Tafseer-e-Baghwi - Saad : 32
فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ
فَقَالَ : تو اس نے کہا اِنِّىْٓ : بیشک میں اَحْبَبْتُ : میں نے دوست رکھا حُبَّ الْخَيْرِ : مال کی محبت عَنْ : سے ذِكْرِ رَبِّيْ ۚ : اپنے رب کی یاد حَتّٰى : یہاں تک کہ تَوَارَتْ : چھپ گیا بِالْحِجَابِ : پردہ میں
تو کہنے لگے کہ میں نے اپنے پروردگار کی یاد سے (غافل ہو کر) مال کی محبت اختیار کی یہاں تک کہ (آفتاب) پردے میں چھپ گیا
32، فقال انی احببت حب الخیر، کثیر مال مرادوہ گھوڑے جن کے معائنہ میں مشغول رہنے کی وجہ سے عصر کی نماز فوت ہوگئی تھی۔ عرب لوگ راء کی جگہ لام بول دیتے ہیں۔ جیسے ، اختلت، کی جگہ ، اخترت، کہہ دیتے تھے۔ خیل کو خیر اس وجہ سے کہتے ہیں کہ ان کی پیشانی میں خیرہوتی ہے۔ مقاتل کا بیان ہے کہ وہ مال یا گھوڑے ان پر پیش کیے گئے۔ ، عن ذکرربی ، نماز سے۔ اس سے مراد عصر کی نماز ہے۔ ، حتی توارت بالحجاب، جب سورج چھپ جائے اور آنکھوں سے اوجھل ہوجائیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ حجاب ایک پہاڑ ہے جو کوہ قاف سے پرے ایک سال کی مسافت پر ہے۔ سورج اس کی آڑ میں غروب ہوتا ہے۔
Top