Kashf-ur-Rahman - Saad : 32
فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ
فَقَالَ : تو اس نے کہا اِنِّىْٓ : بیشک میں اَحْبَبْتُ : میں نے دوست رکھا حُبَّ الْخَيْرِ : مال کی محبت عَنْ : سے ذِكْرِ رَبِّيْ ۚ : اپنے رب کی یاد حَتّٰى : یہاں تک کہ تَوَارَتْ : چھپ گیا بِالْحِجَابِ : پردہ میں
تو سلیمان نے کہا میں اپنے رب کے ذکر سی اس مال کی محبت میں لگ کر غافل ہوگیا یہاں تک کہ سورج پردے میں چھپ گیا۔
(32) پس سلیمان نے کہا میں نے اس مال کو پسند کیا اور میں اپنے پروردگار کی یاد اور اس کی عبادت سے اس مال کی محبت میں لگ کر غافل ہوگیا یہاں تک کہ آفتاب پردے میں چھپ گیا۔ خیر فرمایا مال کو جیسا کہ عادیات میں فرمایا : فرانہ لحب الخیر لشدید حدیث میں آتا ہے الخیل معقود بنواسیھا الخیر الی یوم القیمۃ یعنی گھوڑوں کی پیشانی کے ساتھ قیامت تک کے لئے خیر وابستہ کردی گئی ہے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کسی علاقہ پر جہاد کرنے کی غرض سے گھوڑوں کی دیکھ بھال کررہے تھے لیکن ان گھوڑوں میں اس قدر مشغول ہوئے کہ ان کی مقررہ عبادت کا وقت فوت ہوگیا ہوسکتا ہے کہ یہ عصر کی نماز ہو۔ جیسا کہ بعض نے کہا ہے کہ ان کی ملت میں یا ان پر عصر کی نماز فرض تھی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ چونکہ وہ ایک فریضہ الٰہی یعنی جہاد کی ترتیب میں لگے ہوئے تھے اس لئے دوسرے فرض سے غافل ہوگئے اور یہ ایسی چیز ہے جو واقع ہوجاتی ہے۔ جیسا کہ نبی کریم ﷺ کی غزوہ خندق میں خندق کھودتے ہوئے کئی نمازیں قضا ہوگئیں لیکن کسی شغل خاص کی وجہ سے اگر ایسا بھی ہوجائے تب بھی بڑے حضرات خصوصاً انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو اس کا بڑا ملال ہوتا ہے۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ان لوگوں نے ہم کو ہماری نمازوں سے مشغول رکھا ملا اللہ قبورھم وبیتھم نارا۔ اللہ تعالیٰ ان کے گھروں کو اور قبروں کو آگ سے بھر دے اس لئے یہاں بھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے گھوڑوں کو واپس بلا کر قتل کر ڈالا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آفتاب کو واپس کیا اور فرشتوں سے کہا کہ آفتاب کو واپس لائو تاکہ میں نماز ادا کرلوں۔ بہرحال ! ان مختلف اقوال سے آگے کی آیت کا لوگوں نے مختلف ترجمہ کیا ہے چناچہ فرماتے ہیں۔
Top