Mazhar-ul-Quran - Ash-Shura : 20
مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ
مَنْ كَانَ : جو کوئی ہے يُرِيْدُ : ارادہ رکھتا۔ چاہتا ہے حَرْثَ الْاٰخِرَةِ : آخرت کی کھیتی کا نَزِدْ لَهٗ : ہم زیادہ کردیتے ہیں اس کے لیے فِيْ حَرْثِهٖ : اس کی کھیتی میں وَمَنْ : اور جو کوئی كَانَ : ہے يُرِيْدُ : ارادہ رکھتا حَرْثَ الدُّنْيَا : دنیا کی کھیتی کا نُؤْتِهٖ مِنْهَا : ہم دیتے ہیں اس کو اس میں سے وَمَا لَهٗ : اور نہیں اس کے لیے فِي : میں الْاٰخِرَةِ : آخرت (میں) مِنْ نَّصِيْبٍ : کوئی حصہ
جو کوئی1 (اپنے اعمال کی ) کھیتی (کا فائدہ) آخرت میں چاہے تو ہم اس کو (نیکیوں کی توفیق دے کر) اس کی کھیتی بڑھاتے ہیں اور جو کوئی دنیا کی کھیتی چاہے تو ہم اس میں سے اس کو کچھ حصہ دیتے ہیں اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں ہے ۔
(ف 1) جو بندہ خالصا اللہ عمل کرتا ہے اور اپنے کاموں سے آخرت کا منافع لینا چاہتا ہے اور یہ جانتا ہے کہ جو یہاں بیج بوؤں وہاں کاٹوں تو ہم اس کے کھیت کی پیداوار اور بےحدزائد کرتے ہیں یعنی اس کا ثواب ہزارہا گنادیں گے یا یہ کہ اس کو خوشی اور قوت اچھے کاموں کی زائد کریں گے اور اس کے دل میں اور خلوص بڑھائیں گے یا یہ کہ دنیا میں کبھی دیں گے اور وہاں بھی زائد اور جس کا عمل محض دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو، اور وہ آخرت پر ایمان نہ رکھتا ہو تو ہم اس کو دنیا کا نفع دیتے ہیں اور ظاہر مصیبت دنیا ٹالتے ہیں وہاں جاکر قیامت میں خالی رہے گا کچھ نہ ملے گا کہ کام کرتے وقت اپنے وہاں کے نفع کا خیال نہ تھا اسنے فقط دنیا کے لیے کیا تھا سو وہ ملے گی۔
Top