Urwatul-Wusqaa - Saad : 32
فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ
فَقَالَ : تو اس نے کہا اِنِّىْٓ : بیشک میں اَحْبَبْتُ : میں نے دوست رکھا حُبَّ الْخَيْرِ : مال کی محبت عَنْ : سے ذِكْرِ رَبِّيْ ۚ : اپنے رب کی یاد حَتّٰى : یہاں تک کہ تَوَارَتْ : چھپ گیا بِالْحِجَابِ : پردہ میں
پس وہ کہنے لگا میں نے (اس) مال کی محبت اپنے رب کے ذکر کی وجہ سے اختیار کی ہے یہاں تک کہ وہ (گھوڑے اس کی) نظر سے اوجھل ہو گئے
32۔ دوڑنے والے گھوڑے جب میدان میں لائے جاتے ہیں تو ان کو تیار کرنے کے لیے ادھر ادھر لے جانا پڑتا ہے اس طرح سے گھوڑ سوار ان کو پھراتے رہے اور آپ ان کو کافی دیر تک دیکھتے رہیے یہاں تک کہ ان کو ایک دم بھاگنے کے لیے گھوڑ دوڑ میں گھوڑ سواروں نے چھوڑ دیا اور جب تک آپ کی آنکھیں ان کو دیکھتی رہیں دیکھتی رہیں لیکن زیادہ دیر نہ گزری کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے غائب ہوگئے ایسے میں جو لوگ آپ کے ارد گرد دیکھنے کے لیے حاضر ہوئے تھے ان کو مخاطب کر کے آپ نے فرمایا کہ میں جو ان گھوڑوں کو پالنے اور ان سے دوڑ کروانے اور اسی طرح ان کی دوڑ دیکھنے کے لیے اپنے قیمتی اوقات خرچ کر رہا ہوں تو یہ محض یاد الہٰی کے لیے ہے نہ کہ کھیل اور تماشا کے لیے یہ باتیں آپ کر رہے تھے کہ وہ گھوڑے آنکھوں سے غائب ہوگئے یعنی اس طرح کی باتیں آپ کرتے رہے یہاں تک کہ گھوڑے اپنی منزل مقصود پر جا کر واپس آگئے۔
Top