Tafseer-e-Usmani - At-Tawba : 110
لَا یَزَالُ بُنْیَانُهُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّاۤ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠   ۧ
لَا يَزَالُ : ہمیشہ رہے گی بُنْيَانُھُمُ : ان کی عمارت الَّذِيْ : جو کہ بَنَوْا : بنیاد رکھی رِيْبَةً : شک فِيْ : میں قُلُوْبِهِمْ : ان کے دل اِلَّآ : مگر اَنْ تَقَطَّعَ : یہ کہ ٹکڑے ہوجائیں قُلُوْبُھُمْ : ان کے دل وَاللّٰهُ : اور اللہ عَلِيْمٌ : جاننے والا حَكِيْمٌ : حکمت والا
ہمیشہ رہے گا اس عمارت سے جو انہوں نے بنائی تھی شبہ ان کے دلوں میں مگر جب ٹکڑے ہوجائیں ان کے دل کے اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے5
5 " ریبہ " کا ترجمہ کیا ہے " شبہ " جس سے مراد نفاق ہے۔ یعنی اس عمل بد کا اثر یہ ہوا کہ ہمیشہ ان کے دلوں میں (جب تک موت انہیں پارہ پارہ نہ کر ڈالے) نفاق قائم رہے گا۔ جیسے اسی سورة میں پہلے گزر چکا۔ (فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِيْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى يَوْمِ يَلْقَوْنَهٗ بِمَآ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَبِمَا كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ ) 9 ۔ التوبہ :77) بعض مترجمین نے " ریبہ " کے معنی کیے ہیں " کھٹکنا " یعنی جو عمارت انہوں نے ناپاک مقاصد کے لیے بنائی تھی۔ مگر حق تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو مطلع کر کے ان کے تمام پلید مقاصد کا خاتمہ کردیا، اس کا خیال ہمیشہ ان کے دلوں میں کانٹا سا کھٹکتا رہے گا۔ والراجح عندالسلف ہو الاول کما حکی ابن کثیر۔
Top