Tafseer-e-Mazhari - At-Tawba : 110
اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ۪ۙ
اِنْ هِىَ : نہیں اِلَّا : مگر حَيَاتُنَا : ہماری زندگی الدُّنْيَا : دنیا نَمُوْتُ : اور ہم مرتے ہیں وَنَحْيَا : اور ہم جیتے ہیں وَمَا : اور نہیں نَحْنُ : ہم بِمَبْعُوْثِيْنَ : پھر اٹھائے جانے والے
زندگی تو یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے کہ (اسی میں) ہم مرتے اور جیتے ہیں، اور ہم پھر نہیں اُٹھائے جائیں گے
ان ہی الا حیاتنا الدنیا یہ زندگی اور کچھ نہیں سوائے اس دنیوی زندگی کے۔ حیات دنیا یعنی وہ زندگی جس میں ہم ہیں اور اور جو ہمارے قریب ہے (دونوں کا معنی ہے قرب۔ دنیا مؤنث ادنیٰ کا ہے اور ادنیٰ اسم تفضیل ہے ونو مادہ ہے۔ مترجم) ۔ نموت ونحیا وما نحن بمبعوثین۔ ہم مرتے ہیں اور زندہ ہوتے (رہتے) ہیں اور ہم (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھائے نہیں جائیں گے۔ یعنی ہم میں سے کوئی مرتا ہے کوئی پیدا ہوتا ہے ‘ بغوی نے کہا دوبارہ زندگی کے وہ لوگ منکر تھے اس لئے نحیا کا یہ مطلب نہیں کہ ہم سب زندہ ہوں گے بلکہ کلام میں تقدیم تاخیر ہے یعنی ہم تم سب پیدا ہوتے ہیں پھر مرجاتے ہیں۔ یہ مطلب اس وقت ہوگا کہ نموت اور نحیا سے مراد ہوں سب آدمی (لیکن اگر بعض کا مرنا اور بعض کا پیدا ہونا مراد ہو تو اس تاویل کی ضرورت نہ ہوگی۔ مترجم) ۔ میں کہتا ہوں اگر سب ہی لوگ مراد ہوں تب بھی بغوی کی تاویل کی ضرورت نہیں کیونکہ واو فقط عطف اور جمیعت کو ظاہر کرتا ہے (ترتیب پر بقول احناف دلالت نہیں کرتا۔ پس مطلب یہ ہوگا کہ ہم سب مرتے جیتے رہتے ہیں ‘ یہ مطلب نہیں کہ ہم مرجائیں گے پھر دوبارہ زندہ ہوں گے۔
Top