Tadabbur-e-Quran - Saad : 32
فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ
فَقَالَ : تو اس نے کہا اِنِّىْٓ : بیشک میں اَحْبَبْتُ : میں نے دوست رکھا حُبَّ الْخَيْرِ : مال کی محبت عَنْ : سے ذِكْرِ رَبِّيْ ۚ : اپنے رب کی یاد حَتّٰى : یہاں تک کہ تَوَارَتْ : چھپ گیا بِالْحِجَابِ : پردہ میں
تو اس نے کہا کہ یہ تو مال کی محبت میں لگ کر، میں اپنے رب کی یاد سے غافل ہوگیا یہاں تک کہ سورج پردے میں چھپ گیا۔
(آیت) حضرت سلیمان کی انابت کا ایک دوسرا اقعہ یہ حضرت سلیمان کی انابت کا دوسرا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ اس واقعہ کی شکل بھی تفسیر کی کتابوں میں چونکہ بہت بدنما بنا دی گئی ہے اس وجہ سے اس کو بھی پہلے سادہ الفاظ میں سمجھ لیجیے، اس کے بعد الفاظ قرآن پر غور فرمایئے۔ تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان ؑ کو یہ سخت امتحان پیش آیا کہ دشمنوں نے یورش کر کے ان کے بیشتر علاقے چھین لئے اور باقی علاقوں میں بھی ایسی گڑ بڑ پھلا دی کہ نظم حکومت عملاً بالکل درہم برہم ہو کر رہ گیا۔ ان کی تاخت سے صرف مرکز بچا جس میں حضرت سلیمان ؑ بالکل مجبور و محصور ہو کر رہ گئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان تھا لیکن حضرت سلیمان ؑ ایک خدا ترس بادشاہ تھا اس وجہ سے انہوں نے یہ گمان فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کسی غلطی کی سزا دی ہے۔ اس احساس نے ان کے غم کو دوبالا کردیا اور وہ اس غم اور بےبسی کی حالت میں اپنے تخت حکومت پر ایک جسد بےجان ہو کر رہ گئے۔ اس وقت انہوں نے نہایت تضرع کے ساتھ اپنے رب سے دعا کی کہ اے رب، میرے گناہ معاف کر اور اگرچہ میں تیرے فضل و انعام کا حق دار نہیں رہ گیا ہوں لیکن تو بڑا بخشنے والا ہے، اس وجہ سے میرے عدم استحقاق کے باوجود مجھے ایسی بادشاہی دے جس کے سزا وار اس طرح کے گناہ کے ساتھ دوسرے نہ ہوتے ہیں، نہ ہوں گے۔
Top