Maarif-ul-Quran - Saad : 32
فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ
فَقَالَ : تو اس نے کہا اِنِّىْٓ : بیشک میں اَحْبَبْتُ : میں نے دوست رکھا حُبَّ الْخَيْرِ : مال کی محبت عَنْ : سے ذِكْرِ رَبِّيْ ۚ : اپنے رب کی یاد حَتّٰى : یہاں تک کہ تَوَارَتْ : چھپ گیا بِالْحِجَابِ : پردہ میں
تو بولا میں نے دوست رکھا مال کی محبت کو اپنے رب کی یاد سے یہاں تک کہ سورج چھپ گیا اوٹ میں
سورج کی واپسی کا قصہ
بعض حضرات نے پہلی تفسیر کو اختیار کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ نماز عصر کے قضا ہوجانے کے بعد حضرت سلیمان ؑ نے اللہ تعالیٰ سے یا فرشتوں سے یہ درخواست کی کہ سورج کو دوبارہ لوٹا دیا جائے، چناچہ سورج لوٹا دیا گیا، اور آپ نے اپنا معمول پورا کرلیا۔ اس کے بعد دوبارہ سورج غروب ہوا، یہ حضرات ردوھا کی ضمیر کو سورج کی طرف راجع مانتے ہیں۔
لیکن محقق مفسرین مثلاً علامہ آلوسی وغیرہ نے اس قصے کی تردید کی ہے۔ اور کہا ہے کہ ردوھا کی ضمیر گھوڑوں کی طرف راجع ہے نہ کہ سورج کی طرف۔ اس لئے نہیں کہ معاذ اللہ سورج کو دوبارہ لوٹا دینا اللہ تعالیٰ کی قدرت میں نہیں، بلکہ اس لئے کہ یہ قصہ قرآن و حدیث کی کسی دلیل سے ثابت نہیں ہے۔ (روح المعانی)
خدا کی یاد میں غفلت ہو تو اپنے اوپر سزا مقرر کرنا دینی غیرت کا تقاضا ہے
بہرکیف اس واقعہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر کسی وقت اللہ کی یاد سے غفلت ہوجائے تو نفس کو سزا دینے کے لئے اسے کسی فعل مباح سے محروم کردینا جائز ہے۔ اور حضرات صوفیائے کرام کی اصطلاح میں اسے ”غیرت“ کہا جاتا ہے۔ (بیان القرآن)
کسی نیکی کی عادت ڈالنے کے لئے اپنے نفس پر ایسی سزائیں مقرر کرنا اصلاح نفس کا ایک نسخہ ہے اور اس واقعہ سے اس کا جواز بلکہ استحباب معلوم ہوتا ہے۔ سرکار دو عالم ﷺ سے بھی مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوجہم نے ایک شامی چادر ہدیتاً پیش کی جس پر کچھ نقش و نگار بنے ہوئے تھے آپ نے اس چادر میں نماز پڑھی اور واپس آ کر حضرت عائشہ سے فرمایا کہ یہ چادر ابوجہم کو واپس کرو کیونکہ نماز میں میری نگاہ اس کے نقش ونگار پر پڑگئی تو قریب تھا کہ یہ نقش و نگار مجھے فتنہ میں ڈال دیں۔ (احکام القرآن بحوالہ موطاء ومالک)
اسی طرح حضرت ابوطلحہ ایک مرتبہ اپنے باغ میں نماز پڑھتے ہوئے ایک پرندے کو دیکھنے میں مشغول ہوگئے۔ جس سے نماز کی طرف دھیان نہ رہا تو بعد میں آپ نے پورا باغ صدقہ کردیا۔
لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اس مقصد کے لئے سزا ایسی ہی ہونی چاہئے جو بذات خود جائز ہو، کسی مال کو بلاوجہ ضائع کردینا جائز نہیں۔ لہٰذا ایسا کوئی کام درست نہیں جس سے اضاعت مال لازم آتی ہو صوفیاء میں سے حضرت شبلی ؒ نے ایک مرتبہ اسی سزا کے طور پر اپنے کپڑے جلا دیئے تھے، لیکن محقق صوفیاء مثلاً شیخ عبدالوہاب شعرانی ؒ نے ان کے اس عمل کو صحیح قرار نہیں دیا۔ (روح المعانی)
امیر کو بذات خود ریاست کے کاموں کی نگرانی کرنی چاہئے
اس واقعہ سے دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ مملکت کے ذمہ دار یا اونچے درجہ کے افسر کو چاہئے کہ وہ اپنے ماتحت شعبوں پر بذات خود نگرانی رکھے اور انہیں اپنے ماتحتوں پر چھوڑ کر فارغ نہ ہو بیٹھے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے ماتحتوں کی کثرت کے باوجود بہ نفس نفیس گھوڑوں کا معائنہ فرمایا۔ خلفائے راشدین اور خاص طور سے حضرت فاروق اعظم کے عمل سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔
ایک عبادت کے وقت دوسری عبادت میں مشغول ہونا غلطی ہے
تیسری بات اس واقعہ سے یہ ثابت ہوتی ہے کہ ایک موقت عبادت کے وقت کو کسی دوسری عبادت میں بھی صرف نہ کرنا چاہئے۔ ظاہر ہے کہ جہاد کے گھوڑوں کا معائنہ ایک عظیم عبادت تھی لیکن چونکہ وہ وقت اس عبادت کے بجائے نماز کا تھا، اس لئے حضرت سلیمان ؑ نے اس کو بھی غلطی میں شمار کر کے اس کا تدارک فرمایا۔ اسی لئے ہمارے فقہاء نے لکھا ہے کہ جمعہ کی اذان کے بعد جس طرح خریدو فروخت میں مشغولیت جائز نہیں، اسی طرح نماز جمعہ کی تیاری کے علاوہ کسی اور کام میں مشغول ہونا بھی درست نہیں، خواہ وہ تلاوت قرآن یا نفل پڑھنے کی عبادت ہی کیوں نہ ہو۔
Top