Tafseer-e-Jalalain - Ash-Shura : 20
مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ
مَنْ كَانَ : جو کوئی ہے يُرِيْدُ : ارادہ رکھتا۔ چاہتا ہے حَرْثَ الْاٰخِرَةِ : آخرت کی کھیتی کا نَزِدْ لَهٗ : ہم زیادہ کردیتے ہیں اس کے لیے فِيْ حَرْثِهٖ : اس کی کھیتی میں وَمَنْ : اور جو کوئی كَانَ : ہے يُرِيْدُ : ارادہ رکھتا حَرْثَ الدُّنْيَا : دنیا کی کھیتی کا نُؤْتِهٖ مِنْهَا : ہم دیتے ہیں اس کو اس میں سے وَمَا لَهٗ : اور نہیں اس کے لیے فِي : میں الْاٰخِرَةِ : آخرت (میں) مِنْ نَّصِيْبٍ : کوئی حصہ
جو شخص آخرت کی کھیتی کا طالب ہو اس کے لیے ہم اس کی کھیتی میں افزائش کریں گے اور جو دنیا کی کھیتی کا خواستگار ہو اس کو ہم اس میں سے دے دیں گے اور اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہ ہوگا
آیت نمبر 20 تا 29 ترجمہ : جس کا مقصد اپنے عمل سے آخرت کی کھیتی ہو، یعنی آخرت کی کمائی ہو اور وہ ثواب ہے تو ہم اس کی کھیتی میں (یعنی) نیکیوں میں دس گنے تک (بلکہ) اور اس سے بھی زیادہ اضافہ کر کے ترقی دیں گے اور جو دنیا کی کھیتی کی طلب رکھتا ہو تو ہم اسے اس میں سے بلا اضافے کے بقدر نصیب عطا کریں گے، ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں بلکہ مکہ کے ان کافروں نے کچھ شرکاء تجویز کر رکھے ہیں اور وہ شیاطین ہیں کہ ان شرکاء نے ان کافروں کے لئے دین فاسد تجویز کر رکھا ہے، جس کی خدا نے اجازت نہیں دی (اور وہ دین فاسد) شرک اور انکار بعث ہے اور اگر فیصلے کے دن کا وعدہ نہ ہوچکا ہوتا یعنی پہلے سے فیصلہ نہ ہوچکا ہوتا کہ بدلہ قیامت کے دن میں دیا جائے گا تو ان کے اور مومنین کے درمیان دنیا ہی میں ان کو عذاب دے کر (ابھی) فیصلہ کردیا جاتا، اور ظالموں کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے آپ ظالموں کو دیکھیں گے کہ قیامت کے دن دنیا میں برے اعمال کرنے کی وجہ سے ڈر رہے ہوں گے، یہ کہ ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے اور وہ یعنی ان کے اعمال کا وبال قیامت کے دن ان پر لامحالہ واقع ہونے والا ہے اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے وہ جنت کے باغات میں ہوں گے (وہ باغات) دوسروں کی نسبت سے زیادہ پاکیزہ ہوں گے، وہ جو خواہش کریں گے اپنے پاس موجود پائیں گے یہی ہے بڑا فضل یہی ہے وہ جس کی بشارت اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو دے رہا ہے، جنہوں نے نیک عمل کئے بشارۃ (میں) مخفف اور مثقل (دونوں قراءتیں ہیں) (آپ) کہہ دیجئے کہ میں اس تبلیغ رسالت پر تم سے کوئی صلہ نہیں چاہتا مگر رشتہ داری کی محبت (چاہتا ہوں) یہ مستثنیٰ منقطع ہے (یعنی) لیکن میں چاہتا ہوں کہ تم میری قرابت (رشتہ داری) کا حق ادا کرو جو تمہاری بھی قرابت (رشتہ داری) ہے اس لئے کہ آپ ﷺ کی قریش کے ہر خاندان میں قرابت تھی اور جو شخص کوئی نیکی کرے گا ہم اس کے لئے اس نیکی میں اضافہ کر کے اور نیکی بڑھا دیں گے بیشک اللہ تعالیٰ گناہوں کے بہت بخشنے والے اور قلیل (نیکیوں) کے (بھی) بہت قدر دان ہیں کہ اس کو بڑھا دیتے ہیں بلکہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ (پیغمبر نے) اللہ پر قرآن کی اللہ کی طرف نسبت کر کے جھوٹا بہتان باندھا ہے پس اگر اللہ چاہے تو آپ کے قلب کو ان کی ایذاء رسانی پر صبر کے ساتھ اس قول وغیرہ کے ذریعہ مضبو کر دے اور ( اللہ) نے ( ایسا) کردیا، اور اللہ تعالیٰ ان کی باطل باتوں کو مٹاتا ہے اور اپنے نبی پر نازل کردہ اپنی بات کے ذریعہ حق ثابت کرتا ہے، بلاشہ وہ دل کی باتوں کو جانتا ہے وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ کو قبول فرماتا ہے اور ان برائیوں کو جن سے توبہ کرلی ہے معاف فرماتا ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو (سب) جانتا ہے (تفعلون) یاء اور تاء کے ساتھ ایمان والوں کی اور نیکو کاروں کی سنتا ہے جو وہ سوال کرتے ہیں اور اپنے فضل سے انہیں اور بڑھا کردیتا ہے اور کافروں کے لئے شدید عذاب ہے اگر اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں کی روزی فراخ کردیتا تو وہ سب زمین میں فساد برپا کردیتے لیکن وہ اندازے کے ساتھ جو کچھ چاہتا ہے رزق نازل کرتا ہے (ینذّل) تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے لہٰذا وہ اپنے بعض بندوں کے لئے روزی کشادہ کردیتا ہے نہ کہ بعض کے لئے، اور فراخی (رزق) سے سرکشی پیدا ہوتی ہے وہ اپنے بندوں سے پورا باخبر اور خوب دیکھنے والا ہے، اور وہ ایسی ذات ہے کہ لوگوں کے بارش سے ناامید ہوجانے کے بعد بارش برساتا ہے اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے (یعنی) اپنی بارش کو پھیلا دیتا ہے، اور وہ مومنین کے لئے محسن (کارساز) ہے اور بندوں کے نزدیک قابل حمد ہے اور اس کی (قدرت) کی نشانیوں میں سے زمین و آسمان کو پیدا کرنا ہے اور ان جانوروں کا پیدا کرنا ہے جو زمین و آسمانوں میں پھیلے ہوئے ہیں اور دابہ اس کو کہتے ہیں جو زمین پر چلتا ہو (مثلاً ) انسان وغیرہ اور وہ جب چاہے ان کو حشر کے لئے جمع کرنے پر قادر ہے (جمعھم) کی ضمیر میں ذوی العقول کو غیر ذوی العقول پر غلبہ دیا گیا ہے، اگر غیر ذوی العقول کا غلبہ ہوتا تو علیٰ جَمْعِھا کہا جاتا۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : مَنْ کانَ یُرِیدُ بعملہ حَرْثَ الْاٰخِرَۃِ یہ کلام مستانف ہے دنیا وآخرت کے لئے عمل کرنے والوں کے عمل میں یہ فرق کو بیان کرنے کے لئے لایا گیا ہے، یعنی جو شخص خالص آخرت کے لئے عمل کرے گا تو اس کے عمل میں اضعافا مضاعفۃ اضافہ کردیا جائے گا، اور جس کا عمل محض دنیا کے لئے ہوگا تو اس کو بھی دنیا سے کچھ حصہ جو اس کے نصیب میں ہے دے دیا جائے گا، مگر ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ قولہ : مَنْ اسم شرط محلاً مرفوع مبتداء ہے، اور نَزِدْ لَہٗ جواب شرط ہے۔ قولہ : ھو الثواب آخرت کے لئے عمل کو حرث ( کھیتی) کے ساتھ تشبیہ دی ہے، عمل مشبہ اور حرث مشبہ بہ ہے پھر مشبہ کو حذف کردیا اور مشبہ بہ کو باقی رکھا، یہ استعارہ تصریحیہ ہے، حرث کے اصل معنی القاءُ البذر فی الارض ہیں، مجازاً پیدا وار کو بھی حرث کہہ دیتے ہیں، استعارہ کے طور پر ثواب یعنی نتیجہ اعمال پر بھی اطلاق کو دیا جاتا ہے۔ قولہ : الحسنۃ یہ تضعیف کا مفعول بہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ قولہ : اَمْ لھم شرکاء مفسر (رح) تعالیٰ نے اَمْ کو بَلْ کے معنی میں لیا ہے جو کہ شرع لکم من الدین الخ سے انتقال کے لئے ہے اور دیگر مفسرین نے بَلْ اور ہمزہ کے ساتھ مقدر مانا ہے، جو کہ توبیخ کے لئے ہے اور قرطبی نے اَمْ لَھُمْ شرکاء کو معنی میں اَلَھُمْ شرکاء کے لیا ہے، اَمْ میں میم صلہ ہے، اور ہمزہ تقریع کے لئے ہے۔ قولہ : شرعوا کی اسناد شیاطین کی جانب اسناد مجازی ہے، شیاطین چونکہ کفار کی گمراہی کا سبب ہیں، لہٰذا یہ مسبب کی اسناد سبب کی جانب ہے۔ قولہ : ان یُجَازوا اس میں اشارہ ہے کہ کلام میں مضاف محذوف ہے ای یخافون من جزاء ما کسبوا۔ قولہ : یبشر اللہ من البشارۃ مخففاً ومثقلاً مادہ بشارۃ ہے، مخفف ہونے کی صورت میں ابشار (باب افعال) سے۔۔۔۔ مشدد ہونے کی صورت میں (باب تفعیل) سے ہے۔ قولہ : المَوَدَّۃُ مصدر منصوب (س) دوستی، محبت، دوست رکھنا۔ قولہ : القُربیٰ ، زُلفیٰ اور بشریٰ کے وزن پر اسم مصدر رشتہ داری قرابت (ن) مصدر قرابۃً ۔ قولہ : اِلاَّ الموَّۃَ فی القربیٰ اس میں دو قول ہیں (1) استثناء منقطع ہو اس لئے کہ مستثنیٰ منہ اجرًا ہے اور المَوَدَّۃَمستثناء ہے، اور مستثنیٰ مستثنیٰ منہ کی جنس سے نہیں ہے ای لا اسئلکم اجرًا قط (2) مستثنیٰ متصل ہو، ای لا اسئلُکم علَیْہ اجرًا اِلاَّ ھٰذا، وھو اَن تودُّوا اھل قرابتی الذین ہم قرابتکم اور۔ فی القربیٰ جار مجرور محذوف سے متعلق ہو کر حال ہے ای ثابتۃ ً فی القربیٰ ۔ قولہ : یَقْتَرِفُ اصلہ القَرْفُ ، ای الکَسَبُ کہا جاتا ہے فلان یَقْرِفُ لِعَبَالِہٖ کسَباً (بابہ ضرب) اس آیت کے مصداق کی تعیین میں شدید اختلاف ہے، ان میں زیادہ بہتر وہ ہے کہ جس کو مجاہد اور قتادہ نے ذکر کیا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے انکم قومی وَاَحَقُّ مَنْ اجَا بَنِی وَاَطَاعَنِی فاِذْ قَدْ اَبُیْتُمْ ذٰلک فَاحفظوا حقّ القربیٰ وصِلُوا رحمی ولا تؤ ذونِیْ یعنی تم میری قوم ہو اور جن لوگوں نے میری دعوت پر لبیک کہا ہے اور میری اطاعت قبول کی ہے ان سے تم زیادہ حقدار ہو، اب جبکہ تم نے اس کا انکار کردیا تو (کم از کم) میری قرابت کا خیال رکھو اور میرے ساتھ صلہ رحمی کا معاملہ کرو اور مجھے اذیت نہ پہنچاؤ۔ (لغات القرآن) قولہ : یُجیبُھم مفسر علام نے یَسْتجیبُ کی تفسیر یجیبُ سے کر کے اشارہ کردیا کہ سین تاکید کے لئے زائدہ ہے، جیس استعظَمَ بمعنی تَعَظَمَ ۔ تفسیر وتشریح مَنْ کان یُریدُ حرْثَ الْاٰخِرۃِ نزِد لہٗ فی حرثہ “ حرث ” کے معنی تخم ریزی کے ہیں، یہاں بہ طریق استعارہ اعمال کے ثمرات و فوائد مراد ہیں، مطلب یہ ہے کہ جو شخص دنیا میں اپنے اعمال اور محنت کے ذریعہ آخرت کے اجرو ثواب کا طالب ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی آخرت کی کھیتی میں اضافہ فرمائے گا، ایک ایک نیکی کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ تک عطا فرمائے گا۔ فائدہ : سوال یہ ہے کہ حرث دنیا کیا ہے ؟ اگر یہی مال و عیال دنیا ہے تو نہ اس سے چارہ اور نہ بچاؤ، اور نہ بچنے کا حکم، مگر ایسا نہیں ہے، شیخ سعدی (رح) تعالیٰ فرماتے ہیں : چیست دنیا از خدا غافل شدن نے قماش ونقرہ و فرزند وزن معلوم ہوا، ایسا قول وفعل اور آرزو و تمنا کہ جس میں کسی درجہ میں بھی خیر اور رضائے الٰہی ملحوظ نہ ہو حرث دنیا ہے اگرچہ ہجرت و جہاد و نماز جیسا مبارک عمل ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ حدیث شریف میں فرمایا، جس کی ہجرت کسی عورت سے نکاح یا دوسرے کسی کام کے لئے ہو وہ ہجرت اسی کے لئے ہے، اس کے برخلاف آپ نے یہ فرمایا کہ زن و فرزند کا نفقہ اور وظیفہ زوجیت میں اجروثواب ہے، اگر عمل صالح خلوص نیت کے ساتھ ہو تو بلاشک وشبہ بہت بڑا عمل ہے۔ اسلام میں کوئی عمل ایسا نہیں کہ جس میں رضاء الٰہی بالقصد یا بالتبع نہ پائی جائے حتی کہ جو خواب تہجد یا فجر کی نماز کے لئے بیداری کی نیت سے ہو اور جو غذا ادائے فرائض و احکام پر قوت حاصل کرنے کے لئے ہو اور جو لباس ستر پوشی یا اداء شکر کے لئے حتی کہ بیوی کے منہ میں لقمہ محبت اور نیک نیتی سے رکھے اس میں بھی اجرو ثواب ہے، اور مذکورہ تمام اعمال اعمالِ دنیا نہیں بلکہ دین ہیں، ان چیزوں پر وعید صرف اسی صورت میں ہے کہ جس سے سوائے دنیا اور آخرت سے غفلت کے کچھ مقصود نہ ہو۔ (خلاصۃ التفاسیر ملخصاً وترمیماً ) وَمَنْ کَانَ یُرِیْدُ حرثَ الدُّنْیَا نُؤ ْ تِہٖ منھا وَمَا لَہٗ فِی الْا ٰخرۃِ مِنْ نصیب یعنی طالب دنیا کو دنیا تو ملتی ہے لیکن اتنی نہیں جتنی وہ چاہتا ہے بلکہ اتنی ملتی ہے جتنی اللہ تعالیٰ کی مشیت اور تقدیر کے مطابق ہوتی ہے، شرک و معاصی جس میں یہ مبتلا ہوگئے ہیں، اللہ نے اس کا حکم نہیں دیا ہے، خود ان کے بنائے ہوئے شریکوں نے انسانوں کو شرک و معصیت کی راہ پر لگا دیا ہے۔ مشرکین قیامت کے روز اپنے اعمال کے عذاب اور ان کی پاداش سے خوف زدہ اور پریشان ہوں گے، حالانکہ ڈرنا بےسود اور بےفائدہ ہوگا، کیونکہ اپنے کئے کی سزا تو بہرحال بھگتنی ہوگی۔ قُلْ لا اسئلُکم عَلَیْہِ اجرًا الا المَوَدَّۃ فی القربیٰ (الآیۃ) قبائل قریش اور نبی ﷺ کے درمیان رشتہ داری کا تعلق تھا، آیت کا مطلب بالکل واضح ہے کہ میں وعظ و نصیحت اور دعوت و تبلیغ پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا، البتہ ایک چیز کا سوال ضرور ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان جو رشتہ داری کا تعلق ہے اس کا لحاظ کرو، تم میری دعوت کو نہیں مانتے تو نہ مانو، تمہاری مرضی، لیکن مجھے نقصان اور اذیت پہنچانے سے باز رہو، تم میرے دست وبازو نہیں بن سکتے تو نہ بنو، مگر میرے راستہ کا روڑا تو نہ بنو، حضرت ابن عباس ؓ نے اس آیت کے معنی یہ کئے ہیں کہ میرے اور تمہارے درمیان جو قرابت (رشتہ داری) ہے اس کو قائم رکھو۔ (صحیح بخاری تفسیر سورة شوریٰ ) اِلاَّ المودَّۃ فی القربیٰ ای الامودتکم اِیَّایَ لقرابتی منکم یعنی میں تبلیغ رسالت پر تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا مگر قرابت کے سبب سے میری محبت، فی بمعنی سبب ہے، جیسا کہ انَّ امراۃ دخلت النار فی ھرۃ ایک عورت ایک بلی وجہ سے دوزخ میں داخل ہوگئی ہے۔ (روح المعانی) آپ ﷺ کی آل کی محبت و توقیر جزء ایمان ہے : نبی کریم ﷺ کی آل یقیناً حسب ونسب کے اعتبار سے دنیا کی اشرف ترین آل ہے، اس سے محبت اس کی تعظیم و توقیر جزء ایمان ہے، اس لئے کہ آنحضرت ﷺ نے بھی ان کی تعظیم و تکریم کی تاکید فرمائی ہے، لیکن اس کا کوئی تعلق اس موضوع سے نہیں ہے، جیسا کہ شیعہ حضرات کھینچا تانی کر کے اس آیت کو آل محمد ﷺ کی محبت کے ساتھ جوڑتے ہیں، اور پھر آل کو بھی انہوں نے محدود کردیا ہے، حضرت علی ؓ و حضرت فاطمہ ؓ اور حسنین ؓ تک، نیز محبت کا مفہوم بھی ان کے نزدیک یہ ہے کہ ان کو معصوم اور الٰہی اختیارات سے متصف مانا جائے، علاوہ ازیں کفار مکہ سے اپنے گھرانے کی محبت کا سوال بطور اجرتِ تبلیغ نہایت عجیب بات ہے نیز یہ طلب اجرت آپ ﷺ کی شان سے نہایت فروتربات ہے اس لئے کہ ایسے امر پر طلب اجرت کہ جو واجب ہو علماء اور عوام سے بھی بعید ہے تو سید الخواص وختم الرسل سے کیونکر جائز ہوگا۔ پھر یہ آیت اور سورت مکی ہے جبکہ حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ کے درمیان ابھی عقد نکاح بھی نہیں ہوا تھا، یعنی ابھی وہ گھرانہ معرض وجود ہی میں نہیں آیا تھا، جس کی خود ساختہ محبت کا اثبات اسی آیت سے کیا جاتا ہے، اور حضرت حسن و حسین ؓ کا تو دنیا میں بھی اس وقت وجود نہیں ہوا تھا اس لئے کہ حضرت فاطمہ ؓ کا نکاح 2 ھ میں ہوا تھا، اس کے بعد 3، 4 ھ میں ان حضرات کی ولادت ہوئی ہے، تو پھر ان حضرات کو مذکورہ آیت کا مصداق قرار دینا کہاں تک صحیح ہے ؟ آیۃ مودۃ سے اہل تشیع کا خلافت بلا فصل پر غلط استدلال : قُلْ لاَ اَسئلکم عَلَیہِ اجرًا الاَّ الموَّۃَ فِی القربیٰ آپ فرما دیجئے کہ میں تم سے کچھ نہیں چاہتا بجز رشتہ داری کے محبت کے، شیعہ حضرات کا دعویٰ ہے کہ علی ؓ فاطمہ ؓ اور حسنین ؓ سے محبت رکھنا اجر رسالت ہے جو کہ امت پر واجب ہے، اس لئے بقول اہل تشیع اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک کے واسطے سے اعلان فرما دیا، کہ اے محمد آپ ﷺ اعلان فرما دیجئے کہ میں تعلیم و تبلیغ پر تم سے کوئی اجر وصلہ نہیں چاہتا بجز اس کے کہ میرے قرابت داروں سے محبت کرو، اور قرابت دار وہی مذکورہ “ چار اشخاص ” ہیں لہٰذا قرآن کی رو سے ان حضرات کی محبت واجب ہے اور جن کی محبت واجب ہوتی ہے وہی واجب الاطاعت ہوتے ہیں اور امامت عامہ کا یہی مفہوم ہے، لہٰذا حضرت علی ؓ کا خلیفہ بلا فصل ہونا ثابت ہوگیا، اپنے اس دعوے کی تائید میں ابن مطہر حلی نے مسند احمد کی طرف نسبت کر کے حضرت ابن عباس ؓ سے ایک روایت نقل کی ہے۔ عن ابن عباس قال لَمّا نزلت ھٰذہ الا ٰ یۃ قالوا یا رسول اللہ من قَرَابتُکَ اَلَّتی وَجَبَت عَلیْنَا مَوَدَّتُھُم ؟ قال علی وفاطمۃ، وابناھما اس روایت کو ابن مطہر نے ثعلبی کے واسطے سے مسند احمد اور صحیحین کی طرف منسوب کیا ہے اس روایت سے ابن مطہر حلی نے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مذکورہ چہارتن کی محبت واجب ہے، ان کے علاوہ اور کسی کی محبت واجب نہیں، لہٰذا علی ؓ سب سے افضل ہیں، اور جو سب سے افضل ہو وہی امامت عامہ کا مستحق ہے، لہٰذا علی ؓ ہی امامت بلا فصل کے مستحق ہیں۔ جواب : شیعہ حضرات نے اس آیت کی بنیاد پر بہت سے خام قلعے تعمیر کئے ہیں اور آیت کو اپنے مفید مقصد بناتے کی کوشش کی ہے، ابن مطہر نے بھی مذکورہ آیت کو اپنے دعوے کے ثبوت میں پیش کیا ہے، اور تائید میں مسند احمد کی ابن عباس سے ایک روایت صحیحین کی طرف منسوب کر کے پیش کی ہے، ابن مطہر حلی نے مذکورہ روایت کو مسند احمد اور صحیحین کی نسبت کر کے علمی بددیانتی اور آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی ہے، علامہ ابن تیمیہ (رح) تعالیٰ منہاج السنۃ ص 25، ج 4، پر تحریر فرماتے ہیں کہ ابن مطہر کا مذکورہ حدیث کی مسند امام احمد کی طرف نسبت کرنا فریب اور بہتان ہے، اسی طرح صحیحین کی طرف نسبت بھی مغالطہ اور سفید جھوٹ ہے، بلکہ صحیحین اور مسند میں تو اس کی ضد موجود ہے، بلکہ حقیقت صرف اتنی ہے کہ امام احمد نے خلفاء اربعہ کی فضیلت میں ایک کتاب تصنیف کی ہے جس میں رطب دیا بس ہر قسم کی روایات نقل کی ہیں، اس کے بعد امام احمد بن حنبل کے صاحبزادے عبد اللہ نے اس میں کچھ احادیث کا اضافہ کیا ہے، اور ابوبکر قطیفی نے بھی اس میں بہت واہی اور موضوع روایات کا اضافہ کیا ہے، ابن مطہر حلی نے ناواقفیت کی بناء پر ان روایات کو بھی مسند احمد کی طرف منسوب کردیا، مذکورہ روایت علماء حدیث کے نزدیک بالکل موضوع اور ناقابل اعتبار ہے، اس کی داخلی شہادت یہ ہے کہ مذکورہ آیت سورة شوریٰ کی ہے، اور سورة شوریٰ مکی ہے، اور حضرت علی ؓ کا نکاح غزوہ بدر کے بعد یعنی 2 ھ میں ہوا ہے، اس کے ایک سال بعد 3 ھ میں حضرت حسن ؓ کی ولادت ہوئی اور اس کے ایک سال بعد 4 ھ میں حضرت حسین ؓ کی ولادت ہوئی تھی، اور آیت کی تفسیر میں حلی صاحب فرما رہے ہیں کہ جب آپ سے مودّت قربیٰ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ علی ؓ فاطمہ ؓ اور حسنین کی محبت مراد ہے، مطلب اس کا یہ ہوا کہ حسنین ابھی پیدا نہیں ہوئے حتی کہ حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ ابھی رشتہ ازدواج میں منسلک بھی نہیں ہوئے، اور آیت کی تفسیر میں حسنین کی محبت کا ذکر فرما دیا، حدیث کے موضوع ہونے کے لئے یہی داخلی شہادت کافی ہے۔ روایت کے موضوع ہونے پر دوسری شہادت : مذکورہ آیت کی تفسیر میں صحیحین میں حضرت ابن عباس ؓ ہی سے روایت مروی ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ سے کسی نے آیت مؤدت کا مطلب دریافت کیا، حضرت سعید بن جبیر موجود تھے، بول پڑے کہ آنحضرت ﷺ کے قرابتداروں سے محبت مراد ہے، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا، اے سعید تم نے بولنے میں جلدی کی اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ قریش کا کوئی ضمنی قبیلہ ایسا نہیں تھا کہ جس سے آنحضرت ﷺ کی قرابت کا رشتہ نہ ہو، تو آپ نے فرمایا کہ میں تم سے تعلیم و تبلیغ پر کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا، لیکن اتنا چاہتا ہوں کہ آپس کی قرابتداری کا لحاظ رکھو اور مجھے ایذاء نہ پہنچاؤ۔ آیت مودۃ کا صحیح مطلب : جمہور سے آیت کی جو تفسیر منقول ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تم اس کا اعتراف کرو اور اپنی صلاح و فلاح کے لئے میری اطاعت کرو، اگر تم میری رسالت ونبوت کو تسلیم نہیں کرتے تو نہ سہی مگر تم پر میرا ایک انسانی اور خاندانی حق بھی ہے جس کا تم انکار نہیں کرسکے کہ تمہارے اکثر خاندانوں اور قبائل میں میری قرابتداری ہے، تو میں تمہاری اس خدمت کا جو میں تمہاری تعلیم و تبلیغ اور اصلاح اعمال واحوال کے لئے کرتا ہوں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا، صرف اتنا چاہتا ہوں کہ رشتہ داری کے حقوق کا خیال کرو، بات کا ماننا نہ ماننا تمہارے اختیار میں ہے، مگر کم از کم عداوت و دشمنی سے تو نسبت اور قرابت کا تعلق مانع ہونا چاہیے۔ دعوائے رسالت پر کفار کا اعتراض : جب آنحضرت ﷺ نے دعوائے نبوت پیش کیا، اور دعوت و تبلیغ کا کام شروع کیا تو کفار نے کہنا شروع کردیا کہ یہ اپنی خاندانی سیادت و قیادت قائم کرنے کے لئے ایک ڈھونگ ہے، محمد ﷺ اس طریقہ سے پورے عرب پر اپنی خاندانی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں، اگر بقول شیعہ حضرت آیت مودت کی اس تفسیر کو درست مان لیا جائے کہ اجر رسالت کے طور پر آپ ﷺ کے اہل بیت کی محبت واجب ہے اور محبت کا مطلب ہے ان کی قیادت و خلافت کا تسلیم کرنا تو پھر مشرکین مکہ کی اس بات کا درست ہونا لازم آتا ہے جو وہ کہا کرتے تھے کہ محمد ﷺ کا مقصد دعوائے نبوت سے خاندانی قیادت وسیادت قائم کرنا ہے۔ اور اگر بالفرض مودت سے قرابتداروں کی محبت اس طرح کی محبت اجر رسالت کے طور پر مراد لی جائے جیسی کہ شیعہ حضرات مراد لیتے ہیں، تو آیت مودت دیگر بہت سی آیتوں کے منافی ٹھہرے گی، مثلاً فرمایا گیا (1) مَا اَسئَلُکُمْ مِنْ اجرٍ فھو لکم ان اجری اِلاّ علی اللہ میں جو کچھ تم سے معاوضہ طلب کروں وہ تم ہی کو مبارک ہو، میری اجرت تو اللہ پر ہے (2) اَمْ تَسْئلُھم اجرًا فھم مِن مغرمٍ مثقلون کیا آپ ان سے مزدوری طلب کرتے ہیں کہ جس کے تاوان سے وہ دبے جاتے ہیں، ان کے علاوہ اور بہت سی آیتیں ہیں، جن میں آنحضرت ﷺ کو معاوضہ طلب کرنے سے منع کیا گیا ہے اور آپ سے اس کا اعلان بھی کرا دیا گیا، فرمایا گیا : قُلْ لاَ اَسئلُکُمْ علیہ اجرًا اِن ھو الاّ ذکریٰ للعالمین اے نبی کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس کی کچھ اجرت نہیں چاہتا یہ تو سارے جہان کے لئے نصیحت ہے، ادھر تو آپ تبلیغ رسالت پر کوئی معاوضہ نہ لینے کا اعلان فرما رہے ہیں، جیسا کہ دیگر انبیاء (علیہم السلام) نے بھی اعلان فرمایا اور ادھر بقول شیعہ حضرات آیت مودت میں معاوضہ لینے کا مطالبہ فرما رہے ہیں اس میں کھلا تضاد ہے، حالانکہ اتباع انبیاء کی ایک بڑی وجہ، قرآن اس بات کو قرار دے رہا ہے کہ وہ مخلوق سے اجرت طلب نہیں کرتے، اِتّبِعُوا من لا یَسْئلکم اجرًا وھم مھتدون۔ ( سورة یٰس) اہل تشیع کے اختیار کردہ معنی عربیت کے لحاظ سے بھی غلط ہیں : آیت میں الا المودۃ فی القربیٰ فرمایا گیا ہے الا المودۃ للقربیٰ نہیں فرمایا گیا یا لذوی القربیٰ نہیں فرمایا گیا، اگر شیعہ حضرات کے اختیار کردہ معنی مراد ہوتے تو آیت کو اس طرح ہونا چاہیے تھا قل لا اَسْئلُکُم ْ علیہ اجرًا اِلا المودۃ لذوی القربیٰ جیسا کہ سورة انفال میں کہا گیا ہے واعلموا انما غنمتم من شییء فانَّ اللہ خمسہ وللرسول ولذی القربیٰ اور سورة روم میں فرمایا گیا ہے فاتِ ذَا القربیٰ حقَّہٗ اور سورة بقرۂبقرہ میں فرمایا گیا ہے وآتی المالَ علیٰ حبہ ذوی القربیٰ ۔ اہل بیت رسول ﷺ کی تعظیم و محبت : حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم و محبت کا تمام دنیا سے زائد ہونا جزء ایمان بلکہ مدار ایمان ہے اور اس کے لئے لازم ہے کہ جس کو جس قدر نسبت قریبہ آنحضرت ﷺ سے ہے اس کی تعظیم و محبت بھی اسی پیمانہ پر درجہ بدرجہ واجب اور لازم ہے، مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ ازواج مطہرات اور دیگر صحابہ کرام کہ جن کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ متعدد قسم کی قرابتی نسبتیں حاصل ہیں ان کو فراموش کردیا جائے۔ خلاصہ یہ کہ اگرچہ آنحضرت ﷺ نے اپنی خدمت کے صلہ میں قوم اور امت سے اپنی اولاد کی محبت و عظمت کے لئے شیعہ حضرات کے طریقہ پر کوئی درخواست نہیں کی، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اپنی جگہ آل رسول کی محبت و عظمت کوئی اہمیت نہیں رکھتی، ایسا خیال کوئی بدبخت گمراہ ہی کرسکتا ہے، خلاصہ یہ کہ اہل بیت وآل رسول ﷺ کی محبت کا مسئلہ امت میں کبھی زیر اختلاف نہیں رہا، بالا جماع درجہ بدرجہ ان کی عظمت واجب ہے اور لازم ہے، اختلافات وہاں پیدا ہوتے ہیں جہاں دوسروں کی عظمتوں پر حملہ کیا جاتا ہے۔ اَمْ یقولون افتریٰ علی اللہ (الآیۃ) مطلب یہ ہے کہ اگر اس الزام افتراء میں کوئی صداقت ہوتی تو ہم آپ کے دل پر مہر لگا دیتے جس سے وہ قرآن ہی محو ہوجاتا جس کے گھڑنے کا انتساب آپ کی طرف کیا جاتا ہے، مطلب یہ کہ ہم آپ کو سخت ترین سزا دیتے۔ وھو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہٖ (الآیۃ) توبہ کا مطلب ہے، معصیت پر ندامت کا اظہار اور آئندہ اس کو نہ کرنے کا عزم، محض زبان سے توبہ توبہ کرلینا اور اس کا گناہ اور معصیت کے کام کو نہ چھوڑنا، اور توبہ کا اظہار کئے جانا توبہ نہیں ہے، یہ تو استہزاء اور مذاق ہے، تاہم خالص اور سچی توبہ کو اللہ تعالیٰ یقیناً قبول فرماتا ہے۔ وَ یَسْتَجِیْبُ الذین آمنوا وعملوا الصّٰلحٰتِ (الآیۃ) اللہ تعالیٰ دعائیں سنتا ہے اور لوگوں کی آرزؤں اور تمناؤں کو پورا فرماتا ہے بشرطیکہ دعاء کے آداب و شرائط کا بھی پورا اہتمام کیا جائے، حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی دعاء سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی سواری مع کھانے پینے کے سامان کے صحراء بیابان میں گم ہوجائے اور وہ ناامید ہو کر کسی درخت کے نیچے لیٹ کر موت کا انتظار کرنے لگے، پھر اچانک اس کی سواری مع سازوسامان کے اس کے پاس آجائے، اور فرط مسرت میں اس کے منہ سے نکل جائے، اے اللہ تو میرا بندہ اور میں تیرا رب یعنی شدت فرط مسرت میں وہ غلطی کر جائے۔ (صحیح مسلم کتاب التوبہ) وَلَوْ بَسَطَ اللہُ الرزق لِعِبَادِہ (الآیۃ) یعنی اگر اللہ تعالیٰ ہر شخص کو حاجت اور ضرورت سے زیادہ یکساں طور پر وسائل رزق عطا فرما دیتا تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ کوئی کسی کی ماتحتی قبول نہ کرتا، ہر شخص شروفساد اور بغی وعدوان میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرتا، جس سے پوری زمین میں فساد برپا ہوجاتا۔
Top