Tafseer-e-Saadi - At-Taghaabun : 11
مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ
مَآ اَصَابَ : نہیں پہنچتی مِنْ مُّصِيْبَةٍ : کوئی مصیبت اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ : مگر اللہ کے اذن سے وَمَنْ يُّؤْمِنْۢ : اور جو کوئی ایمان لاتا ہے بِاللّٰهِ : اللہ پر يَهْدِ قَلْبَهٗ : وہ رہنمائی کرتا ہے اس کے دل کی وَاللّٰهُ : اور اللہ بِكُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز کو عَلِيْمٌ : جاننے والا ہے
کوئی مصیبت نازل نہیں ہوتی مگر خدا کے حکم سے۔ اور جو شخص خدا پر ایمان لاتا ہے وہ اسکے دل کو ہدایت دیتا ہے اور خدا ہر چیز سے باخبر ہے۔
اللہ تبارک وتعالی فرماتا ہے (مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِيْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ ) جو مصیبت بھی آتی ہے وہ اللہ ہی کے حکم سے آتی ہے یہ آیت کریمہ جان ومال اولاد اور احباب کے مصائب وغیرہ سب کو شامل ہے چناچہ بندوں پر نازل ہونے والے تمام مصائب اللہ کی قجا وقدر سے ہیں جس کا اللہ کو پہلے سے علم ہے اس پر اس کا قلم جاری ہوچکا، اس پر اس کی مشیت نافذ ہوچکی اور اس کی حکمت نے اس کا تقاضا کیا۔ مگر اصل معاملہ یہ ہے کہ آیا بندے نے اس ذمے داری کو پورا کیا جو اس مقام پر اس پر عائد تھی یا وہ اس کو پورا نہ کرسکا ؟ اگر اس نے اس ذمے داری کو پورا کیا تو اس کے لیے دنیا وآخرت میں ثواب جزیل اور اجر جمیل ہے پھر جب وہ اس حقیقت پر ایمان لے آیا کہ یہ مصیبت اللہ کی طرف سے ہے تب اس پر راضی ہوا اور اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کردیا تو اللہ کے قلب کو ہدیات سے بہرہ مند کردیتا ہے پس وہ مطمئن ہوجاتا ہے تب وہ مصائب کے وقت گھبراتا نہیں جیسا کہ اس شخص کو وتیرہ ہے جس کے قلب کو اللہ ہدایت عطا نہیں کرتا مگر مصائب کے وارد ہونے پر اللہ اسے ثابت قدمی اور موجبات صبر کو قائم کرنے کی توفیق سے نوزتا ہے اس سے اس کو دنیاوی ثواب حاصل ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ جزا اور سزا کے دن کے لیے ثواب کو ذخیرہ کردیا جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالینے فرمایا (انما یوفی الصابرون اجرھم بغیر حساب۔ الزمر 10) جو صبر کرنے والے ہیں انکو بےحد و حساب اجر عطا کیا جائے گا۔ اس سے یہ حقیقت معلوم ہوئی کہ جو کوئی مصائب کے وارد ہونے پر اللہ پر ایمان نہیں رکھتا اللہ تعالیٰ کی قضا وقدر کا لحاظ نہیں کرتا بلکہ محض اسباب کے ساتھ ٹھہر جاتا ہے تو اسے بےیارومددگار چھوڑ دیا جاتا ہے اور اللہ اسے اس کے نفس کے حوالے کردیتا ہے۔ جب بندہ نفس پر بھروسا کرتا ہے تو نفس کے پاس چیخ و پکار اور بےصبری کے سوا کچھ نہیں یہ فوری سزا ہے جو آخرت کی سزا سے پہلے بندے کو اس دنیا میں اس پاداش میں ملتی ہے کہ اس نے صبر میں کوتاہی کی جو اس پر واجب تھا، یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے متعلق ہے (وَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ يَهْدِ قَلْبَهٗ ۭ ) اور جو کوئی اللہ پر ایمان لائے تو مصائب کے خاص وقت میں بھی اللہ تعالیٰ اس کے دل کو ہدایت عطا کرتا ہے رہی وہ چیز جو عموم لفظی کی حیثیت سے اس سے تعلق رکھتی ہے تو اللہ نے آگاہ فرمایا کہ ہر وہ شخص جو ایمان لایا یعنی ایسا ایمان جو مامور بہ ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ اس کے فرشتوں اس کی کتابوں اس کے رسولوں یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لانا۔ پھر ایمان جن لوازم اور واجبات کا تقاضا کرتا ہے اس کے ایمان نے ان کی تصدیق کی بلاشبہ یہی سبب جس کو بندے نے اختیار کیا اس کے اقوال وافعال اس کے تمام احوال اور اس کے علم وعمل میں اللہ کیط رف سے اس کے لیے ہدایت کا سب سے بڑا سبب ہے یہ بہترین جزا ہے جو اللہ اہل ایمان کو عطا کرتا ہے جیسا کہ اللہ نے خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ اہل ایمان کو دنیا اور آخرت کی زندگی میں ثابت قدمی سے بہرہ مند کرتا ہے۔ اصل ثابت قدمی دل کی ثابت قدمی، اس کا صبر اور ہر قسم کے فتنے کے وارد ہونے کے وقت اس کا یقین ہے چناچہ فرمایا (یثبت اللہ الذین۔۔۔ تا۔۔۔ الاخرۃ۔ ابراہیم۔ 27) اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے مضبوط بات کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی زندگی میں ثابت قدمی عطا کرتا ہے پس اہل ایمان کے دل لوگوں میں سب سے زیادہ راہ ہدایت پر ہوتے ہیں اور وہ گھبراہٹ اور خوف کے موقعوں پر سب سے زیادہ ثابت قدم ہوتے ہیں اور اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے ساتھ ایمان ہے۔
Top