Ahkam-ul-Quran - Saad : 32
فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ
فَقَالَ : تو اس نے کہا اِنِّىْٓ : بیشک میں اَحْبَبْتُ : میں نے دوست رکھا حُبَّ الْخَيْرِ : مال کی محبت عَنْ : سے ذِكْرِ رَبِّيْ ۚ : اپنے رب کی یاد حَتّٰى : یہاں تک کہ تَوَارَتْ : چھپ گیا بِالْحِجَابِ : پردہ میں
تو کہنے لگے کہ میں نے اپنے پروردگار کی یاد سے (غافل ہو کر) مال کی محبت اختیار کی یہاں تک کہ (آفتاب) پردے میں چھپ گیا
یہاں خیر مال کو کہا گیا ہے قول باری ہے (انی احببت حب الخیر عن ذکر ربی ۔ میں اس مال کی محبت میں اپنے پروردگار کی ید سے غافل ہوگیا) اس کی تفسیر میں دو احتمال ہیں ایک تو یہ کہ خیر سے مال مرادہو یعنی میں اس مال کی محبت میں جوان گھوڑوں کے ذریعے حاصل ہوتا ہے اپنے پروردگار کی یاد سے غافل ہوگیا ، اس سے وہ نماز مراد ہے جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس وقت ادا کیا کرتے تھے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ خیر سے خود گھوڑے مراد ہوں، گھوڑوں کو خیر کے نام سے اس لئے موسوم کیا گیا کہ ان کے ذریعے اللہ کے راستے میں جہادکرکے اور خدا کے دشمنوں سے قتال کرکے خیر یعنی نیکی حاصل ہوتی ہے۔ اس صورت میں قول باری (عن ذکرربی) کے معنی ہوں گے۔ ” ان گھوڑوں کا پالنا اور ان کی دیکھ بھال میرے رب کی یاد اور اس کے حق کی ادائیگی میں شامل ہے۔ “ قول باری ہے (حتی توارت بالحجاب یہاں تک کہ (آفتاب) پردے میں چھپ گیا) حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ آفتاب پردے میں چھپ گیا ۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے جس طرح بعید کا یہ شعر ہے : حتی اذا القت یدا فی کافر واجن عورات الثغور ظلامھا یہاں تک کہ جب سورج نے اپنا ہاتھ رات کے اندر ڈال دیا یعنی ڈوبنے لگا اور تاریکی نے خوف کے مقام پر پرد ا ڈال دیا ۔ یعنی جب سورج غروب ہوگیا اور رات آگئی۔ یا جس طرح حاتم کا شعر ہے :۔ اماوی ما یغنی الثراء عن الفتی اذا حشرجت یوماد صناق بھا الصدر اے ماریہ ! دولتمندی انسان کے کس کام آئے گی جب ایک دن جان کنی کے وقت گھنگرو بول اٹھے اور سینے میں جان تنگ ہوجائے۔ یہاں شاعر نے ’ حشرجت ‘ میں نفس یعنی جان کا الضمار کیا ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ کے سوا دوسرے حضرات نے کہا ہے کہ ” یہاں تک کہ ھگوڑے پردے میں چھپ گئے۔
Top