Ahkam-ul-Quran - Saad : 31
اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ
اِذْ : جب عُرِضَ : پیش کیے گئے عَلَيْهِ : اس پر۔ سامنے بِالْعَشِيِّ : شام کے وقت الصّٰفِنٰتُ : اصلی گھوڑے الْجِيَادُ : عمدہ
جب ان کے سامنے شام کو خاصے کے گھوڑے پیش کئے گئے
قول باری ہے (اذ عرض علیہ بالعشی الصافنات الجیاد۔ وہ واقعہ بھی قابل غور ہے۔ جب شام کے وقت ان کے روبرو واصیل عمدہ گھوڑے پیش کیے گئے) تا قول باری (فطفق مسد بالسوق والاعناق پھر انہوں نے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا) ۔ مجاہد کا قول ہے کہ گھوڑے کا تین ٹانگوں اور چوتھی کے کھر پر کھڑا ہونے کو صفون کہتے ہیں جس سے لفظ صافنات نکلا ہے۔ گھوڑوں کی یہ عام عادت ہوتی ہے ۔ جیاد تیز رفتار گھوڑوں کو کہتے ہیں جب گھوڑا ایڑ لگنے پر دوڑ پڑے تو کہا جاتا ہے ” ھذا فرس جواد “ یہ تیز رفتار گھوڑا ہے۔
Top