Siraj-ul-Bayan - At-Taghaabun : 11
مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ
مَآ اَصَابَ : نہیں پہنچتی مِنْ مُّصِيْبَةٍ : کوئی مصیبت اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ : مگر اللہ کے اذن سے وَمَنْ يُّؤْمِنْۢ : اور جو کوئی ایمان لاتا ہے بِاللّٰهِ : اللہ پر يَهْدِ قَلْبَهٗ : وہ رہنمائی کرتا ہے اس کے دل کی وَاللّٰهُ : اور اللہ بِكُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز کو عَلِيْمٌ : جاننے والا ہے
بغیر خدا کے حکم کے کوئی مصیبت نہیں آتی ۔ اور جو اللہ پر ایمان لائے گا ۔ اللہ اس کے دل کو راہ (ف 1) دکھائے گا ۔ اور اللہ کو ہر شئے معلوم ہے
مرد مسلمان کا شیوہ 1: اسلام دلوں میں اس عقیدہ کی نشو ونما چاہتا ہے ۔ کہ مرد مسلمان مصائب اور مشکلات میں دماغی توازن کو نہ کھو بیٹھے ۔ پوری جمعیت کے ساتھ اپنے نصب العین کی تکمیل میں مصروف رہے ۔ اور یہ سمجھے ۔ کہ جس قدر تکلیفیں پہنچ رہی ہیں ۔ وہ سب اللہ کے فیصلہ اور علم کے مطابق ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ ان کی وجہ سے عزائم میں استحکام اور ارادوں میں مضبوطی پیدا ہوجائے ۔ نیز طمانیت قلب کا وہ درجہ حاصل ہوجائے ۔ جہاں دلوں میں تزلزل پیدا نہیں ہوتا ۔ یھد قلبہ سے غالبا ۔ یہی مقام تسکین مزہ ہے ۔ مسئلہ تقدیر کا یہ وہ ہمت آفرین پہلو ہے ۔ جس کی وجہ سے مسلمان زندگی کی دشوار گزار منزلوں میں بھی مایوس نہیں ہوتا ۔ اور برابر تگ ودو اور سعی میں مصروف رہتا ہے ۔ ایک پہلو وہ ہے ۔ جس کو ہمارے جین اور ہماری بزدلی نے پیدا کیا ہے ۔ اور جو درحقیقت دور تنزل کا طبعی اقتضا ہے ۔ اور وہ یہ کہ جو کچھ ہوتا ہے ۔ وہ خدا کے علم اور فیصلہ کے مطابق ہوتا ہے ۔ اس لئے سرے سے عزم اور محنت کی ضرورت ہی نہیں ۔ یہ فلسفہ تقدیر وہ ہے ۔ جس کو ہماری غلامانہ ذہنیت کے ایجاد کیا ہے ۔ ورنہ یہ کھلی حقیقت ہے ۔ کہ جب زندگی میں مصائب اور مشکلات کا ہونا ناگریز ہے ۔ تو پھر گھبرانے اور مخبوط الحواس ہوجانے کے معنے ۔ اسلام کہتا ہے ۔ تم بہرحال اپنے فرائض ادا کرو ۔ اور اس سے قطعاً سروکار نہ رکھو کہ قوانین فطرت کا کیا تقاضا ہے ۔ ایک وہ شخص جس نے طے کرلیا ہے ۔ کہ وہ بہرنہج اللہ کی فرمانبرداری کرے گا ۔ اور پیغمبر علیہ الصلوٰۃ السلام کو اپنا راہنما قرار دے گا ۔ اور جب جھکے گا ۔ ایک خدا کے سامنے آپ جانتے ہیں ۔ اس اقرار اور اس عقیدے کے ساتھ یہ شخص کفر و انکار کے سمندر میں کتنی طغیانی پیدا کردیتا ہے ؟ اور اپنی مخالف قوتوں کو کتنا متحرک بنادیتا ہے ؟ اس کے صاف اور واضح معنی ہیں کہ وہ ساری طاغوتی قوتوں سے لڑنے کے لئے آمادہ ہے ۔ اس صورت حالات سے ظاہر ہے ۔ کہ سوائے توکل اور صبر کے کوئی چیزگزند اور نقصان سے نہیں بچا سکتی ۔ اسی لئے ارشاد فرمایا ۔ وعلی اللہ فلیتوکل المومنون ۔ حل لغات :۔ یوم التغابن ۔ خسارے کا دن بمعنے روز قیامت ۔
Top