Tafseer-e-Baghwi - Ash-Shura : 20
مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ
مَنْ كَانَ : جو کوئی ہے يُرِيْدُ : ارادہ رکھتا۔ چاہتا ہے حَرْثَ الْاٰخِرَةِ : آخرت کی کھیتی کا نَزِدْ لَهٗ : ہم زیادہ کردیتے ہیں اس کے لیے فِيْ حَرْثِهٖ : اس کی کھیتی میں وَمَنْ : اور جو کوئی كَانَ : ہے يُرِيْدُ : ارادہ رکھتا حَرْثَ الدُّنْيَا : دنیا کی کھیتی کا نُؤْتِهٖ مِنْهَا : ہم دیتے ہیں اس کو اس میں سے وَمَا لَهٗ : اور نہیں اس کے لیے فِي : میں الْاٰخِرَةِ : آخرت (میں) مِنْ نَّصِيْبٍ : کوئی حصہ
خدا اپنے بندوں پر مہربان ہے وہ جس کو چاہتا ہے رزق دیتا ہے اور وہ زور والا (اور) زبردست ہے
19، اللہ لطیف بعبادہ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ بڑا مہربان۔ عکرمہ نے کہا بندوں سے بھلائی کرنے والا۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ لطیف بمعنی نرمی کرنے والا ہے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ نیک وگناہ گار پر مہربانی کرنے والا ہے کہ ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان کو بھوک سے ہلاک نہیں کرتا ۔ اس پر قول باری تعالیٰ ، یرزق من یشائ، دالالت کرتا ہے اور مؤمن وکافر اور ہر ذی روح جس کو اللہ تعالیٰ رزق دیتے ہیں۔ پس وہ ان میں سے جس کو اللہ چاہے تو رزق دے۔ جعفربن محمد صادق (رح) فرماتے ہیں کہ رزق میں اللہ تعالیٰ کالطف دوطریقوں سے ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ تیرا رزق پاکیزہ چیزوں میں سے مقرر کیا اور دوسرایہ کہ یکبارگی تجھے نہیں دے دیا۔ ، وھو القوی العزیز،
Top