Tafseer-e-Usmani - Saad : 32
فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ
فَقَالَ : تو اس نے کہا اِنِّىْٓ : بیشک میں اَحْبَبْتُ : میں نے دوست رکھا حُبَّ الْخَيْرِ : مال کی محبت عَنْ : سے ذِكْرِ رَبِّيْ ۚ : اپنے رب کی یاد حَتّٰى : یہاں تک کہ تَوَارَتْ : چھپ گیا بِالْحِجَابِ : پردہ میں
آپ نے کہا کہ میں نے دوست رکھا مال کی محبت کو اپنے رب کی یاد سے یہاں تک کہ وہ چھپ گیا اوٹ کے پیچھے
46 { حَتّٰی تَوَارَتْ بالْحِجَابِ } کا مفہوم و مطلب ؟ : یعنی " سورج جو کہ ڈوب گیا "۔ یعنی " تو ارت " کی ضمیر فاعل کا مرجع سورج ہے۔ اور یہاں ماقبل میں اگرچہ اس مرجع کا ذکر موجود نہیں۔ لیکن سورج چونکہ ان مشہور چیزوں میں سے ہے جن کو ان کی شہرت کی بنا پر بغیر سبق ذکر کے یونہی مرجع قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس لئے یہاں اس کو مرجع بنانا درست ہے۔ اور یوں " العِشَیِّ " کے ذکر کے ضمن میں بھی اس کا ذکر آگیا ہے۔ (جامع البیان وغیرہ) ۔ بہرکیف یہ اس مقام کی مشہور تفسیر کے اعتبار سے ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جیسا کہ روایات میں وارد ہے کہ ایک مرتبہ حسب معمول حضرت سلیمان (علیہ السلام) گھوڑوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے اور ان کی پریڈ وغیرہ کے ضمن میں آپ (علیہ السلام) نے ان کی دوڑ لگوائی۔ تو اس کام میں آپ (علیہ السلام) اس قدر مشغول ہوگئے کہ آپ (علیہ السلام) کی عصر کی نماز رہ گئی۔ جیسا کہ عام مفسرین کرام کا کہنا ہے۔ جبکہ بعض حضرات کے نزدیک نماز نہیں بلکہ کوئی اور معمول جو کہ از قسم وظیفہ و ذکر تھا وہ رہ گیا کیونکہ گھوڑوں کی دوڑ میں مشغول ہو کر نماز سے غافل ہوجانا حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے شایان شان نہیں ہوسکتا۔ (بیان القرآن وغیرہ) ۔ اور اس کی تائید اس قول مشہور سے بھی ہوتی ہے جس کے مطابق یہود کے یہاں عصر کی نماز تھی ہی نہیں۔ مگر عام مفسرین کرام کا کہنا بہرحال یہی ہے کہ آنجناب (علیہ السلام) کی نماز عصر ہی رہ گئی تھی۔ تو آپ (علیہ السلام) نے ان تمام گھوڑوں کو واپس منگوایا اور اپنی تلوار سے ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا کہ یہی میری اس غفلت و کوتاہی کا باعث بنے۔ سو آنجناب نے ان کو ذبح کر کے ان کا گوشت فقراء میں تقسیم کرا دیا جو کہ اس زمانے میں جائز تھا۔ سو اس صورت میں لفظ مسح قتل و ذبح کے معنیٰ میں ہوگا۔ اور یہی اس مقام کی مشہور تفسیر ہے۔ (ابن جریر، ابن کثیر، قرطبی، صفوۃ اور معارف وغیرہ) ۔ جبکہ دوسرا قول اس مقام کی تفسیر میں یہ ہے کہ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان گھوڑوں کو دوڑانے کے بعد واپس لانے کا حکم دیا تو از راہ محبت و پیار آپ ﷺ ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرنے لگے کہ ان کی محبت بھی تو دراصل خدائے پاک ہی کی محبت کی وجہ سے ہے۔ چناچہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آپ ؓ نے فرمایا ۔ " جَعَلَ یَمْسَحُ اَعْرَافَ الْخَیْلِ وَ عَرَاقِیْبَہَا حُبًّا " ۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل وغیرہ) ۔ اور گھوڑوں کو یہاں پر " الخیر " کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ گھوڑے مال بلکہ ایک عمدہ مال ہے۔ اور مال کو قرآن پاک میں کئی مقامات پر " خیر " سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ اور پھر خاص کر گھوڑوں کے بارے میں تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ان کی پیشانیوں میں خیر اور بھلائی کو قیامت تک کے لئے پیوست کردیا گیا ہے ۔ " الخیل معقود بنواصیہا الخیرالیٰ یوم القیامۃ " ۔ ( بخاری، کتاب المناقب) ۔ اس صورت میں ۔ { عَنْ ذِکْرِ رَبِّیْ } ۔ سے مراد " عَنْ اَجْلِہ " ہوگا۔ اور " تو ارت " کی ضمیر مونث کا مرجع سورج کی بجائے وہ گھوڑے ہی ہوں گے۔ اور " مسح " سے مراد قتل و ذبح نہیں بلکہ اس سے اس کے معروف معنیٰ ہی مراد ہوں گے۔ یعنی " ہاتھ پھیرنا " اور " تھپکی دینا "۔ ابن جریر نے اسی قول و احتمال کو ترجیح دی اور رازی نے پہلے قول کو بوجوہ رد کرنے کے بعد اسی کو اختیار کیا ہے اور اس سے پہلے علامہ ابن حزم نے پہلے قول کو بڑی سختی سے رد کیا۔ اور اس قصے کو موضوع و من گھڑت اور خرافات کا پلندہ قرار دیا اور کہا کہ یہ قول بوجوہ مردود ہے۔ ایک تو اس لیے کہ اس میں گھوڑوں کو بلاوجہ سزا دی گئی اور انکا مثلہ کیا گیا اور دوسرے اس لیے کہ اس میں ایک قیمتی مال کو بلاوجہ ضائع کیا گیا۔ اور تیسرے اس لیے کہ اس میں ایک نبی مرسل کی طرف فرض نماز کو ضائع کرنے کی نسبت کی گئی اور پھر اس قصور کی سزا اپنے آپ کو دینے کی بجائے بےقصور گھوڑوں کو دی گئی۔ ان وجوہ کی بنا پر ابن حزم نے پہلے قول کو رد کرتے ہوئے دوسرے قول کو ترجیح دی۔ (ابن جریر، محاسن التاویل، الکبیر اور الخازن وغیرہ) ۔
Top