Anwar-ul-Bayan - Saad : 32
فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ
فَقَالَ : تو اس نے کہا اِنِّىْٓ : بیشک میں اَحْبَبْتُ : میں نے دوست رکھا حُبَّ الْخَيْرِ : مال کی محبت عَنْ : سے ذِكْرِ رَبِّيْ ۚ : اپنے رب کی یاد حَتّٰى : یہاں تک کہ تَوَارَتْ : چھپ گیا بِالْحِجَابِ : پردہ میں
تو کہنے لگے کہ میں نے اپنے پروردگار کی یاد سے (غافل ہو کر) مال کی محبت اختیار کی یہاں تک کہ (آفتاب) پردے میں چھپ گیا
(38:32) انی احببت حب الخیر عن ذکر ربی : احببت ماضی واحد متکلم میں نے دوست رکھا۔ میں نے پسند کیا۔ بعض کے نزدیک یہاں احببت بمعنی اثرت میں نے ترجیح دی ہے۔ حب الخیر۔ مضاف مجاف الیہ۔ مال کی محبت۔ الخیر بمعنی مال۔ اور جگہ بھی قرآن مجید میں آیا ہے مثلا وانہ لحب الخیر لشدید (100:8) اور وہ (انسان مال کی محبت میں بڑا مضبوط ہے۔ عن حرف جر ہے اس کا استعمال مختلف معانی میں ہوتا ہے لیکن یہاں اس کتے وہ معانی تحریر کئے جاتے ہیں کو مختلف علماء کے نزدیک مختلف اقوال کا باعث بنے ہیں :۔ (1) عن کا استعمال تعلیل یا بیان سبب کے لئے۔ انی احببت حب الخیر عن ذکر ربی میں نے اس مال (گھوڑوں) کی محبت کو پسند کیا ہے اپنے رب کی یاد کے لئے۔ اس کی مثال قرآن مجید میں موجود ہیں :۔ مثلا ما کان استغفار ابراہیم لابیہ الا عن موعدۃ (9:114) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے رب کے حق میں دعاء مغفرت کرنا محض اس وعدہ کے سبب تھا جو انہوں نے اس سے کرلیا تھا۔ (2) عن کے مشہور معنی مجاوزۃ (تجاوز کرنا یا حد سے بڑھنا) کے ہیں جیسے قرآن مجید میں ہے فلیحذر الذین یخالفون عن امرہ (24:62) سو ڈرتے رہیں وہ لوگ جو اس کے حکم سے تجاوز کرتے ہیں اور دور رہتے ہیں۔ اس صورت میں اس جملہ کا ترجمہ ہوگا میں نے مال کی محبت کو ترجیح دی (اور) اپنے پروردگار کی یاد سے دور ہوگیا۔ یا غافل ہوگیا ۔ حتی تورات بالحجاب : تورات صیغہ واحد مؤنث غائب ماضی معروف وہ چھپ گیا۔ وہ چھپ گئی۔ اس کے متعلق دو قول ہیں :۔ (1) اس کا فاعل شمس ہے جو یہاں مضمر ہے اور شمس عربی میں مؤنث ہی استعمال ہوتا ہے ای تورات الشمس (کشاف ، مدارک) ۔ ای تورات فی التفسیر ان التی تورات بالحجاب ہی الشمس (قرطبی) یہاں تک کہ آفتاب (مغرب کے پردہ میں) چھپ گیا (مظہری) تفسیر ابن کثیر۔ بیضاوی۔ ماجدی۔ بیان القرآن وغیرہ میں فاعل شمس ہی کو لیا گیا ہے۔ (2) تورات کا فاعل الصفنت الجیاد ہے اور ترجمہ یوں ہے :۔ یہاں تک کہ (گھوڑے) پردہ کے پیچھے چھپ گئے (نظروں سے اوجھل ہوگئے) عبد اللہ یوسف علی۔ مولانا مودودی۔ پیر کرم شاہ بھیروی اس طرف گئے ہیں۔
Top