اپنی اس دنیاوی زندگی میں اچھا برا جو بھی کوئی عمل کرتا ہے وہ اس کی اپنی کمائی ہے۔ کیونکہ دنیاوی زندگی کی یہ فرصت جو آج اسے میسر ہے دراصل ایک کھیتی ہے جسے وہ خود کاشت کر رہا ہے۔ جس کا پھل خود اسی کو ملے گا۔ اچھی کھیتی اور کمائی کا اچھا پھل اور بری کھیتی کا برا پھل ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ۔ " اَلدُّنْیَا مَزْرَعَۃُ اِلْاٰخِرَۃِ " ۔ یعنی " یہ دنیا آخری کی ابدی اور حقیقی زندگی کی کمائی کے لئے ایک عظیم الشان کھیتی ہے "۔ پھر اپنی کمائی کے بارے میں اس کو اس بات کی آزادی اور اس کا اختیار حاصل ہے کہ وہ اس کا پھل اسی دنیا میں چاہتا ہے یا آخرت میں۔ دونوں صورتوں میں اللہ پاک کا معاملہ ایسے شخص سے مختلف ہوگا۔ نیکی کا بدلہ آخرت میں چاہنے کی صورت میں اللہ پاک اس کی اس نیکی کو بڑھاتا جائے گا کہ ایک طرف تو ایسے خوش نصیب انسان کو اپنی اس نیکی کی برکت سے مزید نیکیاں کرنے کی توفیق وسعادت نصیب ہوگی کہ یہ نیکی کا اپنا ایک طبعی تقاضا اور فطری اثر ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ۔ " اِنَّ مِنْ جَزَائِ الْحَسَنَۃِ الْحَسَنَۃُ بَعدَہَا " ۔ یعنی " نیکی کی جزا میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے بعد مزید نیکی کرنے کی توفیق ملتی ہے " اور دوسری طرف اس کی اس نیکی کو جو اس نے صدق و اخلاص سے کی ہوگی حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نہ صرف یہ کہ محفوظ رکھے گا بلکہ اس کو اپنی شان کرم سے بڑھاتا جائے گا۔ جیسا کہ دوسری نصوص میں اس کی طرح طرح سے توضیح فرمائی گئی ہے۔ اور اس کے نتیجے میں وہ اس کو آخرت میں اپنی ان عظیم الشان نعمتوں سے نوازے گا جن کا تصور بھی یہاں کسی انسان کے لئے ممکن نہیں۔ اور اس سے پہلے وہ اس کو اس دنیا میں بھی اپنے طرح طرح کے انعامات سے نوازے گا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ مگر اس کا اس آیت کریمہ میں ذکر نہیں فرمایا گیا کہ آخرت کے عظیم الشان انعامات کے مقابلے میں ان دنیاوی نعمتوں کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔ اور اس کے برعکس جو کوئی اپنے عمل سے اس دنیاوی زندگی ہی کا بدلہ چاہے گا تو اس کو دنیا میں تو وہی کچھ مل سکے گا جو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی مشیت ہوگی لیکن آخرت میں ایسے شخص کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔ اور وہاں اس کو دوزخ کی ہولناک آگ میں داخل ہونا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ سورة بنی اسرائیل کی آیت نمبر 18 اور دوسری مختلف نصوص میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ سو طالب آخرت کے لئے آخرت کی حقیقی اور ابدی کامیابی کے ساتھ ساتھ اس دنیا کی سعادت بھی مقدر ہے جبکہ طالب دنیا یہاں پر اپنا مقدر اور نصیب ہی پا سکے گا۔ اور وہاں ہمیشہ کی ناکامی سے ہمکنار ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو دنیا تونیکوکاروں اور بدکاروں سب ہی کو ملتی ہے مگر آخرت انہی کو ملتی ہے جو اس کے طالب ہوتے ہیں۔ پس اصل مقصود طلب آخرت ہی ہونی چاہئیے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Top