Madarik-ut-Tanzil - Saad : 40
فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ
فَقَالَ : تو اس نے کہا اِنِّىْٓ : بیشک میں اَحْبَبْتُ : میں نے دوست رکھا حُبَّ الْخَيْرِ : مال کی محبت عَنْ : سے ذِكْرِ رَبِّيْ ۚ : اپنے رب کی یاد حَتّٰى : یہاں تک کہ تَوَارَتْ : چھپ گیا بِالْحِجَابِ : پردہ میں
تو کہنے لگے کہ میں نے اپنے پروردگار کی یاد سے (غافل ہو کر) مال کی محبت اختیار کی یہاں تک کہ (آفتاب) پردے میں چھپ گیا
32: فَقَالَ اِنِّیْ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ( تو کہنے لگے کہ میں اس مال کی محبت میں اپنے رب کی یاد) ذِکْرِ رَبِّیْ (سے غافل ہوگیا) یعنی میں نے گھوڑوں کی محبت کو رب کی یاد پر ترجیح دی۔ یہ زجاج کا قول ہے۔ پس اَحْبَبْتُ کا معنی ٰاثرت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ فاستحبوا العمی علی الھدی ] فصلت : 17[۔ عن ؔ یہ علیٰ کے معنی میں ہے گھوڑے کو خیر فرمایا۔ گویا وہ مجسمہ خیر ہے کیونکہ خیر اس سے متعلق ہے۔ جیسا کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا۔ الخیل معقود بنواصیھا الخیرالی یوم القیامۃ۔ ] بخاری، 2849، المسلم 1871[ ابو علی کا قول ہے کہ احببت کا معنی جلست ہے یہ احباب البعیر اونٹ بٹھانا سے ماخوذ ہے۔ نحو : حب الخیر۔ یہ مفعول لہ ہے جس کی اضافت مفعول کی طرف ہے۔ حَتّٰی تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ (یہاں تک کہ سورج پردہ میں چھپ گیا) توارت سے سورج کا چھپنا مراد ہے۔ الحجاب سے پردہ میں چھپنا۔ توارت کی ضمیر کا مرجع سورج اس لئے ہے کہ پہلے عشی کا ذکرگزرا ہے۔ مضمر کیلئے پہلے ذکرضروری ہے یا ذکر کی دلیل ضروری ہے۔ نمبر 2۔ یا ضمیر صافنات کی طرف راجع ہے یعنی وہ رات کے پردے یعنی اندھیرے میں چھپ گیا۔
Top