Mafhoom-ul-Quran - Ash-Shura : 20
مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ
مَنْ كَانَ : جو کوئی ہے يُرِيْدُ : ارادہ رکھتا۔ چاہتا ہے حَرْثَ الْاٰخِرَةِ : آخرت کی کھیتی کا نَزِدْ لَهٗ : ہم زیادہ کردیتے ہیں اس کے لیے فِيْ حَرْثِهٖ : اس کی کھیتی میں وَمَنْ : اور جو کوئی كَانَ : ہے يُرِيْدُ : ارادہ رکھتا حَرْثَ الدُّنْيَا : دنیا کی کھیتی کا نُؤْتِهٖ مِنْهَا : ہم دیتے ہیں اس کو اس میں سے وَمَا لَهٗ : اور نہیں اس کے لیے فِي : میں الْاٰخِرَةِ : آخرت (میں) مِنْ نَّصِيْبٍ : کوئی حصہ
جو شخص آخرت کی کھیتی کا طالب ہو اس کے لیے ہم اس کی کھیتی میں افزائش کریں گے۔ اور جو دنیا کی کھیتی کا خواست گار ہو اس کو ہم اس میں سے دیں گے اور اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہ ہوگا۔
اللہ کے قوانین اٹل ہیں تشریح : سب سے پہلے تو یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ یہ زندگی ہر انسان کے لیے ایک کھیتی کی طرح ہے۔ یعنی دنیا کے کام کرنا فرض ہے مگر ان کے ساتھ ساتھ اللہ کو یاد کرنا اور ہر دم اللہ سے دنیا وآخرت کی بھلائی مانگنا بھی فرض ہے۔ تو گویا ایک پنتھ دو کاج ہوگئے۔ یوں اللہ تعالیٰ دنیا کے کاموں میں بھی برکت اور بھلائی پیدا کرتا ہے اور آخرت میں بھی بھلائی اور برکت عطا کرتا ہے جو دنیا میں گم ہو کر اسے بھول جاتے ہیں ان کو معلوم ہونا چاہے کہ اس طرح وہ اپنا بہت بڑا نقصان کرلیتے ہیں۔ اللہ کا نظام کائنات ایسا عجیب و غریب ہے اور اس کی نظر اس قدر وسیع اور مضبوط ہے کہ وہ نہ صرف ظاہری اعمال کو ہی جانتا ہے بلکہ ہر شخص کی اصل نیت ارادے اور خیال سے بھی واقف ہے یہ بار بار دہرایا جا رہا ہے کیونکہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ اصل حقائق بھول جاتا ہے۔ اس بات کی وضاحت سائنسی نکتہ نظر اور احادیث کی روشنی میں کئی دفعہ کی جا چکی ہے کہ اللہ غیب کی باتوں کو خوب جانتا ہے کوئی بھی چیز اس کی نظر سے پوشیدہ نہیں۔ اچھے برے لوگوں کو اچھا برا بدلہ قیامت کے دن ضرور دیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ کا فضل و کرم بیشمار ہے اس لیے وہ نیکی کا بدلہ کئی گنا زیادہ دیتا ہے اور وہ بےحد بخشنے والا اور اچھائی کی قدر کرنے والا ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کی دعا قبول فرماتا ہے اور ان کو اپنے فضل سے بڑھاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے۔ (آیت : 26)
Top