Mutaliya-e-Quran - Ash-Shura : 21
مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ
مَنْ كَانَ : جو کوئی ہے يُرِيْدُ : ارادہ رکھتا۔ چاہتا ہے حَرْثَ الْاٰخِرَةِ : آخرت کی کھیتی کا نَزِدْ لَهٗ : ہم زیادہ کردیتے ہیں اس کے لیے فِيْ حَرْثِهٖ : اس کی کھیتی میں وَمَنْ : اور جو کوئی كَانَ : ہے يُرِيْدُ : ارادہ رکھتا حَرْثَ الدُّنْيَا : دنیا کی کھیتی کا نُؤْتِهٖ مِنْهَا : ہم دیتے ہیں اس کو اس میں سے وَمَا لَهٗ : اور نہیں اس کے لیے فِي : میں الْاٰخِرَةِ : آخرت (میں) مِنْ نَّصِيْبٍ : کوئی حصہ
کیا یہ لوگ کچھ ایسے شریک خدا رکھتے ہیں جنہوں نے اِن کے لیے دین کی نوعیت رکھنے والا ایک ایسا طریقہ مقرر کر دیا ہے جس کا اللہ نے اِذن نہیں دیا؟ اگر فیصلے کی بات پہلے طے نہ ہو گئی ہوتی تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا یقیناً اِن ظالموں کے لیے درد ناک عذاب ہے
اَمْ لَهُمْ شُرَكٰۗؤُا [ کیا ان کے کچھ ایسے شریک ہیں ] شَرَعُوْا لَهُمْ [ جنھوں نے قانون بنایا ان کے لیے ] مِّنَ الدِّيْنِ [ دین میں سے ] مَا [ اس کو ] لَمْ يَاْذَنْۢ [ اجازت نہیں دی ] بِهِ [ جس کی ] اللّٰهُ ۭ [ اللہ نے ] وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ [ اور اگر نہ ہوتا فیصلے کا فرمان ] لَـقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۭ [ تو ضرور فیصلہ کردیا جاتا ان کے درمیان ] وَاِنَّ الظّٰلِمِيْنَ [ اور یقینا ظالم لوگ ] لَهُمْ [ ان کے لیے ہی ہے ] عَذَابٌ اَلِيْمٌ [ ایک درد ناک عذاب ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 21 میں شرکوا سے مراد شریک نہیں ہیں جن سے لوگ دعائیں مانگتے ہیں یا جن کی نذرونیاز چڑھاتے ہیں یا جن کے آگے پوجا پاٹ کے مراسم ادا کرتے ہیں بلکہ ان سے مراد وہ انسان ہیں جن کو لوگوں نے شریک فی الحکم ٹھہرالیا ہے جن کے عقائد ، نظریات اور فلسفوں پر لوگ ایمان لاتے ہیں ، جن کے اخلاقی اصولوں اور تہذیب وثفاقت کے معیاروں کو قبول کرتے ہیں ، جن کے مقرر کیے ہوئے قوانین اور ضابطوں کو اپنی زندگی میں اس طرح اختیار کرتے ہیں کہ گویا یہی وہ شریعت ہے جس کی پیروی ان کو کرنی چاہیے ۔ یہ ایک پورا کا پورا دین ہے جو اللہ کی تشریع کے خلاف اور اس کے اذن کے بغیر ایجاد کرنے والوں نے ایجاد کیا اور ماننے والوں نے مان لیا ۔ یہ ویسا ہی شرک ہے جیسا غیر اللہ کو سجدہ کرنا ۔ اور غیر اللہ سے دعائیں مانگنا شرک ہے ۔ (تفہیم القرآن)
Top