Tafseer-e-Majidi - Saad : 32
فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ
فَقَالَ : تو اس نے کہا اِنِّىْٓ : بیشک میں اَحْبَبْتُ : میں نے دوست رکھا حُبَّ الْخَيْرِ : مال کی محبت عَنْ : سے ذِكْرِ رَبِّيْ ۚ : اپنے رب کی یاد حَتّٰى : یہاں تک کہ تَوَارَتْ : چھپ گیا بِالْحِجَابِ : پردہ میں
تو کہنے لگے میں اس مال کی محبت میں اپنے پروردگار کی یاد سے غافل ہوگیا یہاں تک کہ (آفتاب) پردہ میں چھپ گیا،33۔
33۔ (پھر جب آپ کو خود ہی تنبہ ہوا تو آپ اپنے اوپر نفریں وملامت کے لیے یہ کلمات زبان پر لانے لگے) کاملین اہل اللہ یوں ہی اپنی خفیف غفلتوں کے تدارک میں اہتمام عظیم کیا کرتے ہیں۔ (آیت) ” تو ارت “۔ تقدیر کلام یوں ہے، تو ارت الشمس (کشاف، مدارک) والاکثر فی التفسیر ان التی تو ارت بالحجا بھی الشمس (قرطبی)
Top